اسلام آباد (ای پی آئی ) سابق چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے توشہ خانہ کیس میںنا اہلی کی سزا ختم کرنے اور لیول پلینگ فیلڈ کی عدم فراہمی پر سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں پر سماعت ،عدالت نے بینچ کی عدم دستابی کے باعث کیس کا فوری فیصلہ کرنے کی استدعا مسترد کر دی ۔
تفصیل کے مطابق سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواستوں پر سپریم کورٹ کے قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی
دوران سماعت پی ٹی آئی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اس کیس کی طرف دیکھ رہی ہے،30 دسمبر سے پہلے توشہ خانہ کیس میں ریلیف ملنے پر بانی پی ٹی آئی الیکشن لڑسکتے ہیں
جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نااہلی سے متعلق فیصلہ معطل ہونے سے سزا معطل نہیں ہوتی، ہمارے سامنے درخواست ہے کہ توشہ خانہ کیس کا فیصلہ معطل ہوا تو سزا بھی ختم ہو، فیصلہ معطل ہونے سے سزا ختم ہونے کی کوئی عدالتی نظیر پاکستان کی تاریخ میں نہیں ہے۔
جس پر وکیل پی ٹی کا کہنا تھا کہ مخدوم جاوید ہاشمی کے خلاف فیصلے کے ساتھ سزا بھی ختم کی گئی تھی، پوری قوم اس کیس کو دیکھ رہی ہے جس میں بانی پی ٹی آئی کو تین سال کے لیے نااہل کیا گیا، عدالت دیکھے کہ کیسے ہمایوں دلاور نے ایک ہی دن میں پانچ بار سماعت کر کے سزا سنائی۔
جسٹس اطہر من اللہ نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ میرٹس پر نہ جائیں کیس تین رکنی بینچ ہی سن سکتا ہے، اسلام آباد میں تین رکنی بینچ کیلئے ججز دستیاب نہیں، ہمارے پاس ابھی چھٹیوں میں تیسرا جج نہیں۔ ابھی ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل بھی ہو جائے تو فائدہ نہیں۔
بعد ازاں عدالت نے توشہ خانہ فیصلہ معطلی کی درخواست بینچ کی عدم دستیابی پر فوری سننےکی استدعا مسترد کردی گئی


