اسلام آباد( ای پی آئی )سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے ایک فوجداری مقدمہ کے فیصلے پر سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر چلنے والی خبروں پر ایک وضاحتی اعلامیہ جاری کیا گیا ہے ۔ترجمان سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی غلط رپورٹنگ کی وجہ سے کئی غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں اور ایسا تاثر دیا جارہا ہے جیسے سپریم کورٹ نے دوسری آئینی ترمیم ("مسلمان” کی تعریف) سے انحراف کیا ہے اور "مذہب کے خلاف جرائم” کے متعلق مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات ختم کرنے کےلیے کہا ہے۔ یہ تاثر بالکل غلط ہے۔ مقدمہ بعنوان مبارک احمد ثانی بنام ریاست (فوجداری درخواست نمبرL/2023 – 1054اور L/2023 – 1354) میں سپریم کورٹ نے یہ قرار دیا تھا کہ اس مقدمے کی ایف آئی آر میں مذکور الزامات کو جوں کا توں درست تسلیم بھی کیا جائے، تو ان پر ان دفعات کا اطلاق نہیں ہوتا، بلکہ فوجداری ترمیمی ایکٹ 1932ء کی دفعہ 5 کا اطلاق ہوتا ہے جس کے تحت ممنوعہ کتب کی نشر و اشاعت پر زیادہ سے زیادہ 6 ماہ کی قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔چونکہ درخواست گزار/ملزم پہلے ہی قید میں ایک سال سے زائد کا عرصہ گزار چکا تھا، اس لیے اسلامی احکام، آئینی دفعات اور قانون و انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے درخواست گزار/ملزم کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیا۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے مقدمات میں جذبات مشتعل ہوجاتے ہیں اور اسلامی احکام بھلا دیے جاتے ہیں۔ فیصلے میں قرآن مجید کی آیات اسی سیاق و سباق میں دی گئی ہیں۔ فیصلے میں غیر مسلموں کی مذہبی آزادی کے متعلق اسلامی جمہوریۂ پاکستان کے آئین کی جو دفعات نقل کی گئی ہیں ان میں واضح طور پر یہ قید موجود ہے کہ یہ حقوق قانون، امن عامہ اور اخلاق کے تابع ” ہی دستیاب ہوں گے۔ آئین کی دفعہ 20 کا ترجمہ یہاں پیش کیا جاتا ہے:”

قانون، امن عامہ اور اخلاق کے تابع :
(اے)
ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے، اس پر عمل کرنے اور اسے بیان کرنے کا حق ہوگا؛
(بی)
ہر مذہبی گروہ اور اس کے ہر فرقے کو اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے، ان کی دیکھ بھال اور ان کے انتظام کا حق ہوگا۔

اسی نوعیت کے ایک مقدمے میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ اس موضوع پر پہلے ہی تفصیلی فیصلہ دے چکا ہے (ظہیر الدین بنام ریاست ، 1993 ایس سی ایم آر 1718) جس سے موجودہ فیصلے میں کوئی انحراف نہیں کیا گیا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنے فیصلوں میں قرآن مجید کی آیات، خاتم النبیین ﷺ کی احادیث، خلفائے راشدین کے فیصلوں اور فقہائے کرام کی آراء سے استدلال کرتے ہوئے کوشش کرتے ہیں کہ تمام قوانین کی ایسی تعبیر اختیار کی جائے جو احکامِ اسلام کے مطابق ہو، جیسا کہ اسلامی جمہوریۂ پاکستان کے آئین کی دفعہ 2، دفعہ 31 اور دفعہ 227 اور قانونِ نفاذِ شریعت، 1991ء کی دفعہ 4 کا تقاضا ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کسی اسلامی اصول یا کسی آئینی یا قانونی شق کی تعبیر میں عدالتی فیصلے میں کوئی غلطی ہوئی ہے، تو اس کی تصحیح واصلاح اہلِِ علم کی ذمہ داری ہے اور اس کےلیے آئینی اور قانونی راستے موجود ہیں۔ چیف جسٹس اور سپریم کورٹ نے کسی کو نظرِ ثانی (review) سے نہ پہلے روکا ہے نہ ہی اب روکیں گے۔
عدالتی فیصلوں پر مناسب اسلوب میں تنقید بھی کی جاسکتی ہے، لیکن نظرِ ثانی کا آئینی راستہ اختیار کیے بغیر تنقید کے نام پر، یا اس کی آڑ میں، عدلیہ یا ججوں کے خلاف منظّم مہم افسوسناک ہے اور آئین کی دفعہ 19 میں مذکور اظہارِ رائے کی آزادی کے حق کی حدود کی خلاف ورزی بھی ہے اور اس سے اسلامی جمہوریۂ پاکستان کےاس ستون کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس پر آئین نے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری ڈالی ہے۔