1
جسٹس مظاہر علی نقوی کے بعد سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجازالاحسن بھی مستعفی ،سینئر ترین جج جسٹس اعجازالاحسن نے اپنا استعفیٰ صدر ڈاکٹر عارف علوی کو بھجوایا جو ایوان صدر کو موصول ہوگیا، جسٹس اعجازالاحسن نے سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی، سپریم کورٹ کے اگلے چیف جسٹس کیلئے جسٹس اعجازالاحسن کا نام سب سے اوپر تھا اور انہوں نے اکتوبر میں چیف جسٹس بننا تھا۔
2
تحریک انصاف نے سینیٹ اجلاس بلانے کیلئے ریکوزیشن جمع کرا دی۔ سینیٹ ریکوزیشن پر پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے سینیٹرز کے دستخط موجود ہیں۔ عام انتخابات کے بروقت انعقاد کو ریکوزیشن کا ایجنڈا بنایا گیا ہے۔
3
مسلم لیگ ن نے این اے 96 کی ٹکٹ کا فیصلہ کر دیا۔این اے 96: طلال چودھری آؤٹ، شیر وسیر کو مسلم لیگ ن کا ٹکٹ جاری کر دیا گیا۔لم لیگ ن نے پی ٹی آئی کے دس منحرف ارکان کو ٹکٹ جاری کئے ہیں۔
4
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ڈیفنس میں سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کی رہائش گاہ آمد ،چودھری محمد سرور سے ان کے بھائی چودھری محمد رمضان کے انتقال پر تعزیت ، بلاول بھٹو نے چودھری محمد سرور کے بھائی کے بلندی درجات کے لئے فاتحہ خوانی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔بلاول بھٹو نے چودھری محمد سرور سے این اے 127 میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حمایت پر شکریہ ادا کیا،
5
اسلام آباد سے 181 امیدوار انتخابات میں حصہ لیں گے، نظرثانی فہرستیں جاری۔اسلام آباد میں مجموعی طور پر 181 امیدوار انتخابات میں حصہ لے سکیں گے، این اے 46 سے 63 امیدواروں کے نام جاری کر دیئے گئے، این 47 سے بھی 63 امیدواروں کو کلین چٹ دے دی گئی۔این اے 48 کیلئے 55 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے۔
6
رانا ثناء اللہ کا انٹرا پارٹی الیکشن نہ کرانے کی سہولت تمام جماعتوں کو دینے کا مطالبہ، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن ایکٹ 2017ء عملاً ختم ہو گیا ہے، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد جماعتوں کے اندر الیکشن کرانے کی ضرورت نہیں رہی۔رانا ثناء اللہ، کہا فیصلہ 9 مئی کے مجرموں کی حوصلہ افزائی ہے، یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کو تالا لگانے کے مترادف ہے۔
7
انتخابات آتے ہی کراچی کو تباہ کرنے والی پارٹیوں کو شہر قائد کی یاد ستا رہی ہے۔ ایک سازش کے تحت کراچی کے عوام کو تباہ و برباد کیا گیا، کراچی کو تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات سے محروم کیا گیا، نوے کی دہائی میں کراچی یونیورسٹی سے 125 بسوں کا فلیٹ نکلتا تھا۔ پیپلزپارٹی اور ان کی اتحادی جماعتوں نے مل کر کراچی کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کا گلشن اقبال میں خواتین ورکرز کنونشن سے خطاب
8
بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے 5 سو 80 ارب روپے کے نقصانات ہیں، ڈسکوز کو کسی ادارے کے حوالے کیا جا رہا ہے نہ پرائیوٹائزیشن پلان واضح ہے۔ڈسکوز کو ریاست کے کسی بھی ادارے کے حوالے کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، ڈسکوز میں پرفارمنس مینجمنٹ یونٹس بنائے جائیں گے، ان یونٹس کے سربراہ حاضر سروس بریگیڈیئر ہوں گے۔وزارت توانائی


