پشاور (ای پی آئی )پاکستان تحریک انصاف کے بلے کا نشان بحال کرنے بارے پشاور ہائیکورٹ کے سنگل بینچ کی طرف سے دئیے گئے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی طرف سے دائر کی گئی متفرق درخواست کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا گیا ہے۔ پشاور ہائیکورٹ کے دوسرے سنگل بینچ کے جج جسٹس محمد اعجاز خان کی جانب سے جاری کردہ فیصلہ 7 صفحات اور 7 پیراگراف پر مشتمل ہے۔
پیراگراف نمبر 1:
اپنے فیصلے میں عدالت نے لکھا ہے کہ اس حکمنامے کے ذریعے عدالت الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کا فیصلہ کرنے جا رہی ہے جس میں الیکشن کمیشن نے استدعا کی تھی کہ عدالت تحریک انصاف کی مین رٹ پٹیشن پر 26 دسمبر کو جاری کیا گیا عبوری ریلیف واپس لے ۔ اس عدالت نے الیکشن کمیشن کی طرف سے 22 دسمبر کو دیا گیا فیصلہ معطل کر دیا تھا اور ہدایت کی تھی کہ الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کا سرٹیفیکیٹ ویب سائیٹ پر شائع کرے اور پی ٹی آئی کا بلے کا نشان بحال کرے۔
پیراگراف نمبر2:
عدالت نے لکھا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اب یہ درخواست دائر کی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ 26 دسمبر کو تحریک انصاف کو جو عبوری ریلیف دیا گیا تھا وہ حکم واپس لیا جائے۔ عدالت نے لکھا ہے کہ یہ کیس 2 جنوری 2024 کو ابتدائی سماعت کے لئے مقرر کیا گیا اس دوران الیکشن کمیشن کے وکیل کو تفصیل کے ساتھ سنا گیا تاہم بعد میں رٹ پٹیشن دائر کرنے والے درخواست گزار (پی ٹی آئی) کی طرف سے درخواست کی گئی کہ ان کے فاضل وکیل آج دستیاب نہیں ہیں اس لیے کیس کی سماعت ملتوی کی جائے ۔ اس لئے کیس (آج) 3 جنوری 2024 کو سماعت کے لئے مقرر کیا گیا اور ان کے تفصیلی دلائل سنے گئے ۔
پیراگراف نمبر3:
عدالت نے لکھا ہے کہ دونوں فریقین کی طرف سے اس درخواست پر گرم جوشی سے دلائل دئیے گئے ہیں اس لئے اس کیس کا مختصر بیک گراؤنڈ بتانا ضروری ہے ۔ بیک گراؤنڈ اس طرح ہے کہ الیکشن کمیشن کے 23 نومبر 2023 کو جاری ہدایات کی روشنی میں پاکستان تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات کرائے اور اس کے فورا بعد متعلقہ دستاویزات الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کیں تاہم فوری طور پر پرائیویٹ فریقین نے متعدد درخواستیں دائر کر دیں جن میں انٹرا پارٹی انتخابات کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا اسی طرح الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فنانس ونگ نے پی ٹی آئی کی طرف سے جمع کرائی گئی دستاویزات پرمتعدد اعتراضات اٹھا دئیے ۔ پرائیویٹ پارٹیوں کی طرف سے دائر پٹیشنز اور اعتراضات پر الیکشن کمیشن نے 22 دسمبر 2023 کو مشترکہ حکمنامہ جاری کیا جس میں الیکشن کمیشن نے قرار دیا کہ پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن ایکٹ 2017 اور متعلقہ قوائد و ضوابط کے تحت انتخابات نہیں کرائے۔ الیکشن کمیشن نے یہ بھی قرار دیا کہ انٹرا پارٹی الیکشن تحریک انصاف کے اپنے آئین کے مطابق بھی نہیں کرائے گئے اور الیکشن کمیشن کی طرف سے 23 نومبر کو دئیے گئے حکم کی بھی خلاف ورزی ہیں جس کے نتیجے میں یہ قرار دیا گیا کہ تحریک انصاف انتخابی نشان حاصل کرنے کی اہل نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کا یہ حکمنامہ اس عدالت (پشاور ہائیکورٹ) میں رٹ پٹیشن کے ذریعے چیلنج کیا گیا اور عبوری ریلیف مانگا گیا۔ عبوری ریلیف کے حوالے سے عدالت نے حکمنامہ جاری کیا۔
پیراگراف نمبر 4
عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ موسم سرما کی چھٹیوں کے باعث اس عدالت کا ڈویژنل بینچ موجود نہیں تھا اس لئے عبوری ریلیف کے حوالے سے کیس ایک رکنی بینچ کے سامنے 26 دسمبر کو اسی روز سماعت کے لئے مقرر کیا گیا اور اسی روز پی ٹی آئی کو عبوری ریلیف فراہم کر دیا گیا۔ عدالت نے لکھا ہے کہ اب الیکشن کمیشن نے عبوری ریلیف کا حکم چیلنج کیا ہے اور عدالت سے اپنا حکم واپس لینے کی استدعا کی ہے۔
پیراگراف نمبر5
