1
ایرانی وزیرِ خارجہ حسین امیر اللہیان کا کہنا ہے کہ پاک ایران سرحد پر”تیسراملک ” دہشت گردوں کوسہولت فراہم کررہاہے۔ پاک ، ایران مذاکرات کے دوران دہشتگردی کیخلاف اقدامات پر گفتگو ہوئی، بارڈر پر موجود تجارتی مراکز کو فعال کرنے پر بھی بات چیت ہوئی ۔ایرانی وزیرِ خارجہ حسین امیر اللہیان کی پاکستانی ہم منصب جلیل عباس جیلانی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس، کہا پاکستان کے ساتھ اہم برادرانہ تعمیری اور مضبوط تعلقات ہیں، پاکستان سے جغرافیائی تعلقات بھی اہمیت کےحامل ہیں ، پاکستان کی سکیورٹی ہمارے لیے مقدم ہے، ایران اور پاکستان کے عوام کو ایک ہی قوم سمجھتے ہیں، ایران اور پاکستان دہشت گردوں کو کسی قسم کا موقع نہیں دیں گے، دہشت گردوں نے ایران کو بہت نقصان پہنچایا ہے، مشترکہ بارڈر پر موجود دہشت گرد دونوں ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
2
آزاد امیدواروں کے پوسٹرز اور فلیکسز اتارنے کا اقدام چیلنج،لاہور کے صوبائی حلقہ پی پی 171 سے آزاد امید وار رانا سکندر ایڈووکیٹ نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، درخواست گزار نے حلقے میں انتظامیہ کی جانب سے اپنے پوسٹرز اور فلیکسز اتارنے کے اقدام کو چیلنج کیا ہے۔پی پی 171 سے آزاد امیدوار ہونے کی بنیاد پر پوسٹرز اور فلیکسز اتارے جا رہے ہیں، انتظامیہ کے اقدامات کی وجہ سے انتخابی مہم چلانے میں مشکلات کا سامنا ہے، پوسٹرز اور فلیکسز صرف آزاد امیدوار ہونے کی بنیاد پر اتارے جا رہے ہیں۔درخواست گزار کا مؤقف
3
بشریٰ اقبا ل نے اپنی تعلیمی کامیابی سابق شوہر مرحوم عامر لیاقت کے نام کردی۔ بشریٰ اقبال نے 2 سال قبل جامعہ کراچی سے قرآن و سنت میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے دو سال قبل جامعہ کراچی نے طالب علموں کے لیے کونووکیشن کا انعقاد نہیں کیا تھا اور شیخ الجامعہ نے اپنے آفس بلا کر ہی تمام طالب علموں کو اسناد دے دی تھیں۔
4
اردو کے ممتاز شاعر مظفر وارثی کو دنیا سے رخصت ہوئے 13 برس بیت گئے۔دنیائے سخن کا ایک معتبر نام ’مظفر وارثی‘ 23 دسمبر 1933ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام محمد مظفر الدین صدیقی تھا، انہوں نے قیام پاکستان کے بعد لاہور میں اقامت اختیار کی اور جلد ہی ان کا شمار ممتاز شعراء میں ہونے لگا۔

لازوال حمد اور نعتوں کی تخلیق نے آپ کو خوب شہرت بخشی، ’’یا رحمت اللعالمین، لانبی بعد، ورفعنالک ذکرک، تو کجا من کجا اور حمد میں کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے‘‘ آپ کے مشہور کلام ہیں۔
5
ایران کی اردن میں امریکی فوجی اڈے پر ڈرون حملے کے الزامات کی تردید، ایران نے امریکی اور برطانوی الزامات کی تردید کی ہے کہ اس نے اردن میں ڈرون حملے میں ملوث مزاحمت کار گروپوں کی حمایت کی ،اردن میں فوجی اڈے پر حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی کے حوالے سے کہا کہ "یہ دعوے مخصوص سیاسی اہداف کے ساتھ خطے کے حقائق کو پلٹنے کے لیے کیے گئے ہیں۔”ابھی تک اس حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