1
جسٹس منصور علی کی بطور انتظامی جج سپریم کورٹ ذمہ داریاں ادا کرنے سے معذرت,ذرائع کے مطابق سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس منصور علی شاہ کو ایڈمنسٹریٹو جج سپریم کورٹ مقرر کیا تھا۔انہوں نے سپریم کورٹ کے انتظامی جج کی حیثیت سے ذمہ داری ادا کرنے سے معذرت کر لی اور بھیجی گئیں انتظامی فائلوں پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
2
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان کی تخلیق میں قائداعظم کا ابدی کردار سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، قائداعظم جیسے سچے، ایماندار اور دیانتدار لیڈر ہی ملکوں کی تقدیر بدلتے ہیں۔مسلم دنیا کے مدبر اور عظیم رہنما محمد علی جناحؒ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، یہ دن پاکستان کو قائداعظم کے ویژن کے مطابق عظیم ملک بنانے کے عہد کا متقاضی ہے، اتحاد، بھائی چارہ، مذہبی رواداری اور بقائے باہمی آج کے دن کا پیغام ہے۔قائداعظم نے اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی کی اہمیت پر بہت زور دیا، بانی پاکستان اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور مذہبی رواداری کے علمبردار تھے، بحیثیت قوم ہمیں اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی رواداری کے فروغ کیلئے قائداعظم کے اصولوں پر کاربند رہ کر آگے بڑھنا ہے، ہمیں قومی مفاد میں ذاتی اختلافات کو پس پشت ڈال کر وطن عزیز کا سوچنا ہے۔قائداعظم کے یوم پیدائش پرپیغام
3
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ قائداعظم کے نقشِ قدم پر چل کر پاکستان کو مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ ریاست بنائیں گے۔قائداعظم کا خواب ایسا پاکستان ہے جہاں ہر شہری کو مساوات، انصاف اور ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں، محمد علی جناح کا پاکستان امن، محبت اور ترقی کی علامت ہے، اسی خواب کو حقیقت میں بدلنے کیلئے توانائی وقف کی ہیں۔قائداعظم کے ویژن کی روشنی میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے، ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کیلئے پرعزم ہیں جو قائد کے اصولوں کا عملی مظہر ہو، پاکستان کی ترقی صرف اسی وقت ممکن ہے جب ہم قائداعظم کے افکار کو اپنے قومی کردار کا حصہ بنائیں۔
4
سابق وزیراعظم نواز شریف نے زندگی کی 75 بہاریں دیکھ لیں. سابق وزیراعظم نواز شریف 25 دسمبر1949ء کو لاہور میں پیدا ہوئے، گورنمنٹ کالج سے تجارت کی تعلیم حاصل کی اور 1970ء کی دہائی کے آخر میں سیاست کا آغاز کرنے سے پہلے پنجاب یونیورسٹی لاء کالج سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔سابق وزیراعظم نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 1981 میں وزیر خزانہ پنجاب کی حیثیت سے کیا، بعد ازاں 1985 تا 1990 وزیراعلیٰ پنجاب رہے، نواز شریف 1990ء تا 1993ء، 1997ء تا 1999ء اور تیسری بار 2013ء تا 2017ء وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہے۔بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 28 مئی 1998 کو 5 کامیاب دھماکے کر کے ملک کو دنیا کی ساتویں اور اسلامی ملکوں کی واحد ایٹمی طاقت بنانا نواز شریف کا اہم کارنامہ ہے۔
5
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم ولادت پر قوم کو مبارک باد پیش کی ہے۔بھارت کے مسلم مخالف رویئے سے ثابت ہوا مسلمانوں کیلئے علیحدہ ریاست کا فیصلہ درست اور صحیح تھا، آج جس آزاد فضا میں ہم سانس لے رہے ہیں یہ بابائے قوم قائد اعظم کی قیادت وسیاسی بصیرت کی مرہون منت ہے۔پاکستان کے قیام کا مقصد برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک اسلامی فلاحی ریاست کا قیام تھا، ملک کو ناقابل تسخیر بنانے پر آج ہم مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
6
پاراچنار: راستوں کی بندش کیخلاف دھرنا چھٹے روز میں داخل، شہری خوراک و علاج سے محروم,پارا چنار کی عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے کراچی کی نمائش چورنگی اور لاہور پریس کلب پر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا ہے۔راستوں کی بندش کے حوالے سے مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا کہ پارا چنار روڈ کے لیے سپیشل پولیس فورس کے قیام کی منظوری دی ہے، حکومتی اقدامات کا مقصد علاقے میں صدی پرانے تنازع کا پائیدار اور مستقل حل ہے۔
