1
فیض حمید نے دھرنا کمیشن کو جواب جمع کرا دیا، حکومت کیخلاف سازش کے الزامات کی تردید، سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے کمیشن کی طرف سے دیے گئے سوالوں کے جواب دیے۔2017 میں ہونے والے دھرنے میں اس وقت کی حکومت کی ہدایت پر تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ مذاکرات کیے تھے۔ فیض حمید کا جواب ، فیض آباد دھرنا کمیشن ڈاکٹر اختر علی شاہ کی سربراہی میں کام کر رہا ہے، کمیشن میں سابق آئی جی طاہر عالم اور خوشحال خان بھی موجود ہیں۔
2
نیب سزا یافتہ کیلئے 10 سالہ نااہلی کی مدت بحال،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اخترکیانی اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے نیب کی اپیل پر سماعت کی جس سلسلے میں سینئر اسپیشل پراسیکیوٹر نیب محمد رافع عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر جسٹس محسن اختر کیانی نے سوال کیا کہ 62 ون ایچ میں نااہلی کے حوالے سے کیا لکھا ہوا ہے؟ اس پر نیب پراسیکیوٹر نے نیب کے سزا یافتہ کی 10 سالہ نااہلی کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فائق علی جمالی کی سزا سپریم کورٹ تک برقرار رہی ہے اور نیب قانون کے مطابق نااہلی 10 سال رہے گی۔
3
کے الیکٹرک نے شہر میں لوڈشیڈنگ 10 گھنٹوں تک بڑھادی، شہریوں کا نیپرا سے لائسنس تجدید نہ کرنے کا مطالبہ،کے الیکٹرک کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں، گارڈن، گارڈن ویسٹ، اولڈ سٹی ایریا، ریلوے کالونی، سلطان آباد، لیاری، اللہ والا ٹاؤن اور دیگر علاقوں میں 10 سے 12 گھنٹے جب کہ کورنگی، لانڈھی اور اطراف کے علاقوں میں 6 سے 8 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔
4
این اے 15: نواز شریف کے کاغذات منظوری کیخلاف اعظم سواتی کی اپیل سماعت کیلئے منظور،پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے ایبٹ آباد سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 15 پر کاغذات نامزدگی کی منظوری کےخلاف اپیل دائر کی تھی جسے سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا ہے۔
5
توشہ خانہ کیس: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی،توشہ خانہ کیس اور 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اڈیالہ جیل میں کی۔آج سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی اور عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم کی کارروائی کیلئے 6 جنوری کی تاریخ مقرر کر دی۔
6
بلدیاتی نمائندوں کو ترقیاتی کاموں کے افتتاح سے روکا جائے، خالد مقبول کا الیکشن کمشنرکو خط، میئر اور ٹاؤن ناظمین انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، میئر اور ناظمین کی جانب سے یہ سب سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کےکہنے پر کیا جا رہا ہے، بلدیاتی نمائندوں کا یہ عمل انتخابات 2024 کے نتائج میں ہیرا پھیری کے مترادف ہے۔خط کا متن، میئر اور ٹاؤن ناظمین عوامی فنڈز کا استعمال اور ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کر رہے ہیں، عوامی پیسا اور وسائل کا استعمال ووٹرز کو متاثر کرنےکے لیےکیا جارہا ہے، یہ معاملہ انتخابی عمل کی ساکھ کو متاثر کر رہا ہے، تمام جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں مل رہی۔خالد مقبول صدیقی


