1
قاسم سوری ملک میں آئینی بحران کی وجہ بنے، کیوں نا ان کیخلاف سنگین غداری کی کارروائی کی جائے,سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی نااہلی کے کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں قاسم سوری کی جانب سے نعیم بخاری نے دلائل دیے۔میری نظر میں تو قاسم سوری کی نااہلی اور ان کے حلقے میں دوبارہ انتخابات کا معاملہ اب غیر مؤثر ہوچکا،نعیم بخاری کے دلائل،قاسم سوری غیر قانونی طورپرعہدے پر براجمان رہے، انہوں نے اسٹے پر عہدہ انجوائے کیا، ان سے مراعات اور فوائد واپس ہونے چاہئیں۔لشکری رئیسانی کے وکیل، قاسم سوری نے تحریک عدم اعتماد پیش نہیں ہونے دی، ان کا اقدام سپریم کورٹ کے 5 ججز نے غلط قرار دیا، قاسم سوری ملک میں آئینی بحران کی وجہ بنے، ان پر کیوں نہ آئینی شکنی کی کارروائی کا حکم دیا جائے۔چیف جسٹس
2
ایران سے تعلقات میں بہتری، پاکستانی ائیر لائنز نے ایرانی فضائی حدود کا استعمال شروع کردیا۔ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران متعدد پاکستانی پروازوں نے ماضی کی طرح ایران کی فضائی حدود استعمال کی۔ پاکستان کی بیشتر پروازیں سرکاری ہدایات کی روشنی میں گلف آف عمان کا فضائی راستہ اختیار کررہی ہیں۔
3
ملک صاف شفاف اور آزادانہ انتخابات کی طرف گامزن ہے اور اب عام ا نتخابات ملتوی ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا ہے۔بلوچستان حکومت عام انتخابات کے پرامن انعقادکو یقینی بنانے کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کر رہی ہے، صوبے کے تمام پولنگ اسٹیشنز پر حفاظتی اقدامات کے پیش نظر پولنگ اسٹیشنوں کو تین کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بلوچستان کے نگران وزیر داخلہ زبیر جمالی کی میڈیا سے گفتگو
4
غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں اضافہ، ایک بار پھر اسپتالوں کا محاصرہ کرلیا۔اسرائیلی فوج نے غزہ میں اپنی وحشیانہ کارروائیاں تیز کرتے ہوئے خان یونس میں ناصر میڈیکل کمپلیکس اور ال امل اسپتال کا محاصرہ کرلیا جبکہ الخیر اسپتال کے طبی ارکان کو بھی یرغمال بنا لیا گیا ہے۔اسرائیلی جنگی طیاروں سے غزہ پٹی کے علاقے رفح سمیت خان یونس کے بے گھر فلسطینیوں کی پناہ گاہوں اور دیگر رہائشی علاقوں پر شدید بمباری سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 200 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔
5
طورخم سرحدی گزرگاہ 10 روز بعد دو طرفہ تجارت کیلئے کھول دی گئی۔ دو طرفہ تجارت کھلنے کے بعد افغانستان سے پہلی افغان کارگو گاڑی پاکستان میں داخل ہوگئی ہے۔ گزشتہ روز پشاور میں منعقد پاکستان اور افغانستان کےدرمیان سفارتی سطح پر مذاکرات میں طے پایا کہ افغان کارگو گاڑیوں کے ڈرائیورز 31 مارچ تک سفری دستاویزات بنائیں گے اور یکم اپریل سے سفری دستاویزات کے بغیر کارگو گاڑیوں کے پاکستان میں داخلے پر مکمل پابندی ہوگی۔کسٹم حکام
6
توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ کم کرنے کیلئے اربوں روپے جاری کرنے کا فیصلہ، توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ کم کرنے کیلئے 12 سو 50 ارب روپے جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔توانائی کے شعبے کا 12 سو 50 ارب روپے کا گردشی قرضہ سیٹل کرنے کا منصوبہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے بھی شیئرکیا جائے گا۔
7
ایف بی آر ری اسٹرکچرنگ، اعلیٰ قیادت کی شدید مزاحمت جاری،ایف بی آر کے افسران ان لینڈ ریونیو سروسز اور کسٹم گروپ دونوں سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ آج کابینہ اجلاس سے پہلے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے پیش ہوں گے جس میں وہ عبوری حکومت کی جانب سے اس معاملے پر سمری کی منظوری کی سخت مخالفت کرینگے۔
8
ہمارے بغیر وزیراعظم بناکردکھائیں، مصطفیٰ کمال کا بلاول کو چیلنج،بلاول اگر ایم کیو ایم کے بغیر وزیراعظم بنا سکتے ہیں تو بنا کر دکھا دیں۔ پی ٹی آئی اپنے اختتام کی طرف جا رہی ہے، باغ جناح کراچی جلسے میں عوام نے ہمیں مینڈیٹ دے دیا ہے۔مصطفی کمال کی جیونیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو
9
پی ٹی آئی والے الیکشن جیت کر ہمارے ساتھ ہونگے، علیم خان کا دعویٰ، پی ٹی آئی کے کئی امیدواروں نے آزاد حیثیت سے جیتنے کے بعد استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہونے کا و عدہ کیا ہے تاہم علیم خان نے ان امیدواروں کے نام بتانے سے گریز کیا۔بہت سے افراد ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں، کئی پرانے دوست ہیں ان سے تعلق رہا ہے۔صدر آئی پی پی
10
پنجاب: موسم سرما کی بارشیں نہ ہونے سے خشک سالی کا خطرہ،پنجاب صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے ) نے کہا ہےکہ موسم سرما کی بارشیں نہ ہونے سے خشک سالی کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور ملک بھر میں شدید خشک سردی ہے۔ دسمبر کے بعد جنوری بھی بغیر بارش اور برفباری کے گزرنے کے قریب ہے جس سے خشک سردی سے کئی خطرات لاحق ہیں۔پی ڈی ایم اے
11
مہنگائی نے سراٹھایا تو شرح سود مزید بڑھائیں گے، حکومت کی آئی ایم ایف کو یقین دہانی،حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ طے پہلی جائزہ رپورٹ میں مہنگائی کم کرنےکے عزم کو دہرایا ہے۔ پاکستانی حکام سمجھتے ہیں کہ طلب میں کمی اشیاء کی رسد کی بہتر صورتحال اور شرح تبادلہ سے دباؤ کم ہونے سے آئندہ چند مہینوں میں مہنگائی میں کمی کی توقعات ہیں، شرح سود 22 فیصد پر برقرار رکھنےکا فیصلہ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئےکیا گیا تھا۔