عدالت نے کہا ہے کہ دونوں فریقین کے وکلاء کے دلائل تفصیل سے سنے گئے ۔ الیکشن کمیشن کے وکیل کا سب سے زیادہ اس بات پر زور تھا کہ سویپنگ عبوری حکمنامہ جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا دوسرا عبوری ریلیف اس انداز میں دے دیا گیا جیسے حتمی ریلیف فراہم کیا جاتا ہے قانون ایسا ریلیف دینے کی اجازت نہیں دیتا۔ تیسرا یہ کہ اس عدالت کا عبوری حکم صرف صوبہ خیبر پختونخواہ تک محدود نہیں تھا بلکہ اسے پورے ملک میں قابل اطلاق بنا دیا گیا اس لئے ابتدائی سطح پر ایسا ریلیف دینے سے پہلے سے طے شدہ الیکشن شیڈول کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی ہو گئیں۔
اس کے مقابلے میں تحریک انصاف کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو انتخابی نشان دینے سے انکار کر کے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ہے انہوں نے مؤقف اپنایا کہ تحریک انصاف کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے کیونکہ الیکشن کمیشن نے کسی بھی دوسری پارٹی کو قانون کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن نہ کرانے پر نااہل قرار نہیں دیا ۔ انہوں نے مزید یہ مؤقف اپنایا کہ الیکشن کمیشن یہ درخواست ہی دائر نہیں کر سکتا جس میں یہ استدعا کی گئی ہو کہ عبوری ریلیف واپس لیا جائے آخر میں تحریک انصاف کے وکیل نے دلائل دئیے کہ ہائیکورٹ کے 26 دسمبر کے حکم کی وجہ سے الیکشن کمیشن کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی ۔ عدالت نے لکھا ہے کہ مقدمے میں فریق نمبر 12 نوید اختر ایڈووکیٹ نے بھی الیکشن کمیشن کے مؤقف کی تائید کی اور کہا کہ عبوری حکمنامے سے اس کے حقوق متاثر ہوئے ہیں۔
پیراگراف نمبر 6
عدالت نے لکھا ہے کہ اگرچہ تمام فریقین کے وکلاء نے دلائل کے دوران قانونی سوالات بھی اٹھائے تاہم یہ عدالت ان سوالات بارے اس سطح پر فیصلہ نہیں کر سکتی کیونکہ مین رٹ پٹیشن اس عدالت کے سامنے زیر التواء ہے جس کا فیصلہ مناسب وقت پر کیا جائے گا اس لئے یہ عدالت مزید تفصیلی فائنڈنگز ریکارڈ نہیں کر رہی کیونکہ ان سے کسی بھی فریق کا حق متاثر ہو سکتا ہے تاہم الیکشن کمیشن کی اس درخواست کے حوالے سے ابزور کیا جاتا ہے کہ 26 دسمبر کا حکم قابل واپسی ہے۔ اس حوالے سے عدالت نے وجوہات دیتے ہوئے لکھا ہے کہ
نمبر1: 26 دسمبر کا عبوری حکم ایکس پارٹی حکم تھا جسے جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا
نمبر2: وہ عبوری حکم نامہ بادی النظر میں تمام قانونی اور عملی مقاصد کے حوالے سے حتمی ریلیف دینے کے مترادف ہے
نمبر3: 26 نومبر کا حکمنامہ جاری کرتے ہوئے عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر ہونے کا پہلو بھی نظر انداز کیا گیا تھا
نمبر4: جیسا کہ الیکشن قوانین کے تحت انتخابات کے انعقاد کی مکمل مشق ، انتخابات کا انعقاد، انتخابات کے انعقاد کے لئے نوٹیفیکیشن کا اجراء، کامیاب امیدواروں کے ناموں کی آفیشل گزٹ میں اشاعت تک سارا عمل ایک مقررہ وقت کے اندر کیا جاتا ہے اس لئے ہائیکورٹ کا 26 دسمبر کا حکم بادی النظر میں الیکشن کمیشن کی طرف سے شروع کئے گئے انتخابی عمل کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بنا کیونکہ الیکشن کمیشن نے 8 فرورری کو انتخابات کے انعقاد کے لئے شیڈول نوٹیفائی کر رکھا ہے۔
پیراگراف نمبر7
عدالت نے قرار دیا ہے کہ اوپر دئیے گئے حالات کے پیش نظر پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے دائر رٹ پٹیشن پر جاری عبوری حکم واپس لیا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے آئینی مینڈیٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں اپنے انتخابی عمل کو آگے بڑھائے عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ صاف شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے۔ عدالت نے لکھا ہے کہ جہاں تک پی ٹی آئی کی رٹ پٹیشن میں اٹھائے گئے گریوینسسز (دکھوں) کا تعلق ہے وہ مین رٹ پٹیشن کی مقررہ تاریخ پر سماعت کے دوران دیکھے جائیں گے اور ان پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔


