1
9 مئی کے منصوبہ سازوں کو سزاؤں تک انصاف کا عمل مکمل نہیں ہوگا، 26 نومبر 2024 کی سازش 9 مئی 2023 کا تسلسل ہے، نومبر کی سازش کے پیچھے سیاسی دہشتگردوں کی سوچ ہے۔پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف طویل جنگ لڑی ہے، رواں سال 59 ہزار 775 کامیاب آپریشنز کئے گئے، سکیورٹی فورسز نے 2024 میں مختلف آپریشنز کے دوران 925 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا جبکہ سیکڑوں گرفتار ہوئے، آپریشنز میں 27 افغان دہشتگردوں کو ہلاک کیا۔
9 مئی افواج پاکستان نہیں عوام کا مقدمہ ہے، قانون کے مطابق 9 مئی کے زیر حراست مجرموں کو سزائیں دینے کا عمل مکمل ہو چکا ہے، لوگوں کو سمجھ آرہی ہے کہ جھوٹے بیانیے کے پیچھے کون ہے، پاکستان میں آرمی کورٹس آئین و قانون کے مطابق دہائیوں سے موجود ہیں، ملٹری کورٹس سے سزا یافتہ اپیل کا حق رکھتے ہیں۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بیانیہ بنایا گیا کہ 9 مئی کا سانحہ فوج نے کرایا، انتشیاریوں کو خوش ہونا چاہیے کہ ایجنسیوں کے بندوں کو سزائیں ہوئیں، کوئی جتھہ یا مسلح گروہ اپنی مرضی یا سوچ معاشرے پر مسلط نہیں کرسکتا، اس طرح کے معاملات کی کوئی گنجائش نہیں، مستقبل میں بھی ایسی ہی سزائیں ملیں گی، نوجوانوں کو ریاست کیخلاف ورغلا کر کھڑا کیا گیا۔
2021 میں دہشتگردوں کی ٹوٹ چکی تھی انہیں بات کے نام پر کس نے دوبارہ آباد کیا؟ کچھ لوگ سیاست کے نام پر زہریلے پروپیگنڈے سے عوام کو گمراہ کرتے ہیں، کچھ لوگ جو ملٹری کورٹس پر بات کررہے ہیں وہ ماضی میں اس کے حق میں تھے، انصاف کا سلسلہ تب تک چلے گا جب تک منصوبہ سازوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنایا جاتا۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی راولپنڈی میں پریس کانفرنس
2
کلائیمنٹ چینج اس وقت پوری دنیا کے لیے چیلنج بن چکا ہے، پاکستان کلائیمٹ چینج سے متاثر ہونے والے ممالک میں سر فہرست میں ہے۔برطانوی صحافی اناطول لیون نے اپنی مشہور کتاب، پاکستان آ ہارڈ کنٹری میں لکھا ہے کہ پاکستان کو سب سے زیادہ خطرہ کلائیمٹ چینج سے ہے جبکہ ماہرین کے مطابق اکیسویں صدی کے اختتام پر دنیا کا اوسط درجہ حرارت مزید2 فیصد بڑھ جائے گا۔
درجہ حرارت کے اضافے سے دنیا بھر میں ہنگامی نوعیت کی تبدیلیاں پیدا ہوں گی، پاکستان ان تمام تبدیلیوں سے بُری طرح متاثر ہوگا، ماحولیاتی تبدیلوں کے باعث پاکستان میں ماضی کی حکومتوں نے کوئی حاص توجہ نہ دی جس کے باعث عدالتوں کو مداخلت کرنا پڑی اور اس حوالے سے لاہورہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم کی عدالت میں مفاد عامہ کے حق میں درخواست دائر کی گئی۔درخواست میں ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ اور سموگ پر قابو نہ پانے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا، یہ مقدمہ 2اگست 2018کو لاہورہائیکورٹ میں دائر ہوا، یعنی 6سال 4ماہ سے یہ مقدمہ عدالت عالیہ میں زیر سماعت ہےجبکہ اس سے قبل یہ مقدمہ جسٹس ریٹائرڈ علی اکبرقریشی کی عدالت میں زیر سماعت بھی رہا۔
3
مذہبی جماعت کا احتجاج: کراچی میں تمام ٹرینوں کو اضافی سٹاپ دینے کا فیصلہ،ریلوے ترجمان کے مطابق کراچی کینٹ سے روانہ ہونے والی تمام ٹرینوں کا شیڈول جاری کردیا گیا، مسافروں کی سہولت کے لیے ڈرگ روڈ اور لانڈھی سٹیشنز پر اضافی اسٹاپ دیا گیا ہے تاکہ سڑکوں کی بندش کی وجہ سے جو مسافر کینٹ سٹیشن نہ پہنچ سکیں وہ ڈرگ روڈ اور لانڈھی سٹیشن سے ٹرین میں سوار ہوسکے۔کراچی کینٹ اسٹیشن سے روانہ ہونے والی تمام ٹرینیں ڈرگ روڈ اور لانڈھی سٹیشن پر سٹاپ کریں گی، فیصلہ احتجاج کے باعث مسافروں کی سہولت کے لیے کیا گیا۔
