اسلام آباد (ای پی آئی) سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے خلاف 2011 میں دائر ریفرنس پر سپریم کورٹ نے اپنی رائے دیدی ۔ذوالفقار بھٹو کو فیئر ٹرائل کا موقع نہیں ملا سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کی متفقہ رائے ۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس سابق صدر آصف علی زرداری نے 2011 میں دائر کیا ۔جس پر پہلی سماعت2 جنوری 2012 میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 11 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی۔ جس کے بعد کیس تاخیر کا شکار ہو گیا تھا

تاہم موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بننے والے 9 رکنی بینچ جس میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل تھے نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی زیر سربراہی 12 دسمبر کو مقدمے کی دوبارہ سماعت کا آغاز کرتے ہوئے 4 مارچ کو اپنی رائے محفوظ کر لی تھی ۔ جسے سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے رائے دی ہے کہ ذوالفقار بھٹو کو فیئر ٹرائل کا موقع نہیں ملا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم ججز قانون کے مطابق فیصلہ کرنے اور ہر شخص کے ساتھ یکساں انصاف کے پابند ہیں، عدلیہ میں خود احتسابی ہونی چاہیے، ماضی کی غلطیوں کو درست کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔عدالت کی جانب سے ریمارکس دئیے گئے کہ تاریخ میں کچھ کیسز ہیں جنہوں نے تاثر قائم کیا عدلیہ نے ڈر اور خوف میں فیصلہ دیا، ماضی کی غلطیاں تسلیم کیے بغیر درست سمت میں آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔

چیف جسٹس قاضی فائر عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ بھٹو صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی متفقہ رائے ہے، کسی حکومت نے پیپلزپارٹی کی حکومت کا بھیجا گیا ریفرنس واپس نہیں لیا۔

انہوں نے ریمارکس دئیے کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا لاہور ہائی کورٹ میں ٹرائل فوجی آمر ضیاالحق کے دور میں ہوا، صدر نے ریفرنس دائر کرکے بھٹو فیصلہ کو دیکھنا کا موقع دیا، صدر مملکت نے ریفرنس بھیجا جسے بعد کی حکومتوں نے واپس نہیں لیا، یہ معاملہ مفاد عامہ کا ہے، تفصیلی رائے بعد میں دی جائیگی۔

چیف جسٹس قاضی فائر عیسیٰ نے ریمارکس دئیے کہ ذوالفقار بھٹو کو فیئر ٹرائل کا موقع نہیں ملا، ان کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں ٹرائل اور سپریم کورٹ میں اپیل میں بنیادی حقوق کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔انہوں نے ریمارکس دئیے کہ ذوالفقار علی بھٹو کا ٹرائل شفاف نہیں تھا، ان کی سزا آئین میں دئیے گئے بنیادی حقوق کے مطابق نہیں تھی۔

عدالت نے ریمارکس دئیے کہ ریفرنس میں پوچھے گیا دوسرا سوال واضح نہیں اس لیے رائے نہیں دے سکتے، ذوالفقار علی بھٹو کی سزا کا فیصلہ تبدیل کرنے کا کوئی قانونی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ چوتھا سوال سزا کا اسلامی اصولوں کے مطابق جائزہ لینے کا تھا، ریفرنس میں مقدمہ کے شواہد کا جائزہ نہیں لے سکتے، اسلامی اصولوں پر کسی فریق نے معاونت نہیں کی، اسلامی اصولوں کے مطابق فیصلہ ہونے یا نہ ہونے پر رائے نہیں دے سکتے۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس 5 سوالات پر مبنی تھا، صدارتی ریفرنس کا پہلا سوال یہ ہے کہ ذوالفقار بھٹو کے قتل کا ٹرائل آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق مطابق تھا؟دوسرا سوال کہ کیا ذوالفقار بھٹو کو پھانسی کی سزا دینے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ عدالتی نظیر کے طور پر سپریم کورٹ اور تمام ہائی کورٹس پر آرٹیکل 189 کے تحت لاگو ہوگا؟ اگر نہیں تو اس فیصلے کے نتائج کیا ہوں گے؟تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنانا منصفانہ فیصلہ تھا؟ کیا ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنانے کا فیصلہ جانبدار نہیں تھا؟چوتھے سوال میں پوچھا گیا ہے کہ کیا ذوالفقار علی بھٹو کو سنائی جانے والی سزائے موت قرآنی احکامات کی روشنی میں درست ہے؟جبکہ پانچواں سوال یہ ہے کہ کیا ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف دیے گئے ثبوت اور گواہان کے بیانات ان کو سزا سنانے کے لیے کافی تھے؟

سپریم کورٹ کی جانب سے رائے سننے کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھٹو صدارتی ریفرنس پر تاریخی فیصلہ دیا، ہم تفصیلی فیصلے کے منتظر ہیں، تفصیلی فیصلے کے بعد بھرپور بات کر سکوں گا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے مانا کہ بھٹو کو فیئر ٹرائل نہیں ملا، عدالت نے کہا ماضی کی غلطیوں کو درست کرنے کیلیے فیصلہ سنایا ، 44 سال بعد تاریخ درست ہورہی ہے۔بلاول بھٹو زر داری نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کیس میں متفقہ رائے دی ہے، متفقہ فیصلے پرجج صاحبان اور وکلا کا شکرگزار ہوں

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے پاکستان میں جمہوری و عدالتی نظام مضبوط ہوگا، امید ہے فیصلے سے ہمارا نظام صحیح سمت میں آگے جائے گا۔قبل ازیں 4 مارچ کو سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