اسلام آباد (ای پی آئی )سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا
۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 22 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا ۔
عدالت کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین پارلیمنٹ کو پریکٹس اینڈ پروسیجرسےمتعلق قانون سازی کا مکمل اختیاردیتا ہے، آرٹیکل 184/3کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دینے کی قانونی شق پر 6 ججز نے اختلاف کیا 6 کے مقابلے میں 9 کی اکثریت سے قانون بننے کے بعد اپیل کا حق آئینی قرار دیا جاتا ہے، اپیل کا اطلاق ماضی کے کیسز پر دینے والی شق کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ پارلیمان کا ادارہ سپریم کورٹ کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار رکھتی ہے پریکٹس اینڈپروسیجر ایکٹ سے پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ کو نیچا نہیں دکھایا۔ پارلیمنٹ کے بنائے گئے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں کسی طور بھی آئینی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی ہر شق کا انتہائی احتیاط کے ساتھ جائزہ لیا ہے، ایکٹ کے ذریعے نہ پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ کو نیچا دکھایا اور نہ ہی عدلیہ کی خودمختاری متاثر ہوئی، بلکہ عدلیہ مضبوط اور زیادہ خودمختار ہوئی، اس ایکٹ سے انصاف تک رسائی میں آسانی آئی ہے۔
تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بنچ نے8 جون کو کہا کہ کیس جولائی میں سماعت کیلئے مقرر ہو گا، جولائی اور اگست دو ماہ تک کیس سماعت کیلئے مقرر ہی نہ ہو سکا، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف دائر کی گئی درخواستوں پر رجسٹرار آفس نے اعتراض لگایا،
سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی بنچ نے کیس سنا لیکن رجسٹرار آفس کے اعتراضات کا معاملہ زیر غور ہی نہیں لایا گیا، آئین پاکستان نے چیف جسٹس پاکستان کو فرد واحد کی حیثیت سے یہ حق نہیں دیا کہ وہ اکیلے فیصلہ کرے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت سپریم کورٹ کو سات اختیارات دیئے گئے ہیں، شفاف ٹرائل کے اصول کے تحت عدالتیں آئین و قانون کے تحت فیصلے کرنے کی پابند ہیں، ہر جج حلف کے تحت قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند ہے۔
تحریری فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ چیف جسٹس پاکستان اور دیگر ججز پر مشتمل ہے، آئین چیف جسٹس پاکستان کو یک طرفہ مقدمات کے فیصلے کرنے کا اختیار نہیں دیتا، چیف جسٹس پاکستان اپنی رائے دیگر ججز پر تھوپ نہیں سکتے ۔
جسٹس فائز عیسیٰ نے تحریر کیا کہ اپنی رائے دوسروں پر مسلط کرنا دراصل دوسروں کو اہمیت نہ دینے کے مترادف ہے، عدلیہ کی ساکھ متاثر ہونے سے ملک اور عوام کو ہمیشہ نقصان ہوتا ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ دیگر عدالتوں پر لاگو ہوتا ہے مگر خود سپریم کورٹ پر نہیں، سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کے فیصلے کو چھوٹے بنچز کے فیصلوں پر فوقیت دی جاتی ہے، آئینی روایات کو قانون کی طرز پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایکٹ سے کسی طرح کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہوتے، ایکٹ انصاف تک رسائی اور بنیادی حقوق یقینی بناتا ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں۔


