اسلام آباد (ای پی آئی ) پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن 2024 میں لیول پلیئنگ فیلڈ دینے کے حوالے سے درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت ،عدالت نے چیف سیکریٹری پنجاب، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور آئی جی پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عملدرآمد سے متعلق رپورٹ طلب کر لی،سماعت 8 جنوری تک ملتوی

تفصیل کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی نے سماعت کی ۔

دوران سماعت پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ اور شعیب شاہین عدالت میں پش ہوئے سردار لطیف کھوسہ روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ سرداری نظام ختم ہو چکا ہے، یہ سردار نواب عدالت میں نہیں چلے گا، آپ کی حکومت نے ہی سرداری نظام ختم کرنے کا قانون بنایا، اب تو آپ کے بیٹے بھی سردار ہو گئے ہیں۔اس پر لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ اسٹینو نے نام کے ساتھ لکھ دیا، آئندہ احتیاط کروں گا۔

بعد ازاں وکیل لطیف کھوسہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ لیول پلینگ فیلڈ الیکشن میں مقابلے کے لیے ضروری ہے۔ جس پرجسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے سپریم کورٹ کے حکم پر الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے یہ توہین عدالت کی درخواست ہے کوئی نیا کیس نہیں، مرکزی کیس 22 دسمبر کو نمٹایا جا چکا، آپ نے درخواست میں بہت سارے توہین عدالت کرنے والوں کے نام شامل کر لیے، الیکشن کمیشن نے کیا توہین عدالت کی؟ کیا الیکشن کمیشن نے آپ کے بارے کوئی فیصلہ دیا یا صوبائی الیکشن کمیشن کو احکامات دی ے

وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کوئی آرڈر نہیں دیا۔چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ ہمیں بتائیں آپ ہم سے چاہتے کیا ہیں، اب آپ تقریر نہ شروع کر دیجیے گا، آئینی اور قانونی بات بتائیں، ہر کوئی یہاں آکر سیاسی بیان شروع کر دیتا ہے، آئی جی اور چیف سیکریٹریز کا الیکشن کمیشن سے کیا تعلق ہےلطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمارے امیدواروں کی راہ میں رکاوٹ ڈالی گئی،

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ثبوت کیا ہیں؟ ہمیں کچھ دکھائیں۔جواب میں لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں نے ساری تفصیل درخواست میں لگائی ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ توہین عدالت کیس میں آپ صرف الیکشن کمیشن کو فریق بنا سکتے تھے، آئی جی اور چیف سیکریٹریز کو نوٹس بھیجا وہ کہیں گے ہمارا تعلق نہیں۔ آپ کاروائی چاہتے ہیں تو الگ درخواست دائر کریں،کسی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے ہیں تو اپیل دائر کریں۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں اپیل کرنے کے لیے آر او آرڈرز کی نقل تک نہیں مل رہی،

جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کہا کہ آپ کے کتنے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے؟ آپ نے لکھا سارا ڈیٹا سوشل میڈیا سے لیا۔

چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ جس کے بھی کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے وہ اپیل کرے گا بات ختم، اِس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ 3 دن تک آرڈر کی کاپی نہیں ملی، اپیل کہاں کریں؟جسٹس میاں محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ آپ نے لوگوں کے نام کی جگہ میجر فیملی لکھا ہوا، اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ میجر طاہر صادق کا ذکر ہے۔چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ چاہتے ہیں ہم الیکشن کمیشن کا کام کریں؟ آراو کے فیصلے کی کاپی نہیں ملتی تو کاپی کے بغیر ٹربیونل میں درخواست دیں، ہم کیسے دوسرے فریق کو سنیں بغیر آپ کی اپیل منظور کر لیں، ہم کیسے کہہ دیں کہ فلاں پارٹی کے کاغذات منظور کریں اور فلاں کے مسترد؟ آپ بتائیں ہم کیا آڈر پاس کریں۔انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ عدالتیں الیکشن کے لیے ہر سیاسی جماعت کے پیچھے کھڑیں ہیں، آپ ٹریبونل میں اپیلیں دائر کریں، اس کے بعد ہمارے پاس آئیں تو سن لیں گے۔

دریں اثنا عدالت نے الیکشن کمیشن حکام کو روسٹرم پر بلا کر استفسار کیا کہ ٹربیونل میں اپیل دائر کرنے کا وقت کب تک ہے؟ ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ آج آخری دن ہے۔اِس پر چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے لطیف کھوسہ سے مخاطب ہوتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کھوسہ صاحب ٹربیونل جائیں پھر یہاں کیا کر رہیں ہیں؟

لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ ہماری شکایت پر الیکشن کمیشن نے تمام صوبوں کے آئی جیز کو ہدایات دیں، سارے آئی جیز کا اس لیے اس کیس سے تعلق ہے۔چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کی شکایات کی کاپی کہاں ہے؟ لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ میں نے شکایات کی کاپی ساتھ نہیں لگائی،

چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ پھر الیکشن گزر جائیں گے تو کاپی لگا لیجیے گا۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہماری شکایت پر صرف صوبوں کو ایک خط لکھ دیا، کیا الیکشن کمیشن صرف ایک خط لکھ کر ذمہ داریوں سے مبرا ہو گیا؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ توہین عدالت کے اسکوپ تک رہیں، یہ بتائیں ہمارے 22 دسمبر کے حکمنامے پر کہاں عملدرآمد نہیں ہوا، الیکشن کمیشن نے تو 26 دسمبر کو عملدرآمد رپورٹ ہمیں بھیج دی۔ لطیف کھوسہ نے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی،

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم روز آپ کے لیے نہیں بیٹھ سکتے،آپ کو عملدرآمد رپورٹ مل گئی اس پر جواب دے دیں۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں زیادہ وقت آپ کا ضائع نہیں کروں گا، اِس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ وقت ضائع کریں ہم رات تک بیٹھے ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے 26 دسمبر کو آپ کے تحفظات دور کرنے کا آڈر جاری کیا، 26 دسمبر کے بعد کہاں کیا ہوا وہ بتائیں؟لطیف کھوسہ نے کہا کہ میڈیا میں سب کچھ آچکا ہے، دنیا نے سب کچھ دیکھا، اِس پر چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ میں تو میڈیا دیکھتا ہی نہیں۔ آپ نے آئی جی کے خلاف الیکشن کمیشن کو کارروائی کے لیے لکھا؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم نے نہیں، اُن کے اپنے صوبائی الیکشن کمیشن نے خط لکھا کہ عمل نہیں ہو رہا۔

جسٹس میاں محمد علی مظہر نے ڈی جی لا الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ آپ کا اپنا صوبائی الیکشن کمیشن لکھ رہا ہے، اس پر آپ کو ایکشن نہیں لینا چاہیے تھاعدالت نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن شفاف انتخابات یقینی بنائے۔

بعد ازاں چیف سیکریٹری پنجاب، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور آئی جی پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ طلب کر تے ہوئے کیس کی سماعت 8 جنوری تک ملتوی کردی