1
ایس آئی ایف سی کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس آج، اہم فیصلے متوقع ,وزیر اعظم کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں عسکری حکام، وفاقی وزراء اور صوبائی وزرائے اعلیٰ شریک ہوں گے۔اجلاس میں اہم فیصلے متوقع ہیں جبکہ ایس آئی ایف سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق بھی ہو گی تاہم اجلاس میں ایس آئی ایف سی کی کارکردگی رپورٹ بھی پیش کی جائے گی۔
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں شرکاء کو دوست ممالک کی پاکستان میں سرمایہ کاری اور سہولیات بارے بھی بتایا جائے گا جبکہ ایس آئی ایف سی کی مد میں ہونے والی ترقی، سرمایہ کاری اور تیل گیس کے نئے ذخائر بارے بریفنگ دی جائے گی۔
2
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے دوست کھلے دل سے مذاکرات کریں، حکومت آئین وقانون کے دائرے میں جو مطالبہ ہوگا اس پر غور کرے گی۔معاشی اڑان پانچ سالہ منصوبہ ہے، معاشی اڑان پاکستان میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو مدعو کیا ہے، ہماری آئی ٹی بر آمدات کم نہیں ہوئیں،34فیصد بڑھی ہیں، 15سالہ اقتدار کا پلان اورہے جبکہ ملک کی ترقی کا پلان اور ہے، گزشتہ حکومت میں 2025کا سی پیک پلان بند کردیا گیا۔
3
پنجاب میں پہلی بار ای ٹیکسی سکیم شروع کرنے کا فیصلہ ,وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اعلان کے مطابق بیروزگار افراد کیلئے ای ٹیکسی سکیم شروع کرنے جا رہے ہیں۔
ای ٹیکسی سکیم میں ایسی گاڑیاں فراہم کرنا چاہتے ہیں جو قیمت میں نسبتاً کم مگر معیار میں بہترین ہوں، ہم تیزی سے جدید اور ایکو فرینڈلی ٹرانسپورٹ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان
4
احتساب عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کیخلاف توشہ خانہ ٹو کیس میں وکلاء صفائی کو گواہ پر جرح کا آخری موقع دے دیا۔سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کیخلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں کی، عمران خان اور بشریٰ بی بی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
دوران سماعت وکلاء صفائی کی جانب سےبشریٰ بی بی کے وکیل ارشد تبریز کی حاضری معافی کی درخواست دی گئی جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ ارشد تبریز بیماری کی وجہ سے حاضری نہیں ہو سکتے سماعت ملتوی کی جائے، پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی کی جانب سے درخواست کی مخالفت کی گئی۔بعدازاں عدالت نے وکلاء صفائی کی درخواست منظور کرلی اور گواہ پر جرح کا حتمی موقع دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 6 جنوری تک ملتوی کر دی۔
5
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ڈی چوک احتجاج کے دوران گرفتار پی ٹی آئی مظاہرین کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے درخواست ضمانت پر سماعت کی، ملزمان کے وکلاء اور پراسیکیوٹر راجہ نوید بھی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے۔
دورانِ سماعت جج ابو الحسنات نے کہا کہ ضمانتیں لگی ہوئی ہیں، آپ یہ کریں ایک ہی وکیل بحث کر لے، وکیل صفائی نے کہا کہ ملزمان میں افغان اور پاکستانی شہری شامل ہیں جس پر جج ابو الحسنات نے کہا کہ افغان شہریوں کی حد تک ان کے نام بتا دیں ان کو الگ کر دیتے ہیں۔
وکیل صفائی نے کہا کہ سب افغان شہری قانونی طور پر پاکستان میں رہ رہے ہیں، سب کاغذات بھی لگے ہوئے ہیں، قانونی طور پر رہنے والے افغان شہریوں نے پناہ کے لیے درخواست دے رکھی ہے اور وہ غلط سرگرمیوں میں شامل نہیں ہوتے، افغان شہریوں کو کراچی کمپنی اور ترنول میں گھروں سے اٹھایا گیا ہے، ان کی تعداد 146 ہے۔
6
فنڈز نہ ملنے پر پشاور میں بلدیاتی نمائندوں کا اسمبلی چوک میں شدید احتجاج، پولیس کی شیلنگ ,مظاہرین نے ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ پر بلدیاتی نمائندے منتشر ہوگئے، ایس پی کینٹ کے مطابق مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا، مظاہرین کو پیچھے کی طرف دھکیلا گیا،4 کو گرفتار کرلیا۔
7
استعفے کی تصدیق، سپیکر قومی اسمبلی نے موہن منجیانی کو طلب کر لیا .ذرائع سپیکر آفس کے مطابق موہن منجیانی کو کل دن ساڑھے گیارہ بجے سپیکر کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔موہن منجیانی کے استعفے کی تصدیق کی صورت میں سپیکر فوری استعفی قبول کرلیں گے،
8
رہنما مسلم لیگ ن عابدشیرعلی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کےخلاف کوئی سیاسی کیس نہیں ہے۔نومئی کو ملک میں جلاؤ گھیراؤ کیا گیا، پی ٹی آئی دور میں بھی سویلین کےملٹری ٹرائل ہوئے، ملک میں آزاد عدلیہ ہے، اگر عدالتیں رہا کرتی ہیں تو عمران خان رہا ہو جائیں گے۔
مذاکرات ملک میں معاشی استحکام لانے کے لیے کر رہے ہیں، پی ٹی آئی کا پورا انحصار امریکا، یورپ پر ہے، بانی پی ٹی آئی کے کیسز پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، حکومت کی ترجیح عوام کوریلیف دینا ہے۔
9
رہنما تحریک انصاف فیصل چودھری نے کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران حکومت بھی اپنا ایجنڈا دے۔ مذاکرات کےذریعے ہی بات آگےبڑھےگی۔ہم چاہتے ہیں مذاکرات کےدوران حکومت بھی اپنا ایجنڈا دے، بانی پی ٹی آئی کےخلاف تمام سیاسی کیسز بنائے گئے، انہیں ختم کیا جانا چاہیے۔
عمران کےخلاف ایک بھی کیس میرٹ پرنہیں بنایا گیا، حکومت بانی کی مقبولیت سےخوفزدہ ہیں، پاکستان پرپریشرپہلی بارنہیں آرہا، نوازشریف دورمیں بھی بل کلنٹن کا پریشرآیا تھا۔


