اسلام آباد(ای پی آئی) پاکستان مسلم لیگ ن کےجہلم سےرکن قومی اسمبلی بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ عارف علوی کبھی بھی صدر کے عہدے اور وقار تک نہیں پہنچ سکے،وہ ایک گروہ کےاہلکار بن کر کام کرتے رہے،
انھوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی تحلیل اور سپریم کورٹ کے جج کے خلاف ریفرنس عارف علوی کی لیگیسی ہے، بانی پی ٹی آئی کی ایوان صدر میں ملاقات سمیت غیر آئینی کام اور غیر آئینی میٹنگز کرواتے رہے ،انکی صدارت کی مدت پوری ہونے سے ایک انتہائی سیاہ دور صدارت کا خاتمہ ہوا ہے،گزشتہ روز آصف علی زرداری ملک کے دوسری مرتبہ صدر منتخب ہوئے، یہ الیکشن پارلیمان اور جمہوریت کی مضبوطی کا سبب بنے گا،آٹھ فروری والے انتحابات سے قبل جو سروے ہوئے نتائج بھی انہی کے مطابق آئے ہیں ہماری بھی توقع تھی مسلم لیگ ن کی سیٹیں زیادہ ہوں گی، انکو "گڈ ٹو سی یو” والی عدالتیں چاہیں بائیس سیٹوں پر چیلنج کیا گیا اور دعویٰ اسی نشستوں کا کررہے ہیں،
انھوں نے کہا کہ ملک میں الیکشن کمیشن اور عدالتیں موجود ہیں،اگر اعتراض ہے تووہاں جاکر اپنی درخواست دائر کریں، سپریم کورٹ نے ثبوت مانگے تو کہا گیا ہم نے ٹی وی پر یہ رزلٹ دیکھے ہیں،
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی بلال اظہر کیانی کا مزید کہنا تھا کہ آٹھ فروری والے انتحانات کے نتیجے میں کسی جماعت کو اکثریت نہیں ملی، ہم نے عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا،یقینا مشکل حالات ہیں، کوئی بھی جماعت اگر حکومت بناسکتی تھی تو وہ آئیں حکومت بنائیں، ملک کے معاشی مسائل اور سیاسی استحکام کے لیے حکومت سازی کی ،شہباز شریف کو اسی اتحاد نے وزیراعظم اور آصف علی زرادی کو صدر منتحب کروایا ہے،ملک کو درپیش معاشی چینلجزسب کے سامنے ہیں،ایک گروہ کی طرف سے الیکشن میں دھاندلی کا شور مچایا جارہا ہے،یہ جماعت پہلی بار ایسا نہیں کررہی، انہوں نے یہ کام 2013ء سے کام شروع کر رکھا ہے,2013 کے انتحابات کے بعد بھی 35پنکچر کا شور ہوا ایک شیحص نے پارلیمان پر لعنتیں بھیجیں،2018ءمیں ایسا الیکشن ہوا جس کی ٹکٹس بھی انہوں نے خود تقسیم نہیں کیں، آج تک اس جماعت نےملک کی تعمیر و ترقی کیلئے کوئی مثبت کردار ادا نہیں کیا،
انھوں نے کہا کہ شہباز شریف نے اپنی تقریر میں مفاہمت کی بات کی مگر یہ لوگ آج بھی مفاہمت کا ہاتھ پکڑنے کےقابل نہیں نہیں ہیں،بالاکوٹ جیسا اہم مسئلہ ہوا تو وہ شخص اس وقت بھی اپوزیشن کیساتھ نہ بیٹھا ،پھرحکومت جاتی دیکھ کر آئی ایم ایف پروگرام سے معاہدہ توڑ دیا،ملک کو ڈیفالٹ اور سری لنکا جیسے حالات میں دھکیلنے کی کوشش کی،شوکت ترین تیمور جھگڑا نے عمران خان کی ہدایت پر آئی ایم ایف کو خط لکھے ،اب پھربانی پی ٹی آئی نے ایم ایف کو ایک خط لکھا ہے،اسکا کیا مقصد تھا؟آئی ایم ایف کا جواب بھی آگیا ،آئی ایم ایف نے اپنا موقف دے دیا،ڈونلڈ لو کے خلاف پراپریگنڈا کرنے والا شخص امریکہ میں لابنگ فرم ہائر کررہا ہے،اس گروہ کی طرف سےنو مئی کو دہشتگرد حملوں میں شہداء کی یادگار،جناح ہاوس کو جلایا گیا،جوڈیشنل کمپلکس پر حملہ کیا گیا، حسان نیازی نے افواج پاکستان کی وردی کی بے حرمتی کی،ان کے راہنماء عوام کو گاڑیوں میں بھر بھر کر نو مئی کو لے کر گئے،
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اپنی طرف سے مفاہمت کاہاتھ بڑھاتے رہے آج بھی بڑھا رہے ہیں مگر ان کے ر ویئے سےیہی نظر آرہا ہے کہ حکومت اور ایوان کے اندر اور باہر چلنے نہیں دیں گے،مفاہمت کا ہاتھ ضرور بڑھے گا، دس بارہ سال سے انکے تماشے دیکھ رہے ہیں ،یہ انکی غلط فہمی ہے کہ یہ اب سیکھ جائیں اور سدھر جائیںمگر انکی مرضی ہی مفاہمت کرنی ہے، قائد حزب اختلاف بنے والے شخص کو اسمبلی رولز کا ہی نہیں پتہ،اس گروہ کا ایک شخص اسمبلی فلور پر سگریٹ نوشی کرتا رہا، الیکشن نتائج پر ہمارے بھی تحفظات ہیں، ہمارے دیگرسینئر راہنماء اپنے حلقوں سے الیکشن ہارے ہیں، یہ نہیں ہوسکتا کے پی میں الیکشن درست ہیں جبکہ باقی ملک میں دھاندلی ہوئی ہے،شور مچانے والوں کے لیے لیگل فورمز موجود ہیں باتیں کرنے سے کچھ نہیں ہوگا آپ ثبوت لائیں 2018ءمیں جو کچھ انہوں نے کیا وہ انہیں دوبارہ کرنے کی اجازت بالکل نہیں ملے گی۔


