1
الیکشن 2024 کیلیے وزارت داخلہ میں کنٹرول روم قائم،8 فروری کو ہونے والے الیکشن کے لیے کنٹرول روم کے ذریعے انتخابی عمل کی سیکیورٹی کی صورتحال کی نگرانی کی جائےگی۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ڈپٹی سیکرٹری طاہر اکبر اعوان کنٹرول روم کے ممبر ہوں گے جب کہ سیکشن آفیسرمبشرحسن کو کوآرڈی نیشن آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔سیکرٹری داخلہ آفتاب درانی کی ہدایت پرکنٹرول روم کےقیام کانوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔
2
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ارشد شریف کی درخواست شہادت کے باعث غیر مؤثر قرار دے دی۔چیس کروڑ عوام نے انٹرویو کے الفاظ سنے تو پچیس کروڑ مقدمات درج ہوں گے، اس طرح ملک بھر میں مقدمات کا اندراج مذاق ہے، یہ اختیارات سے تجاوز ہے۔کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس،یہی کرنا تھا تو پہلے شخصی آزادی نہ دیتے، اسٹیٹ کو ایسے کام کرنے ہی نہیں چاہییں کہ لوگ اس پر ٹویٹ کریں یا بولیں، یہاں ادارے لوگوں کو اغوا کر رہے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں
3
ق لیگ نے ن لیگ کی وکٹ گرادی،مسلم لیگ ن کے رہنما راجہ محمد اسلم نے مسلم لیگ ق میں شمولیت اختیار کرلی۔ این اے 62 سے پینل مکمل ہوگیا ہے، راجہ محمد اسلم کو خوش آمدید کہتے ہیں۔چوہدری وجاہت حسین ،کہاپی پی 27 سے راجہ اسلم، پی پی 28 سے نعیم کوٹلہ کو ٹکٹ جاری کردیے گئے ہیں۔
4
انشورنس کمپنی خاتون کو منافع کے ساتھ رقم واپس کرے، صدر کا فیصلہ،انشورنس کمپنی خاتون کو1لاکھ روپےمنافع کیساتھ ادا کرے۔کمپنی نے 2020 سے خاتون کے1 لاکھ روپے رکھے ہوئے ہیں کمپنی نےخاتون کی رقم کی سرمایہ کاری کر کے کافی منافع بھی کمایا ہو گا خاتون کو اُسی کی رقم پر حاصل منافع کے حصے سے محروم کرنا ناانصافی ہوگی۔
5
الیکشن کمیشن نگراں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی کی سیاسی بیان بازی کا نوٹس لے۔پاکستان پیپلزپارٹی کا مطالبہ،پارٹی منشور سے تکلیف مخالفین کو ہو رہی ہے لیکن اس کا اظہار نگراں وزیر کر رہے ہیں۔مرتضیٰ سولنگی نگران وزیر اطلاعات ہیں یا کسی پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات ہیں؟ الیکشن کمیشن ان کی سیاسی بیان بازی کا نوٹس لے۔فیصل کریم کنڈی
6
8 فروری کو تیر پر مہر لگا کر بلاول کو موقع دیں کہ وہ آپ کے حقوق کیلیے لڑیں۔ میرے بھائی بلاول بھٹو نے ایک منشور دیا ہے جو عوام اور غریب دوست منشور ہے، بلاول واحد سیاستدان ہیں جو مہنگائی، بے روزگاری اورغربت سے لڑ رہے ہیں۔آصفہ بھٹو کا انتخابی ریلی سے خطاب ،کہا بلاول بھٹو زرداری کئی حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں، ان کی کامیابی کے بعد آصفہ بھٹو کی انتخابی سیاست میں انٹری کا فیصلہ ہوگا۔