اسلام آباد (ای پی آئی ) اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان صاحبزادہ حامد رضا نے عمران خان کے پیغامات عوام تک پہنچاتے ہوئے کہاہے کہ پی ٹی آئی کی بیرون ملک سے ترسیلات روکنے کی کال جاری رہے گی اور حکومت کے ساتھ مذاکرات جنوری کے اختتام تک منطقی انجام کو پہنچائیں گے،

اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صاحبزادہ حامد رضا نے کوریج پر آنے والے صحافیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ میڈیا کے نمائندگان پی ٹی آئی ہنماؤں اور عمران خان کی آواز قوم تک پہنچاتے ہیں

انہوں نے کہاکہ حکومتی کیساتھ مذاکرات کےلیے قائم کمیٹی کے پی ٹی آئی کی طرف سے نامزد ممبران نے عمر ایوب خان کی سربراہی میں عمران خان کیساتھ ملاقات کی ہے ان میں وزیراعلی کے پی کے علی امین گنڈاپور ، سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ ، مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ راجہ ناصر عباس ،سابق سپیکر اسد قیصرشامل تھے ۔

حامد رضا نے کہاکہ عمران خان کےچار پانچ پیغامات قوم تک پہنچانے ہیں ، سب سے پہلے تو بیرون ملک سے ترسیلات روکنے کی کال جاری رہے گی اس کال کی نوبت اس لئے آئی کہ 1971 کے بعد پاکستان میں پہلی مرتبہ کسی پولیٹیکل پارٹی کو اس طریقے سے نشانہ بنایا گیا پارٹی کے بنیادی حقوق سلب کیے گئے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کو ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا پارلیمنٹیرینز کی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا اور مجموعی سول رائٹس اور ہیومن رائٹس کومعطل کیا گیا ہے اس لئے ریمیٹینسس نہ بھجوانے کی کال جاری رہے گی

انہوں نے کہاکہ اٹھ فروری کے انتخابات میں سب نے دیکھا کہ کس طریقے سے ہمارا مینڈیٹ چرایا گیا ترسیلات زر روکنے کی کال کی دوسری وجہ مینڈیٹ چوری ہے ۔

انہوں نے کہاکہ مذاکرات کے کٹ آف کے لیے جو ایک ٹائم فریم ہے وہ جنوری کا اختتام ہے ہم 31 جنوری تک ان مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں

انہو ں نے کہاکہ دو جنوری 2025کو عمرایوب کی سربراہی میں ہماری کمیٹی مذاکرات کا باضابطہ آغاز کرے گی اس بات کی اطلاع حکومت کو باقاعدہ طور پر دی جائے گی اور میڈیا کے ذریعے بھی حکومت کو اطلاع مل جائے گی۔

صاحبزادہ حامد رضا نے کہاکہ عمران خان نے تیسرے نمبر پر یہ بات کہی ہے کہ پاکستان کے لیے پاکستان کی بقا کے لیے میں اپنے پر ہونے والے قاتلانہ حملے، اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے ہر سلوک کو معاف کرنے کے لیے تیار ہوں

عمران خان نے چوتھی بات یہ کہی ہے کہ خیبر پختون خواہ کی حکومت اور وزیراعلی کے پی علی امین گنڈاپور پر انہیں بھرپور اعتماد ہے اور اس کے بعد خان صاحب نے پاکستان تحریک انصاف کے تمام کارکنان، تمام قومی و صوبائی ارکان پارلیمنٹ کوحکومت کی فسطائیت کا استقامت سے سامنا کرنے پرشاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ تمام پارلیمنٹیرین،تمام کارکنان اور تمام اتحادی جماعتیں ہمارا فخر ہیں ۔۔
عمران خان نے کرم کے معاملے میں وزیراعلی کے پی کے علی امین گنڈا پور اور راجہ ناصر عباس سے خصوصی گفتگو کی اس ضمن میں اسد قیصر،عمر ایوب صاحب اورسلمان اکرم راجہ نے بھی اپنا فیڈ بیک دیا اور خان صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ جلد سے جلد اس مسئلے کو حل کرنا ہے اور اس کے حل کی طرف جانا ہے

صاحبزادہ حامد رضا نے کہ کہ پی ٹی آئی کے دو ہی مطالبات ہیں ،دوسرا فریق ( حکومت )ہمیں 9 مئی کا ذمہ دارقراردیتی ہے لیکن ہم بالکل واضح انداز میں کہتے ہیں کہ ہم ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ دوسرا فریق ذمہ دار ہے ۔ تو اس کا بہترین حل یہ ہے کہ ایک ایسا جوڈیشل کمیشن بنے جو سپریم کورٹ کے سینیئر موسٹ ججز مشتمل ہو ،تاکہ ایک غیر جانبدارانہ تحقیقات ہو سکے سی سی ٹی وی فٹیجز سامنے لائی جائیں وہ لوگ جو ان سی سی ٹی وی فٹیجز کے اندر لوگوں کو اشتعال دلا کر مخصوص جگہوں کی طرف لے جارہے تھے ان کی نشاندہی کی جائے ،اس سارے معاملے کا تعین سی سی ٹی وی فٹیج سے ہی ہو سکتا ہے اور کسی طریقے سے نہیں ہو سکتا

