اسلام آباد (ای پی آئی ) سپریم کورٹ آف پاکستان میںتاحیات نا اہلی کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواستوں پر سماعت 4 جنوری تک ملتوی کر دی گئی،عدالت کی جانب سے 4 جنوری کو سماعت مکمل کرکے فیصلہ دینے کا عندیہ
تفصیل کے مطابق تاحیات نا اہلی کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل 7 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی ۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے سوال کیا کہ درخواست گزاروں میں سے کون کون تاحیات نااہلی کی حمایت کرتا ہے؟ جس پر درخواست گزار ثنا اللہ بلوچ، ایڈووکیٹ خرم رضا اور عثمان کریم نے تاحیات نااہلی کی حمایت کی میر بادشاہ قیصرانی کے خلاف درخواست گزار کے وکیل ثاقب جیلانی نے بھی تاحیات نااہلی کی مخالفت کر دی۔
وکیل ثاقب جیلانی نے کہا کہ میں نے میر بادشاہ قیصرانی کے خلاف 2018 میں درخواست دائر کی جب 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا فیصلہ آیا، اب الیکشن ایکٹ میں سیکشن 232 شامل ہو چکا اس لیے تاحیات نااہلی کی حد تک استدعا کی پیروی نہیں کر رہا۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں الیکشن ایکٹ میں دی گئی نااہلی کی مدت کی حمایت کرتا ہوں اور عدالت نظر ثانی کرے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی سزا پانچ سال کرنے کی قانون سازی کو سپورٹ کر رہے ہیں، نواز شریف تاحیات نااہلی فیصلے پر نظر ثانی ہونی چاہیے۔اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کی تشریح کے فیصلے کے دوبارہ جائزے کی استدعا کی،
چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل، آپ کا مؤقف کیا ہے کہ الیکشن ایکٹ چلنا چاہیے یا سپریم کورٹ کے فیصلے؟اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ عدالت سے درخواست ہے کہ تاحیات نااہلی کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لے، الیکشن ایکٹ کی تائید کروں گا کیونکہ یہ وفاق کا بنایا گیا قانون ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے پر ایڈوکیٹ جنرلز کا موقف بھی لے لیتے ہیں، آپ اٹارنی جنرل کے موقف کی حمایت کرینگے یا مخالفت؟ایڈوکیٹ جنرل نے بھی اٹارنی جنرل کی مؤقف کی تائید کی، صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز نے الیکشن ایکٹ میں ترامیم کی حمایت کی،
اٹارنی جنرل نے آئین کاارٹیکل 62،63 پڑھ کر سنایا۔اٹارنی جنرل نے رکن پارلیمنٹ بننے کے لیے اہلیت اور نااہلی کی تمام آئینی شرائط پڑھ کر سنائیں، انہوں نے کہا کہ کاغذات نامزدگی کے وقت سے 62 اور63 دونوں شرائط دیکھی جاتی ہیں، انٹری پوائنٹ پر دونوں ارٹیکل لاگو ہوتے ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کچھ شقیں تو حقائق سے متعلق ہیں وہ آسان ہیں، کچھ شقیں مشکل ہیں جیسے اچھے کردار والی شق، ۔ نااہلی کی مدت کا تعین آئین میں نہیں، اس خلا کو عدالتوں نے پر کیا۔ الیکشن ایکٹ کی یہ ترمیم چیلنج نہیں ہوئی، جب ایک ترمیم موجود ہے تو ہم اس کو مان لیتے ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آرٹیکل 62اور 63 میں فرق کیا ہے؟ آرٹیکل 62کی ذیلی شقیں مشکل پیداکرتی ہے جو کردار کی اہلیت سے متعلق ہے، کسی اور کے کردار کا تعین کیسے کیاجاسکتا ہے؟ اسلامی معیار کے مطابق تو کوئی بھی اعلی کردار کا مالک ٹھہرایا نہیں جا سکتا، الیکشن لڑنے کے لئے جو اہلیت بیان کی گئی ہے، اگر اس زمانے میں قائد اعظم ہوتے وہ بھی نااہل ہو جاتے، صادق اور امین کے الفاظ کوئی مسلمان اپنے لئے بولنے کا تصور نہیں کر سکتا، بڑے بڑے علمائے روز آخرت کے حساب سے ڈرتے رہے، اگر میں کاغذاتِ نامزدگی جمع کراتا ہوں اور کوئی کہتا ہے کہ یہ اچھے کردار کے نہیں تو میں تو چیلنج نہیں کروں گا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیونکہ جو کردار کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اسراف کرنے والا نہ ہو، ہم روز بجلی، پانی کا اسراف کرتے ہیں، اچھے کردار کے بارے میں وہ ججز فیصلہ کریں گے جو خود انسان ہیں؟ الیکشن لڑنے کے لیے جو اچھے کردار کی شرط رکھی گئی ہے کیا کوئی انسان حلفاً کہہ سکتا ہے کہ وہ اچھے کردار کا حامل ہے۔