7
پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کا نوشہرہ گرڈ سٹیشن پر دھاوا، زبردستی فیڈرز چلا دیئے.پیسکو کے ذرائع کے مطابق ایم این اے ذوالفقار علی اور ایم پی اے زر عالم خان نے کھنڈر گرڈ سٹیشن نوشہرہ پر دھاوا بولا ان کے ہمراہ 200 کے لگ بھگ مشتعل مظاہرین بھی تھے۔ایم این اے اور ایم پی اے نے سٹاف کو زدوکوب کیا اور زبردستی فیڈرز آن کئے اور لوڈمینجمنٹ کی صورت میں مظاہرین کی مدد سے گرڈ کا کنٹرول سنبھالنے کی دھمکیاں بھی دیں۔
8
وزیراعظم کے مشیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دور میں سویلین کے ملٹری ٹرائل ہوئے، اب ملٹری ٹرائل کو حرام قرار دیا جارہا ہے۔ہم نے کبھی نہیں کہا مذاکرات نہیں کریں گے، دو جنوری کو پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرے گی۔امریکی پابندیوں سے متعلق وزیراعظم کا واضح بیان آچکا ہے، جی ایس پی پلس کے حوالے سے دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے۔وزیراعظم کے مشیر برائے قانون و انصاف بیرسٹرعقیل ملک کا دنیا نیوز کے پروگرام ’’دنیا مہر بخاری کے ساتھ‘‘ میں گفتگو
9
سابق صدر عارف علوی نے کہا کہ جن لوگوں نے سیاست میں حصہ لیا سب کا ٹرائل ہونا چاہئے۔ ایک کا ملٹری ٹرائل ہوگا تو سب کا ہونا چاہئے، یہ اپنے ہاتھوں سے اپنی قبر کھود رہے ہیں، بات چیت صاحب اقتدار سے ہوتی ہے، صاحب حکومت سے نہیں جو مقتدر ہوں، چاہتے ہیں ملک میں ثالثی ہو، معاملات کا حل نکلے۔عارف علوی نے کہا کہ مذاکرات میں جسے ہونا چاہئے تھا وہ ضمانتیں کرانے میں مصروف تھا، ہمارا سارا وقت مقدمات میں ضمانتیں کرانے میں لگ جاتا ہے، تبدیلی آنے والی ہے، ستارے حرکت میں آگئے ہیں، بانی کو دور رکھنے کیلئے جمہوریت کو تباہ کیا گیا۔
10
پاکستان کیخلاف پہلے ٹیسٹ کیلئے جنوبی افریقی ٹیم کا اعلان,وائٹ بال سیریز کے بعد اب پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلی جائے گی، دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا ٹیسٹ 26 دسمبر سے سنچورین میں کھیلا جائے گا۔پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ کیلئے جنوبی افریقا نے اپنی ٹیم کا اعلان کر دیا، پروٹیز کی قیادت ٹیمبا باووما کریں گے جبکہ سابق جنوبی افریقی کرکٹر ٹیرٹیس بوش کا 30 سالہ بیٹا آل راؤنڈر کوربن بوش ڈیبیو ٹیسٹ کھیلے گا۔
11
اسرائیل نے حوثیوں کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ کر دیا.میڈیارپورٹ کے مطابق اسرائیل نے یورپ میں اپنے سفارتی مشنوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ یمن میں حوثی گروپ کو ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر درجہ بندی کرنے کی کوشش کریں۔اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے ایک بیان میں کہا کہ حوثی نہ صرف اسرائیل بلکہ خطے اور پوری دنیا کے لئے خطرہ ہیں، سب سے پہلا اور سب سے اہم کام جو ہونا چاہئے وہ یہ ہے کہ انہیں دہشت گرد تنظیم قرار دلایا جائے۔اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز کی جانب سے یہ بیان حوثی رہنماؤں کو ان کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے اور ان کے رہنماؤں کو ختم کرنے کی دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے، اسرائیلی وزیر دفاع نے حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ، یحییٰ سنوار اور حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کا حوالہ بھی دیا۔
12
قطرکا شام پر عائد کی گئی پابندیاں فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ,ترجمان قطری وزارت خارجہ نے کہا ہمارا مطالبہ ہے کہ شام پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کے لئے کوششیں تیز کی جائیں اور یہ پابندیاں جلد ختم کی جائیں۔ماجد الانصاری نے کہا قطر کی پوزیشن بہت واضح ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ بہت ضروری ہے کہ شام کے خلاف عائد کی گئی پابندیاں فوری طور پر اٹھائی جائیں اور پچھلی رجیم کے زمانے کی پابندیاں جاری رکھنے کا جواز نہیں۔