اسلام آباد (ای پی آئی ) پاکستان کے معاشی مرکز اور روشنیوں کے شہر کراچی میں 12 مئی 2007کوپیش آنے والے سانحہ کو 17 سال مکمل ہوگئے ہیں۔ لیکن آج تک کسی ملزم کو سزا نہ ہوسکی۔۔

یاد رہے کہ مارچ 2007 میں اس وقت کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے اس وقت کے چیف آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کو استعفیٰ دینے کو کہا اور انکار پر ان کو ان کے عہدے سے ہٹادیا گیا جس پر پاکستان کے وکلا نے تحریک شروع کی، جس کے دوران غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ملک کے کئی شہروں کا دورہ کرکے جلسے کیے۔12 مئی 2007 کو افتخار محمد چوہدری سندھ ہائی کورٹ کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر کراچی گئے اوران کو ائیرپورٹ پر محبوس کردیاگیا۔اس دوران کراچی میں بڑے پیمانے پر خونریزی ہوئی شہرکی سڑکوں پر بلوائیوں کا راج تھا دن بھر فائرنگ جاری رہی اور شہری جانوں سے ہاتھ دھوتے رہے۔

وکلا اور سیاسی کارکنوں سمیت سمیت 48 افراد شہر کی سڑکوں پر دن دہاڑے ہلاک کردیئے گئے، 130 سے زائد افراد زخمی جبکہ درجنوں گاڑیاں اور املاک بھی نذر آتش کردی گئیں۔

اس واقعے کے درجن سے زائد مقدمات درج ہوئے جن میں اُس وقت کے مشیر داخلہ اور میئر کراچی وسیم اختر اور رکن سندھ اسمبلی کامران فاروق سمیت 55 سے زائد ملزمان نامزد کیے گئے۔ لیکن ان مقدمات میں کسی کو سزا تو دور کی بات آج تک اس بات کا بھی تعین نہیں ہوسکا کہ اس دن ہلاک ہونے والوں کی تعداد کتنی تھی۔ کچھ اخبارات کے مطابق اس دن 40 افراد، کچھ کے مطابق 50 اور کچھ 70 افراد کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق سابق میئر کراچی وسیم اختر اور سابق رکن صوبائی اسمبلی کامران فاروقی سمیت 60 سے زائد متحدہ کارکنان کے خلاف سانحہ 12 مئی کے 19 مقدمات سرد خانے کی نذر کردیئے گئے۔ 17 سال گزر جانے کے باوجود سانحہ میں ملوث دہشت گردوں کو منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جاسکا۔ تفتیشی حکام کی عدم دلچسپی اور ٹھوس ثبوت و شواہد پیش نہ کیے جانے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وسیم اختر سمیت 24 ملزمان ضمانتوں پر آزاد ہوچکے ہیں۔ اکثر سماعتوں پر گواہوں کو پیش نہ کیے جانے کے سبب ٹرائل مکمل نہیں کرایا جاسکا۔ متحدہ ایم پی اے کامران فاروقی، محمد عدنان عرف بالو سمیت 20 سے زائد مفرور ملزمان کو اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے۔

تفتیشی حکام اور گواہوں کی عدم دلچسپی کے باعث 17 سال مکمل ہونے کے باوجود سانحہ 12 مئی کے مقدمات التوا کا شکار ہیں۔ سانحہ میں جاں بحق ہونے والے 50 سے زائد افراد کے اہلخانہ تاحال انصاف کے منتظر ہیں۔ وکلا اور ملزمان کے تاخیری حربوں کے باعث 14 سے زائد مقدمات کا ٹرائل بھی مکمل نہیں کیا جاسکا۔ 7 کے قریب مقدمات میں نومبر 2019ء کو وسیم اختر سمیت24 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ تاہم اب تک مقدمات میں گواہوں کے بیانات ریکارڈ نہیں کیے جاسکے۔ جبکہ مقدمات میں متحدہ دہشت گرد رئیس مما اور مرزا نصیب بیگ عرف رضوان چپاتی گرفتار اور جیل میں ہیں۔

