اسلام آباد (ای پی آئی ) گذشتہ روز سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹر دلاور خان کی جانب سے 8 فروری کو ہونے والے انتخابات ملتوی کرانے کی قراداد پیش کرنے پر سینیٹ میں موجودارکان نے کثرت رائے سے منظور کر لی

جس پر ایڈووکیٹ اشتیاق احمد مرزا کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور ارکان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے ۔

درخواستگزار نے اپنی درخواست میں مؤقف اپنایا ہے کہ سینیٹ میں انتخابات ملتوی کروانے کے لیے قرار داد پاس کی گئی،سینیٹ میں قرارداد پاس کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے،الیکشن وقت پر نہ ہونا آئین کی خلاف ورزی ہے،چیئرمین سینیٹ اور ارکان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کیا جائے۔

واضح رہے کہ جس وقت الیکشن کے التوا کی قرارداد پیش کی گئی اس وقت صرف 14 ارکان ہی سینیٹ میں موجود تھے ۔ جن میں سےمسلم لیگ (ن) کے سینیٹر افنان اللہ خان اور نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی،سینیٹر ہدایت اللہ نے قرارداد کی مخالفت کی

جبکہ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر بہرہ مندتنگی ،بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر منظور احمد ،بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کے سینیٹر پرنس عمر قرارداد کے حق میں خطاب کیا تھا