4
ملک میں مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافے کا رجحان جاری، حالیہ ہفتے مہنگائی کی شرح میں0.80 فیصد اضافہ ہواہے اور سالانہ بنیادوں پرمہنگائی کی شرح 4.64 فیصد سے بڑھ کر5.08 فیصد ہوگئی ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے میں 17اشیاء مہنگی اور 10 اشیاء سستی ہوئیں جبکہ24 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلیے مہنگائی کی شرح0.69فیصداضافے کے ساتھ 5.10 فیصد، 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلیے مہنگائی کی شرح 0.78 فیصداضافے کے ساتھ 5.09 فیصد رہی۔
5
ملک میں ترسیلاتِ زر اور برآمدات کی صورت حال اور اس حوالے سے وزارت خزانہ نے معاشی آؤٹ لُک رپورٹ جاری کردی گئی۔وزارت خزانہ کی جانب سے ماہانہ معاشی آؤٹ لُک رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 5ماہ میں ترسیلاتِ زر اور برآمدات میں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے، ساتھ ہی درآمدات، بیرونی سرمایہ کاری، زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق مرکزی بینک کے مالی ذخائر 7.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 11.85 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جس کی وجہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں مالی سال ترسیلات زر میں 33.6 فیصد کا اضافہ ہونا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جاری مالی سال کے پہلے 5ماہ میں ترسیلاتِ زر 14.77 ارب ڈالر رہیں۔
جولائی تا نومبر (5 ماہ میں) برآمدات 7.4 فیصد اور درآمدات 8.3 فیصد بڑھیں۔ علاوہ ازیں کُل بیرونی سرمایہ کاری میں 42.2 فیصد کا اضافہ ہوا۔اسی طرح 4ماہ میں ایف بی آر محصولات میں 23.2 فیصد کا اضافہ ہوا۔ نان ٹیکس آمدنی میں 101.3 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ 4ماہ میں مالی خسارہ 495 ارب روپے سرپلس رہا اور زرعی شعبے کو قرضوں میں 8.5 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
6
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی سلیکٹڈ ،نہ فارم 47والی ہے۔بے نظیر بھٹو غریب کی لیڈر تھیں، انہوں عالمی سطح پر لیڈر تسلیم کیا گیا، محترمہ نے شہادت تسلیم کی لیکن اپنے نظریے پر سمجھوتا نہیں کیا۔بے نظیر کی سیاسی جدوجہد تاریخ کا حصہ ہے، وہ کبھی کسی آمر اور دہشت گرد کے سامنے نہیں جھکیں، ان کی 30 سال کی سیاسی جدوجہد آپ کے سامنے ہے، بے نظیر بھٹو کسانوں ، ہاریوں کی آواز تھیں۔
پاکستان ایسی جگہ پر کھڑا ہے جہاں مشکل ہی مشکل ہے، عوام مشکل میں اس لیے ہیں کہ محترمہ کو شہید کیا گیا ، اسلام آباد میں ایسی کٹھ پتلیاں ہیں جنہیں صرف کرسی کا شوق ہے ، یہ کٹھ پتلیاں ایٹمی اثاثوں کا سودا کرنے کیلئے بھی تیار ہیں ، بے نظیر کو اس لیے شہید کیا گیا تاکہ ان کٹھ پتلیوں کو لایا جاسکے۔شہید بے نظیر کی 17ویں برسی پر گڑھی خدا بخش میں خطاب
7
خیبرپختونخوا میں 77 ہزار میٹرک ٹن گندم گوداموں میں خراب ہونے کا انکشاف،دستاویزات کے مطابق پاسکو سے خریدی گئی گندم کی مالیت تقریباً 11 ارب روپے ہے، خراب گندم کا استعمال انسانی صحت کیلئے مضر صحت ہوسکتا ہے۔دستاویز میں کہا گیا کہ گوداموں میں پڑی گندم قابل استعمال ہے یا نہیں؟ اس حوالے سے 6 ممبران پر مشتمل اعلیٰ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی گئی۔ مختلف ٹیسٹ کے بعد گندم کی کوالٹی چیک کی جائے گی، گندم کس وجہ سے خراب ہوئی وجوہات دیکھی جا رہی ہیں،گندم قابل استعمال ہے یا نہیں اس کا فیصلہ کمیٹی کرے گی۔سیکرٹری خوراک اشفاق احمد