تفتیشی حکام کی عدم دلچسپی اور شواہد کی کمی کے باعث میئر کراچی وسیم اختر، عمیر صدیقی سمیت 24 ملزمان ضمانتوں پر آزاد ہوچکے۔ جبکہ پولیس سابق ایم پی اے کامران فاروقی اور محمد عدنان عرف بالو سمیت20 سے زائد مفرور ملزمان کو کئی بار ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باوجود گرفتار کرنے میں ناکام ہے۔ جس کے باعث مقدمات کی تفتیش بھی آگے نہیں بڑھ سکی جبکہ سانحہ 12 مئی کے دوبارہ کھولے گئے 12 مقدمات میں بھی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ ان میں سے 2007ء کو تھانہ صدر میں درج ایک مقدمہ میں 4 ملزمان عبدالباری کاکڑ، حبیب اللہ، مشتاق اور وکیل خان مفرور ہیں۔ مقدمے میں پولیس نے پیپلزپارٹی اور اے این پی سمیت دیگر جماعتوں کے 400/500 نامعلوم کارکنوں کو شامل کیا ہے۔ اس کے علاوہ تھانہ ایئرپورٹ میں درج 7 پرانے مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔ مگر اب تک تمام گواہوں کے بیانات ریکارڈ نہیں ہوسکے ہیں۔

عدالتوں میں بیانات ریکارڈ کرانے والے گواہوں نے ملزمان کو شناخت بھی کیا اور واقعے کی سی ڈیز سمیت دیگر شواہد بھی پیش کیے گئے۔ گواہوں نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ 12 مئی 2007ء کو ملزمان نے متحدہ کی اعلیٰ قیادت کے حکم پر شہر میں جلاؤ گھیراؤ اور ہنگامہ آرائی کی تھی۔ اس دوران فائرنگ سے کئی شہری بھی جاں بحق ہوئے۔ گواہوں میں شامل پولیس اہلکار بیان دے چکے ہیں کہ گرفتار ملزمان نے تفتیش میں اعتراف جرم بھی کیا ہے اور یہ بات بھی تسلیم کی کہ انہوں نے متحدہ کی اعلیٰ قیادت کے حکم پر شہر میں جلاؤ گھیراؤ اور ہنگامہ آرائی کی تھی۔

ایک گواہ اے سی ایل سی کے ایس آئی جاوید ابڑو نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے دو ملزمان کو شناخت کیا تھا۔ گواہ نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا تھا کہ کمرہ عدالت میں موجود سلمان اور ناصر نے ایئرپورٹ کے علاقے میں شہریوں پر فائرنگ کی۔ 12مئی 2007ء کو ملزمان نے ایم کیو ایم بانی کی ایما پر ہنگامہ آرائی اور جلاؤ گھیراؤکیا۔ 2016ء میں ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ دوران تفتیش ملزمان جرم کا اعتراف بھی کرچکے ہیں ۔ اگست 2016ء میں ملزمان نے اقبالی بیان بھی ریکارڈ کرایا تھا، کہ انہوں نے متحدہ بانی اور اس وقت کی اعلیٰ قیادت کے حکم پر قتل و غارت کی تھی۔

پولیس نے تھانہ ایئرپورٹ میں متحدہ پاکستان کے رہنما اور سابق میئر کراچی وسیم اختر سمیت 67 ملزمان کو نامزد کر کے 7 مقدمات میں تقسیم کیا تھا۔ کراچی آپریشن 2013ء میں قانون نافذ کرنے والے ادارے نے ملزم محمد اسلم عرف کالا کو گرفتار کیا۔

