اسلام آباد (ای پی آئی )سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کی لاپتا افراد، جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس کی سماعت ،عدالت نے سماعی کل ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دی ۔
تفصیل کے مطابق جبری گمشدگیوں کے خلاف اعتزاز احسن و دیگر کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ اس وقت حل ہو گا جب ہم سب مل کر اسے حل کریں گے، مسئلہ اس وقت حل ہوگا جب ہم سب اپنی اپنی ذمے داریاں نبھائیں گے،
دوران سماعت لاپتا افراد کیس کے درخواست گزار خوشدل خان ملک روسٹرم پر آگئے، انہوں نے استدعا کی کہ عدالت حکومت کو جبری گمشدہ افراد سے متعلق قانون سازی کا حکم دے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کون سا کمیشن بنا ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ جبری گمشدگیوں سے متعلق کمیشن بنا تو ہوا ہے، درخواست گزار نے جواب دیا کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں لاپتا افراد کمیشن بنایا گیا لیکن اس نے اب تک کچھ نہیں کیا، عدالت حکومت کو نوٹس کر کے پوچھے کہ 50 سال سےلاپتا افراد کے بارے قانون سازی کیوں نہیں کی؟
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ عدالت کیسے پارلیمنٹ کو حکم دے سکتی ہے کہ فلاں قانون سازی کرو؟ آئین کی کون سی شق عدالت کو اجازت دیتی ہے کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا حکم دے؟ ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہنا چاہیے۔ ہم پارلیمان کو یہ حکم نہیں کرسکتے کہ قانون سازی کریں،کل کو آپ ہی ہم پر تنقید کریں گے کہ پارلیمان کو حکم دیا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ عدالت قانون سازی کا اختیار نہیں رکھتی، صرف قانون کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ اس کے بعد اعتزاز احسن کے وکیل شعیب شاہین روسٹرم پر آگئے،
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ آپ تو اعتزاز احسن کے وکیل نہیں ہیں۔شعیب شاہین نے کہا کہ لطیف کھوسہ کا بیٹا گرفتار ہے تو مجھے وکالت نامہ دیا گیا ہے، ہماری درخواست پر اعتراضات عائد کیے گئے۔
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ اعتراضات کو خارج کر کے درخواستیں سن رہے ہیں کیونکہ یہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے، میری غیر موجودگی میں کچھ ہوا اور میں نے واپس آتے ہی یہ درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کی ہیں۔
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اعتزازاحسن نے درخواست میں کن تحفظات کا اظہار کیا؟ شعیب شاہین نے جواب دیا کہ لوگوں کی گمشدگی اور پھر ایک طرح سے نمودار ہونے کا نقطہ اُٹھایا گیا۔
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ یہ کمیشن کب کا ہے تب کس کی حکومت تھی، شعیب شاہین نے جواب دیا کہ 2011 میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے دوران کمیشن بنا۔اِس پر چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اعتزازاحسن کیا اپنی ہی حکومت کا نوٹیفکیشن معطل کرنا چاہتے ہیں؟ انگریزی کی مثال ہے کہ جب آپ تپش برداشت نہیں کر سکتے تو کچن میں کھڑے نہ ہوں۔
