اسلام آباد (ای پی آئی ) پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں لیونگ پلینگ فیلڈ نہ دینے کی الیکشن کمیشن کے خلاف دائر درخواست پر الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب جمع کراتے ہوئے پی ٹی آئی کے الزامات کی تردید کردی ،جرمانہ عائد کرنے کی استدعا ۔

تفصیل لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے پر پی ٹی آئی کا الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت کیس میں الیکشن کمیشن نے ا پنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کروادیا ہے ،

الیکشن کمیشن کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں پی ٹی آئی کے لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم نہ کرنے کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے ۔الیکشن کمیشن نےکہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں سے ملاقات کی گئی اورتحریک انصاف کو بلاتفریق لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی۔

اس حوالے سے الیکشن کمیشن کی جانب سے چاروں صوبوں کے آئی جیز کو ہدایات بھی جاری کی گئیں،

الیکشن کمیشن نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ 26 دسمبر تک تحریک انصاف کی جانب سے ملک بھر میں 33 شکایات درج کروائی گئیں۔جن پر اقدامات اور ہدایات کی تفصیلات بھی فراہم کر دی گئیں ہیں،

الیکشن کمیشن نے اپنے جواب میں کہا کہ پی ٹی آئی کی شکایات پر آئی جی، چیف سیکریٹری اور آر اوز نے عملدرآمد رپورٹس بھی جمع کروائیں، لیول پلیئنگ فراہم نہ کرنے کے الزامات کو آر اوز کی رپورٹ کے تناظر میں مسترد کرتے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے مزید تفصیلات میں بتایا کہ پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی کے لیے 843 میں 598 کاغذات نامزدگی منظورکیے گئے جبکہ 245 کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے، صوبائی اسمبلیوں کے لیے پی ٹی آئی کے 1777 میں 1398 کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے اور 379 کاغذات مسترد کیے گئے، تحریک انصاف کے امیدواران کے 76.18 فیصد کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے۔

الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ عدالت پی ٹی آئی کی درخواست جرمانہ عائد کرتے ہوئے مسترد کرے۔