ملزم کی جے آئی ٹی میں سانحہ 12 مئی میں ملوث ملزمان کی نشاندہی کی گئی۔ جس کے بعد 2016ء میں پولیس نے ان مقدمات میں 20 ملزمان کو گرفتار کیا۔ جن میں متحدہ پاکستان کے رہنما وسیم اختر، محمد اسلم عرف کالا، انوارالحسن، فیصل وہاب، اظہر قریشی، محمد حنیف عرف گاڈا، محمد عمران عرف رنگریز، سید سلمان رضوی، ناصر ضیا، محمود خان، ارشد بیگ، ذوالفقار علی، محمد عباس، ظفر، ذاکر، عبدالسلام، سہیل رانا، محمد ناصر، فرحت اللہ اور ناظم اختر شامل تھے۔

گرفتار ملزمان سے کاریں، سی ڈی اور مختلف نوعیت کا اسلحہ برآمد کیا گیا تھا۔ جبکہ مقدمات میں جن درجنوں ملزمان کو مفرور قرار دیا گیا۔ ان میں متحدہ ایم پی اے کامران فاروقی، محمد عدنان عرف بالو، جنید بلڈاگ، فرحان شبیر عرف ملا، محمد فہد عرف ربڑ کا گڈا، محمد عابد عرف چیئرمین، عرفان عرف میجر، فیصل ہاشمی، محمد انور قائم خانی، محمد ساجد عرف شٹرو، عامر مشتاق خان، عبدالاحد، عبدالحفیظ، عبدالوحید، زاہد، عابد علی، علی احمد، آصف احمد قریشی، عزیز، دلدار میاں، فریدالدین، فرخ ظفر، حق نواز، جاوید علی قریشی، ادریس، فرحان، خالد، بابو شہزاد، راشد خان، کاشف علی، الطاف، محمود خان، ذاکر، محمد معراج اور فرحت سمیت دیگر شامل ہیں۔

کراچی پولیس نے مقدمات کے ٹرائل کیلئے چالان 3 ستمبر 2016ء کو انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالتوں میں داخل کیے تھے۔ تاہم ناقص تفتیش کے باعث 24 ملزمان نے ضمانتیں حاصل کر رکھی ہیں۔ جن میں سابق میئر کراچی وسیم اختر، عمیر صدیقی، محمد ناصر، محمد عمران عرف رنگریز، سید سلمان رضوی، ذوالفقار علی، ذاکر، انوارالحسن، محمد عباس، عبدالزاہد، فیصل وہاب، سہیل رانا، عبدالاحد، عبدالسلام، محمد حنیف عرف گاڈا، اظہر قریشی، ظفر، ناظم اختر، ناصر ضیا، محمود خان، حق نواز، ارشد بیگ، فرحت اللہ، اعجاز گورچانی اور محمد اسلم عرف اسلم کالا شامل ہیں۔ جبکہ وسیم اختر کی مقدمات میں حاضری سے استثنیٰ بھی ختم کی جاچکی اور انہیں ہر سماعت پر حاضری یقینی بنانے کی ہدایت ہے۔ان 7 مقدمات کے علاوہ سندھ ہائیکورٹ نے سانحہ 12 مئی 2007ء کے 65 اے کلاس مقدمات کا دوبارہ جائزہ لینے کا حکم دیا تھا۔ جس پر 65 میں سے 12 مقدمات دوبارہ کھولے گئے۔ جو گڈاپ، بہادر آباد، فیروزآباد اور ایئرپورٹ تھانوں میں درج ہیں۔ ان مقدمات میں متحدہ دہشت گرد مرزا نصیب بیگ عرف رضوان چپاتی اور رئیس مما گرفتار اور جیل میں ہیں۔ اس وقت جیل میں قائم انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں میں سانحہ 12 مئی کے 19 مقدمات زیر سماعت ہیں۔ جن میں سے 7 پرانے مقدمات میں وسیم اختر، عمیر صدیقی سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کی جاچکی اور گواہوں کو طلبی کے نوٹس جاری کیے جاچکے ہیں۔ جبکہ ری اوپن 12 مقدمات میں تاحال پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