راولپنڈی (ای پی آئی ) پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے خلاف 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ،عدالت نے پولیس کی جانب سے 3ہ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ۔

تفصیل کے مطابق 9 مئی کو جی ایچ کیو حملہ کیس میں نامزد پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو ڈیوٹی مجسٹریٹ سید جہانگیر علی کے سامنے پیش کیا گیا ۔دوران سماعت پراسکیوشن کی جانب سے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کرتے ہوئے موقف اپنایا گیا کہ شاہ محمود قریشی نے نو مئی کو عوام کو احتجاج کے لئے اکسایا۔

جبکہ پی ٹی آئی رہنما کےوکیل نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کو ڈسچارج کیا جائے، جسمانی ریمانڈ کا کوئی جواز نہیں یہ جھوٹا انتقامی کیس ہے، جب چالان بھی پیش ہوگیا تو جسمانی ریمانڈ کیسے دیا جائے، پورے چالان میں شاہ محمود قریشی کا نام نہیں۔

دوران سماعت وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آپ قرآن پاک منگوا لیں میں حلف دیتا ہوں، 9 مئی کو میں راولپنڈی پنجاب میں نہیں، کراچی میں تھا، پیمرا سے ریکارڈ منگوا لیں میں کراچی میں موجود تھا، میری بیوی آغا خان اسپتال میں تھیں جس کے پاس میں موجود تھا، مجھے سپریم کورٹ کے تین ججز نے رہا کرنے کا حکم دیا، سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود مجھے 3 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں پانچ بار ممبر اسمبلی رہا، ایس ایچ او نے مجھے مکا مارا اور لات ماری، ایس ایچ او اشفاق نے مجھ پر تشدد کیا، مجھے سینے میں تکلیف ہوئی گھنٹوں تک ایس پی سے درخواست کی کہ اسپتال لے جاؤ، میں نے منتیں کیں مجھے سینے میں تکلیف ہے لیکن ڈاکٹر کے پاس نہ لے جایا گیا، ایک ڈاکٹر کو بلایا جس کے پاس محض بلڈ پریشر دیکھنے کی مشین تھی۔

شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میرے موکل کو کوئی پولیس والا کک نہیں مار سکتا نہ ہی تشدد کر سکتا ہے۔

وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا جو کہ بعد ازاں سناتے ہوئے عدالت نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا