اسلام آباد (ای پی آئی ) الیکشن 2024 کے سلسلے میں کاغذات کی سکروٹنی کے مرحلے کا اختتام ہو گیا

سابق چیئرمین پی ٹی آئی ، سربراہ بی این پی اختر مینگل کے پی ٹی آئی کے سابق وزراء کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے ۔

تفصیلات کے مطابق سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے 2 حلقوں 122 اور 89 سے کاغزات نامزدگی مسترد کئے گئے جبکہ سربراہ بی این پی اختر مینگل کے حلقہ این اے 264 سے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئےریٹرننگ آفیسر کے مطابق سردار اختر مینگل کے پاس یو اے ای کا اقامہ ہے جس کے باعث ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے ہیں۔

اسی طرح این اے 263 سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے سابق ڈپٹی سپیکرقومی اسمبلی اور رہنما پی ٹی آئی قاسم سوری کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کئے گئے ہیں قاسم سوری کے کاغذات نامزدگی قاسم سوری کے کاغذات پر اعتراض عائد کیا گیا تھا کہ نادہندہ اور اشتہاری ہیں۔

جبکہ سائفر کیس میں ضمانت کے باوجود جیل میں قید سابق وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے بیٹے زین قریشی ،اور بیٹی مہر بانو ں کے حلقہ این اے 151 سے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے آر او کی جانب سے دونوں امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مختلف کیسز اور عدم پیشی کے باعث مسترد کیے ۔

پی ٹی آئی کے امیدوار زلفی بخاری اور اعظم سواتی کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیئے گئے ہیں زلفی بخاری نے این اے 50 اٹک جبکہ اعظم سواتی نے این اے 15 مانسہرہ سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے

اسی طرح سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خیبرپختونخوا کے حلقہ این اے 19 اور پی کے 50 سے کاغزات نامزد گی مسترد کئے گئے جبکہ سابق صوبائی وزیر شہرام ترکئی کے حلقہ این اے 20 اور پی کے 52,53 سے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیئے گئے ۔

9 مئی کے واقعات کے مقدمات میں قید پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کئے گئے ہیں اس کے علاوہ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری اور ان کی اہلیہ حبا فواد کے حلقہ این اے 61 سے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئے گئے ۔

اسی طرح این اے 69، منڈی بہاوالدین سے چودھری پرویز الہیٰ، مونس الہیٰ، قیصرہ الہیٰ کے کاغذاتِ نامزدگی بھی مسترد کر دیئے گئے ۔

جبکہ ڈیرہ اسماعیل کے حلقہ این اے 44 اور 45 سے سے علی امین گنڈاپور کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے ہیں ۔

جبکہ لاہور کے حلقہ این اے 122 سے خرم لطیف کھوسہ کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد ہوئے ہیں۔

اسی طرح سیالکوٹ کے حلقہ این اے 71 سے عثمان ڈار کی والدہ ریحانہ ڈار اور ان کی بہو اور عمر ڈار کی اہلیہ اروبا ڈار کے بھی این اے 71 سے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے ہیں دونوں ساس بہو نے این اے 71 سے خواجہ آصف کے مقابلے میں کاغذات جمع کروائے تھے آر او کیجانب سےکاغذات میں سوشل سیکیورٹی کے واجبات کی عدم ادائیگی اور اثاثے ظاہر نہ کرنے پر مسترد کیے گئے۔

جبکہ پی کے 59 سے تحریک انصاف کے امیدوار اور خیبرپختونخوا کےسابق وزیر عاطف خان کے کاغذات نامزدگی کوبھی مسترد کردیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ بھکر میں سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے 2 حقیقی کزن سابق ایم پی اے عرفان اللہ خان نیازی اور رفیق احمد خان نیازی کے حلقہ پی پی 90 سے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیئے گئے ہیں جبکہ پی ٹی آئی رہنما ثناء اللہ مستی خیل کے این اے 91 سے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیئے گئے ہیں