شعیب شاہین نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کمیشن کی اپنی رپورٹ کے مطابق ابھی تک 2200 لوگ لاپتا ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مطیع اللّٰہ جان بھی تو غائب ہوئے تھے ان کا ذکر کیوں نہیں کیا؟ مطیع اللّٰہ جان کس حکومت میں غائب ہوئے تھے؟وکیل شعیب شاہین نے عدالتی سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ مطیع اللّٰہ کے غائب ہونے کے وقت پی ٹی آئی کی حکومت تھی۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کیوں نہیں کھڑے ہوئے مطیع اللّٰہ جان اور اسد طور کے لیے؟ کسی کے بھی ساتھ زیادتی ہو تو اس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، ہمارے لیے ہر شہری محترم ہے وہ چاہے کسی بھی پارٹی سے ہو، میں بلوچستان ہائی کورٹ میں تھا تو ہر منگل کو لاپتہ افراد کے کیس سنتا تھا، اس وقت بلوچستان ہائی کورٹ نے بہت افراد کو بازیاب بھی کروایا، آمنہ جنجوعہ نے لاپتہ افراد سے متعلق بلاتفریق سب کے لیے آواز اٹھائی، آپ نے تفریق رکھی، آپ کے بعد آمنہ جنجوعہ کو سننا ہے۔
وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ کمیشن کی اپنی رپورٹ کے مطابق ابھی تک 2200 لوگ لاپتہ ہیں۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کتنے لوگ بازیاب ہوئے۔ اِس پر جسٹس میاں محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کتنے لوگ بازیاب ہوئے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اعتزازاحسن خود پیپلزپارٹی حکومت میں وزیر بھی رہے، شعیب شاہین نے جواب دیا کہ جب کمیشن بنا وہ شائد وزیر نہیں تھے۔
دوران دلائل شعیب شاہین نے شیخ رشید، صداقت عباسی اور دیگر کی گمشدگیوں کا معاملہ اُٹھا یا چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ کیا یہ سب لوگ خود ہمارے سامنے درخواست گزار بنے ہیں؟ کیا یہ سب وہ لوگ ہیں جو خود وسائل نہیں رکھتے کہ عدالت آسکیں؟ آپ اس معاملے کو سیاسی بنانا چاہتے ہیں تو یہ فورم نہیں ہے، جو شخص دھرنا کیس میں نظرثانی لا سکتا ہے کیا اپنا کیس نہیں لگا سکتا، کل اگر شیخ رشید کہہ دیں کہ انہیں کوئی مسئلہ نہیں، شعیب شاہین کون ہیں میرا نام لینے والا
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ شیریں مزاری کا لاپتا افراد سے متعلق بل اگر سینیٹ سے غائب کیاگیا تھا تو کیا شیریں مزاری نے استعفی دیا تھا، شیخ رشید خود کتنی بار وزیر رہ چکےکیا آپ شیخ رشید کو معصوم لوگوں کی کیٹگری میں رکھیں گےانہوں نے شعیب شاہین سے استفسار کیا کہ فرخ حبیب، عثمان ڈار، صداقت عباسی یہ لوگ کون ہیں؟ کیا اس بات پر رنجیدہ ہیں یہ پی ٹی آئی چھوڑ گئے؟ کیا ہم انہیں یہ کہیں کہ واپس پی ٹی آئی میں آجائیں؟
جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ تمام لاپتا افراد نے کیا واپس آکر بتایا کہ وہ اغوا ہوئے تھے؟ جن لوگوں کو اغوا یا لاپتا کیا گیا انہوں نے تو کبھی بیان نہیں دیا کہ فلاں نے ہمیں اغوا کیا بلکہ انہوں نے تو کہا کہ چلہ کاٹنے گئے تھے۔
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ یا تو کسی کو اعتزاز احسن کے سامنے اٹھایا گیا ہو تو وہ بات کرے، یا کوئی خود آکر کہے مجھے اغوا کیا گیا تھا تو ہم سنیں، آپ ان کی جگہ کیسے بات کرسکتے ہیں؟ شعیب شاہین کیا اپ ان کے گواہ ہیں
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے صرف ایک پارٹی کے لوگوں کا ذکر کیا یہ سب پارٹی چھوڑ گئے، اس کا ہمارے پاس کوئی حل نہیں، ہم اس معاملے کو بہت سنجیدہ لینا چاہتے ہیں، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہ کریں، لاپتا افراد کا کیس سنجیدہ نوعیت کا ہے، عدالت کا مذاق بنانے کی اجازت نہیں دیں گےپی ٹی آئی کے مبینہ گمشدہ افراد بااثر ہیں کچھ تو واپس آچکے ہیں۔
بعدازاں عدالت نے سماعت کل ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگی کیس ،اس مسئلے کو سیاسی نہ بنایا جائے،ہم سب کو ذمہ داری قبول کرنا ہو گی


