اسلام آباد (ای پی آئی) فوجداری مقدمات میں وکیل کرنے حیثیت نہ رکھنے والے سائلین کو مفت سرکاری وکیل دینے کیلئے سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا۔

ملک کی سب سے بڑی عدالت نے فوجداری مقدمات میں وکیل کرنے کی حیثیت نہ رکھنے والے کو سرکاری خرچ پر وکلاء کی خدمات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس ضمن میں چیف جسٹس پاکستان کے احکامات کی تعمیل میں دو رکنی ججز کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے۔
دو رکنی کمیٹی میں جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس ملک شہزاد احمد خان شامل ہیں۔
دو رکنی ججز کمیٹی سپریم کورٹ کے وکلاء کے پینل کی منظوری دی گی جو سرکاری خرچ پر ملزمان یا سزایافتہ افراد کی نمائندگی کریں گے۔

سرکاری خرچ پر وکیل کے طور پر تقرر کیلئے پینل میں شامل ہونے والے وکلاء سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں. اس ضمن میں جاری سرکلر میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں وکالت کا لائسنس رکھنے والے تمام وکلاء درخواست دینے کے اہل ہونگے،سرکلر کے مطابق درخواست کے ساتھ درخواست گزار کی تصویر، تفصیلی تعارف نامہ شامل کیا جائے۔

تفصیلات میں وکیل کے زیر سماعت یا مکمل کردہ فوجداری مقدمات کی تفصیل، رپورٹ شدہ فیصلوں کا ذکر (اگر کوئی ہو) اور فوجداری قانون کے شعبے میں ان کے تجربے کے دیگر حوالہ جات شامل ہوں،سرکلر کے مطابق درخواست میں یہ بھی ذکر کیا جائے کہ درخواست گزار عدالت کے مرکزی دفتر اسلام آباد یا کسی مخصوص رجسٹری برانچ میں اس کام کے لیے دستیاب ہوں گے۔

درخواستیں رجسٹرار سپریم کورٹ کے نام ارسال کی جائیں اور یہ دفتر کو 4 جنوری 2025 تک موصول ہو جانی چاہیں،
درخواستیں موصول ہونے کے بعد امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیاجائے گااوراگرضروری سمجھا گیا تو کمیٹی کے ذریعے انٹرویو لیا جائے گا۔