انہو ںنے کہاکہ 26 نومبر کے حوالے سے ہمارا بڑا واضح موقف ہے کہ گولی چلی آج کی تاریخ تک جو ہمارے پاس ایگزیکٹ ڈیٹا ہے اس کے مطابق ہمارے 13 کارکنان شہید ہیں ہمارے 64 افراد گولیاں لگنے سے زخمی ہیں اور لاپتہ کارکنان کی تعداد 150 سے 200 کے درمیان ہے۔

صاحبزادہ حامد رضا نے کہاکہ 26 نومبر کے حوالے سے ہمارا موقف بہت واضح ہے کہ یہ پاکستان کی عوام پر حملہ تھا پاکستان کی جمہوریت پر حملہ تھا اور اس حملے کے جو ذمہ داران ہیں جنہوں نے گولی چلانے کا حکم دیا وہ اس کے ذمہ دار ہیں اس لیے ہم 26 نومبرکے واقعہ پر بھی جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کرتے ہیں

انہو ں نے کہاکہ ہمارا دوسرا مطالبہ تمام سیاسی اسیران کی رہائی ہمارے ایجنڈے کا حصہ ہے اور عمران خان صاحب کی رہائی کسی ڈیل کے ذریعے نہیں ہوگی کوئی کام پیپر سائن کر کے نہیں ہوگا جس طرح کچھ لوگ سزا یافتہ ہونے کے باوجود رات کی تاریکی میں پیپر سائن کر کے اس ملک سے باہر چلے گئے عمران خان اپنے تمام مقدمات کا سامنا عدالتوں میں کر کے عدالتوں کے ذریعے باہرآئیں گے عمران خان کسی ایسی بات پر یقین نہیں رکھتے

حامد رضا نے کہاکہ عمران خان صاحب وہاں پر ابھی بھی فوکس تھے کہ آپ صرف اسیرکارکنان ان کی رہائی کی بات کریں لیکن کمیٹی کے تمام ممبران ،تمام اتحادی جماعتوں اورپورے پاکستان کی تحریک انصاف کی قیادت کا پیغام ہم نے خان صاحب کو دیا کہ آاپ کی رہائی ہمارے ایجنڈے کا حصہ ہے آپ نے ایک سٹیٹس مین شپ ظاہر کی ہے ،آپ نے ایک لیڈر کا کردار ادا کرتے ہوئے کہا کہ میرے پارلیمنٹیرینز میرے کارکنان کو رہا کیا جائے لیکن آپ کے پارلیمنٹیرینز ،آپ کے کارکنان آپ کی جماعت ،آپ کے اتحادیوں کا اولین مطالبہ یہ ہے کہ آئینی قانونی عدالتی طریقے سے عمران خان صاحب رہا ہوں اور میں یہ بات واضح کر دوں جس طرح گزشتہ ماہ عمران خان صاحب کی تمام کیسز میں ضمانت مکمل ہو گئی تھی روبکار جانی ہونے والی تھی لیکن پھر قالین کا ایک ٹکڑا اٹھایا گیا اور ایک ایف آئی ار نکال کر خان صاحب کا اس میں ریمانڈ لے کر گرفتار کیا گیا یہ کلیئر کلیئر انصاف کا قتل بھی تھا یہ کلیئر کلیئر پولیٹیکل وکٹمائزیشن بھی تھی تو ہماری کمیٹی حکومت سے اس پولیٹیکل وکٹمائزیشن کو روکنے کے اوپر بات کرے گی باقی خان صاحب انشاءاللہ اپنے مقدمات کاسامناکر کے باہرآئیں گے

صاحبزادہ حامد رضا نے کہاکہ افغانستان پر حملے کے حوالے سے عمران خان کا موقف بالکل کلیئر ہے کہ ہم کسی پرائی جنگ کا حصہ نہیں بن سکتے ہم پہلے بھی پرائی جنگ کا حصہ بنے اس کا نقصان پاکستان نے دو لاکھ کے قریب شہادتوں کی صورت میں برداشت کیا ہم اب بھی کسی پرائی جنگ کا حصہ نہیں ہو سکتے اور افغانستان کے اوپر جو حملے ہوئے ہیں ان کی خان صاحب کی طرف سے مذمت کی گئی ہے کیونکہ وہ ہمارا برادر اسلامی ملک ہے پاکستان میں امن امان کی بہت ساری صورتحال افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کے اوپر ہے اس حوالے سے عمران خان نے افغانستان کے ساتھ معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل پر زور دیا ہے ۔