کشمور( حاکم نصیرانی )نوکری کے جھانسے میں آکر اغواء ہونے والے 3 افراد ڈاکوؤں کے چنگل سے بھاگ نکلنے میں کامیاب . تینوں افراد سات مہینے ڈاکوؤں کے چنگل میں رہے۔

ڈاکو مختلف اوقات میں ٹھکانے تبدیل کرتے تھے۔ موقع ملا تو زندگی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے۔ کچے کے لوگوں نے تھانے تک پہنچنے میں مدد کی۔ مغویوں کی گفتگو۔

کہتے ہیں جب تک لالچی زندہ ہیں فراڈی بھوک نہیں مرتے۔ ایسا ہی کچھ سلسلہ کشمور میں بھی چل پڑا ہے۔ ملک کے دور دراز علاقوں سے لوگوں کو کبھی نوکری کبھی شادی تو کبھی سستی گاڑی کا جھانسہ دیکر بلایا جاتا ہے۔

سات ماہ قبل اسلام آباد سمیت پنجاب کے مختلف شہروں سے نوکری کی جھانسے میں دھوکے سے بلا کر اغوا ہونے تین افراد موقع ملتے ہی ڈاکوؤں کے چنگل سے بھاگ کھڑے ہوئے۔

ڈاکوؤں کے چنگل سے آزاد ہونے والے خوش نصیبوں میں سید کرامت شاہ محمد ارشد اور غلام رسول شامل ہیں۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرین نے بتایا کہ ڈاکوؤں نے نوکری کا جھانسہ دے کر ہمیں بلایا اور اغوا کر لیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکو اپنے ٹھکانے تبدیل کرتے رہتے تھے۔ ڈاکوؤں نے ہمارے ورثا سے تاوان کی رقم بھی طلب کی لیکن غریب ہونے کی وجہ سے وہ رقم ادا نہ کربسکے اس لیئے ہمیں مختلف جگہوں پر رکھا جاتا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم زندگی سے بور ہوگئے تھے اس لیئے بس موقع کی تلاش میں تھے جیسے ہی ہمیں موقع ملا زندگی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہم بھاگ کھڑے ہو ئے۔