ایک مسلمان ’صادق‘ اور ’امین‘ کے لفظ آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کے لیے استعمال کر ہی نہیں سکتا، اگر میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے جاؤں اور کوئی اعتراض کرے کہ یہ اچھے کردار کا نہیں تو مان لوں گا، ہم گنہگار ہیں تبھی کوئی مرتا ہے تو اس کی مغفرت کی دعا کرتے ہیں، اگر یہ تمام شرائط پہلے ہوتی تو قائداعظم بھی نااہل ہو جاتے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ معمولی وجوہات کی بنیاد پر تاحیات نااہلی غیر مناسب نہیں لگتی؟ قتل اور غداری جیسے سنگین جرم میں کچھ عرصے بعد الیکشن لڑ سکتے ہیں، کیا سپریم کورٹ کے فیصلے کو ختم کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی، کیا آئین میں جو لکھا ہے اسے قانون سازی سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ سوال یہ ہےکہ کیا ذیلی آئینی قانون سازی سے آئین میں ردوبدل ممکن ہے؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن ایکٹ بھی تو لاگو ہوچکا اور اسکو چیلنج بھی نہیں کیا گیا۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب تک عدالتی فیصلے موجود ہیں تاحیات نااہلی کی ڈیکلریشن اپنی جگہ قائم ہے،
چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 62میں نااہلی کی مدت درج نہیں بلکہ یہ صرف عدالت نے دی، ہم تو گناہ گار ہیں اور اللہ تعالی سے معافی مانگتے ہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ عدالت کسی شخص کیخلاف ڈیکلریشن کیسے دے سکتی ہے؟ کوئی 20سال بعد سدھر کر عالم بن جائے تو کیا اسکا کردار اچھا ہوگا؟ اگر پہلے کسی نے ملک مخالف تقریر کردی تو وہ آج بھی انتخابات نہیں لڑ سکتا؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم میں ڈیکلریشن کا مقصد آر او کے فیصلے پر اپیل کا حق دینا ہے،
چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی شخص توبہ کرکے عالم یا حافظ بن جائے تو برے کردار پر تاحیات نااہل رہے گا؟ آرٹیکل 63ون جی کے تحت ملکی سالمیت اور نظریے کیخلاف ورزی پر نااہلی پانچ سال ہے، کیا کوئی شخص حلفیہ طور پر کہہ سکتا ہے کہ وہ اچھے کردار کا مالک ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ مسٹر مخدوم علی خان روسٹرم پر آ جائیں، مخدوم علی خان نے کہا کہ میں موجودہ کیس مین جہانگیز خان ترین کا وکیل ہوں
۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کو عدالتی معاون مقرر کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن آپ پہلے ہی ہمارے سامنے فریق ہیں، یہ بتائیں کہ آرٹیکل 62 میں یہ شقیں کب شامل کی گئیں؟وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ آرٹیکل 62 آئین پاکستان 1973 میں سادہ تھا، آرٹیکل 62 میں اضافی شقیں صدارتی آرڈر 1985 سے شامل ہوئیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ یعنی ضیاء نے یہ کردار سے متعلق شقیں شامل کرائیں، کیا ضیاالحق کا اپنا کردار اچھا تھا؟ ستم ظریفی ہے کہ آئین کے تحفظ کی قسم کھا کر آنے والے خود آئین توڑ دیں اور پھر یہ ترامیم کریں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ایک شخص کو سزامل گئی تو بات ختم کیوں نہیں ہوجاتی؟ ایسا کیسے ہوسکتاہے کہ سزا کاٹ لینے کے بعد بھی کبھی انتخابات نہ لڑ سکے، آئین میں ہر سزا کی مدت ہے تو نااہلی تاحیات کیسے ہوسکتی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ستم ظریفی کہ آئین کے تحفظ کی قسم کھانے والے پہلے خود آئین توڑیں، پھر یہ ترامیم کریں، کیاضیا الحق کا اپنا کردار اچھا تھا؟ کیا ججز کو گھر بھیجنے والا ،آئین شکنی کرنیوالا اچھے کردار کا ہوسکتا ہے؟
وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ جنرل ضیا کے بارے میں تو فیصلہ آخرت میں ہوگا، چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آئین شکن کو سزا آخرت میں ہوگی؟ کیا ضیا الحق کو سب معاف ہے؟
بعد ازاں سپریم کورٹ نے عدالتی معاونین مقرر کرتے ہوئے سماعت 4 جنوری تک ملتوی کر دی ،عدالت نے 4 جنوری کو ہی کیس کی سماعت مکمل کرنے اور فیصلہ دینے کا عندیہ بھی دیا ہے


