کشمور(ای پی آئی) صوبہ سندھ میں کچے کے بعد پکے کے ڈاکو بے قابوہوگئے
مگسی اسٹاپ کے قریب سے دو افراد کو اغوا کیا گیا۔پولیس بے بس نظر آ رہی ہے۔
ڈاکو وزیر داخلہ سندھ اور آئی جی سندہ کے آمد پر بھی باز نہ آئے ایک طرف وزیر داخلا سندہ اور آئی جی سندہ کی ایس ایس پی افیس میں امن امان کے حوالے سے اجلاس جاری تھا تو دوسری جانب پکے کے ڈاکوؤں نے کرمپور مگسی روڈ سے مزدا ڈرائیور آصف پنجابی نامی شخص کو اپنے کلنیر سمیت اغوا کرلیا ہے ۔ جس کا تعلق پنجاب کے شہر لیہ سے بتایا جا رہا ہے ادھر وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے اپنی پریس کانفرنس میں کراچی اور اندرونی سندھ امن وامان میں خرابی کا ملبہ نگران حکومت پر ڈال دیا ۔ کندھ کوٹ میں آئی جی سندھ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ضیا الحسن لنجار کا کہنا تھا سارا بگاڑ نگران دور سے آیا ہے جسے ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا ۔ اسٹریٹ کرائم اور کچے میں آپریشن کے نتائج ضرور سامنے آئیں گے ۔۔وزیرداخلہ سندھ اور آئی جی پولیس کی کندھ کوٹ میں موجودگی کے دوران کچے کے ڈاکو مزید دو افراد کو اغوا کر کے لے گئے ۔12 گھنٹوں میں اغوا شدہ افراد کی تعداد تین ہو گئی ۔مغویوں میں ایک بچہ بھی شامل ابھی ابھی ہمیں معلوم ہوا ہے کے ٹھل سے کندہ کوٹ آنے والی مسافر وین پر بھی ڈاکوؤں نے دھاوا بول دیا ہے مسافر ون سے ڈاکوو کی لوٹ مار مسافروں نے تھانے کو گھیرلیا۔ اگر کچے میں دو افراد تاوان دیکر بازیاب ہو رہے ہیں تو اسی وقت ڈاکو 4 افراد کو اغوا کرکے لے جاتے ہیں مطلب ایک ہاتھ میں دو دوسرے ہاتھ میں لو
کچہ تو دور کی بات ہے لیکن پکے کے ایک ڈاکوں کو بہی پولیس گرفتار کرنے میں ناکام پوچکی ہے۔آج تک شہید ہونے والے اہلکاروں کے قتل میں ملوث کوئی بھی ملزم گرفتار نہ ہوسکا اور ایک ماہ گزرنے کے باوجود بھی شہید استاد اللہ رکھیو نندوانی کے قتل میں ملوث ملزمان بھی گرفتار نہ کرسکی پولیس صرف فوٹو سیشن میں مصروف ہے