اسلام آباد (ای پی آئی) جماعت اسلامی پاکستان نے سپریم کورٹ میں پورے ملک شدید تشویش کا باعث بننے والے قادیانی مبارک احمد ثانی کے فیصلہ کے خلاف فریق بننے کی درخواست دائر کردی،

درخواست جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے سینئر وکیل شوکت عزیز صدیقی کے ذریعے دائر کی ھے.،

درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے 6فروری کے فیصلہ میں مشاہدات،ہدایات اور نتائج اور اسکے بعد 22 فروری کی پریس ریلیز کی وجہ سے پورے ملک میں شدید اضطراب پیدا ہوا ھے. درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے فیصلہ میں قرآنی احکامات اور آئینی حوالہ جات سے استدلال نے مجبور کیا ھے کہ عدالت کی اس معاملہ درست معاونت کی جائے.

مزید کہا گیا ھے کہ عدالتی موقف کی وجہ سے قادیانیوں کے حوالہ سے آئینی ،قانونی اور شرعی طے شدہ موقف اور احکامات سے انحراف کا تاثر پیدا ھوا ھے.

عدالت کی طرف سے عوام کو اپنے ارڈر کے حوالہ سے معاونت کی طرف دعوت دینا اچھا اقدام ھے.مزید کہا گیا ھے کہ پاکستانی عوام کے انتہائی حساس مذہبی اور آئینی حق کے حوالہ سے عدالت کی معاونت کے لیے جماعت اسلامی پاکستان کو فریق بننے کی اجازت دیا جانا ضروری ھے.

درخواست میں کہا گیا ھے کہ جماعت اسلامی ملک بھر میں موثر سیاسی جماعت ہے، اقلیتی افراد کی بھی جماعت اسلامی میں نمائندگی ھے. جماعت اسلامی یقین رکھتی ھے کہ درست عدالتی معاونت نہ ہونے کی وجہ سے ایسی صورتحال پیدا ہوئی، جماعت اسلامی معاملہ پر عدالت کی معاونت کرنا چاہتی ہے، درخواست مٰیں استدعا کی گئی ہے کہ پنجاب حکومت نظر ثانی کیس میں معاونت کیلئے فریق بننے کی اجازت دی جائے.