1
پی ٹی اےری آرگنائزیشن ایکٹ کے سیکشن3(7) میں ترامیم پر قانون سازی کی منظوری،وزیراعظم میں محمد شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا ہے وزیراعظم ہاؤس سے جاری کئے گئے اعلامیے کے مطابق انفارمیشن گروپ افسران کی سفارتی مشنزمیں بطور پریس آفیسرز تعیناتی کیلئے قواعد کی منظوری کی سفارش کی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے بریفنگ دی کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کےغیرمستقل رکن کےطور پر دو سالہ مدت کا آغاز آج سے ہوگیا ہے وفاقی کابینہ نے سفارتی محاذ پرپاکستان کی اس بڑی کامیابی کو سراہا ہے وزیراعظم نےگوادر بندرگاہ سے پچھلے تین ماہ میں پبلک سیکٹر درآمدات کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
2
سکول ہیڈمسٹریس کا پنشن ریکارڈ کی تصدیق کیلئے پانچ قیمتی سوٹ طلب کرنے کا انکشاف، ریحان نے جوہر ٹاؤن کے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول سمسانی کھوئی سے اپنی والدہ کے ریکارڈ کی تصدیق کے لیے رجوع کیا۔ تاہم، سکول کی ہیڈ مسٹریس نے دستخط کرنے کے بدلے پانچ قیمتی فینسی سوٹ رشوت میں مانگ لیئے ۔
شہری کے مطابق، سکول کے عملے نے ان سے دستاویزات لیں اور ہیڈ مسٹریس کے دفتر پہنچا دیے۔ کچھ دیر بعد عملے نے واپس آکر بتایا کہ دستخط کرنے کے لیے میڈم کی شرط پانچ فینسی سوٹ ہیں۔ ریحان بشیر نے منت سماجت کی اور اس دوران خفیہ ریکارڈنگ بھی کر لی۔ تاہم، بارہا درخواست کے باوجود کام نہ بنا تو شہری تین قیمتی سوٹ لے کر دوبارہ سکول پہنچا، جس پر ہیڈ مسٹریس نے دستخط کر دیے۔
بعد ازاں، ریحان بشیر نے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو شکایت درج کروائی لیکن دو ماہ تک چکر لگوانے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ مجبور ہو کر شہری نے اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ سے رجوع کیا اور اپنی خفیہ ریکارڈنگ بھی پیش کر دی۔
3
ضلع کرم میں جاری کشیدگی ختم، فریقین میں امن معاہدہ ہو گیا۔تمام فریقین نے امن معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں ۔معاہدے کے متن کے مطابق اسلحہ حکومتی سرپرستی میں جمع کیا جائے گا، مورچے اور بنکرز ختم کیئے جائیں گے ، پورے کرم میں دہشتگردوں کیخلاف کارروائی ہو گی ۔
حکومت 399 ارکان پر مشتمل خصوصی فورس بھی قائم کرے گی جو کرم کے راستوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنائے گی، کرم امن معاہدے کا باقاعدہ اعلان گورنر ہاؤس پشاور میں ہوگا، فریقین ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کیے جانے والے فیصلوں کے پابند ہوں گے۔
4
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج،عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ترین سطح پر ہیں،حکومت نے عالمی مارکیٹ کے برعکس پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بلا جواز اضافہ کیا حکومت کو عوامی مشکلات میں اضافے کا کوئی استحقاق حاصل نہیں ہے،پیٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا،عدالت پیٹرولیم مصنوعات کی قمیتوں میں حالیہ اضافہ کالعدم قرار دے۔
5
بے نظیر انکم سپورٹ کی سہ ماہی قسط میں بڑا اضافہ کر دیا گیا۔سینیٹر روبینہ خالد نے خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ جنوری 2025 سے بینظیر کفالت سہہ ماہی قسط کی رقم کو 10500 سے بڑھا کر 13500 روپے کردی گئی ہے ، یہ سال ہم بینظیر ہنر مند پروگرام کیلئے وقف کررہے ہیں، بینظیر ہنر مند پروگرام کے ذریعے مستحق افراد خود اپنا روزگار کما کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں گے۔ رواں سال بھی ایمانداری کیساتھ پسماندہ طبقات کی خدمت کا کام جاری رکھیں گے، بی آئی ایس پی کی جانب سے پاکستان کے تمام لوگوں کو سال نو 2025 کی مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔
6
ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ نے ٹوکن ٹیکس کی تاریخ میں 15 روز کی توسیع کر دی ہے ۔ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے کہاہے کہ شہریوں کی سہولت کیلئے ایکسائز کاؤنٹر رات 8 بجے تک کھلے رہیں گے۔ عدم ادائیگی ٹوکن ٹیکس پر گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخی کا فیصلہ اور جرمانہ %200 تک کیا جائے گا۔
ٹوکن ٹیکس ادا نہ کرنے والے گاڑیوں کے مالکان جنھوں نے کئی کئی سالوں سے گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس ادا نہیں وہ فوری طور پر ٹیکس جمع کروائیں۔ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کو پندرہ دن کی مہلت مزید دی گئی ہے ۔
7
وفاقی وزیر بحری امور قیصر احمد شیخ کا کہنا ہے کہ کے پی ٹی کا گزشتہ 2 سال میں منافع 2 ارب روپے تھا، جو بڑھ کر 24 ارب روپے ہوگیا، پہلے پاکستان میں 3 یا 4 ہزار بحری جہاز آتے تھے اب 25 ہزار آتے ہیں۔
پاکستان کے جی ڈی پی میں بحری امور کا حصہ ایک فیصد ہے، ترقی یافتہ ملکوں میں وزارت بحری امور کا جی ڈی پی میں حصہ 40 فیصد ہے، پاکستان کے سرکاری اداروں کا خسارہ 800 ارب روپے ہے، ہمارا ادارہ نفع میں ہے، اِسے مزید منافع بخش بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
پہلے پاکستان میں 3 یا 4 ہزار جہاز آتے تھے اب 25 ہزار بحری جہاز آتے ہیں، وسط ایشیاء کے ممالک میں بندرگاہیں نہ ہونے سے بحری جہاز کراچی آرہے ہیں، پوری دنیا کے بڑے بڑے ادارے پاکستانی بندرگاہوں کی جانب دیکھ رہے ہیں، روس بھی چاہتا ہے کہ وہ سامان کراچی پورٹ سے ہی درآمد اور برآمد کرے۔
8
نیب کے 137 پراسیکیوٹرز کو ایک سال کی توسیع مل گئی۔ چیئرمین نیب کی منظوری سے توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی کو بھی ایک سال کی توسیع دی گئی ہے۔ نیب راولپنڈی کے سردار ذوالقرنین، عرفان بھولا اور عثمان مسعود کو بھی توسیع مل گئی۔