1
پیپلزپارٹی کا حکومتی پالیسیوں کی کھل کر مخالفت کرنے کا فیصلہ،پاکستان پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے درمیان جنگ مزید شدت اختیار کر گئی، پی پی نے حکومتی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے رہنماؤں کو اہم ہدایات جاری کردیں۔ ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق پی پی قیادت نے رہنماؤں کو حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی اجازت دے دی ہے اور ہدایت کی ہے کہ آئندہ حکومت کی غلط پالیسیوں پر تنقید کی جائے۔
پیپلزپارٹی قیادت نے پارٹی رہنماوں کو گائیڈ لائنز دے دی ہیں، وفاق، پنجاب میں حکومت کی غلط پالیسیوں پر کھل کر تنقید ہو گی۔ پارٹی نے قیادت کو حکومتی پالیسیوں پر تحفظات سے آگاہ کیا اور مشورہ دیا تھا کہ حکومتی پالیسیوں پر خاموشی حمایت کے مترادف ہے لہذا اس معاملے پر تنقید کی جائے۔
حکومت کی غلط پالیسیوں پر خاموشی سیاسی طور نقصان دہ ہے، حکومت کے غلط کاموں، ناقص پالیسیوں کا نزلہ پی پی پر گرے گا اور پیپلزپارٹی کسی بھی برائی کا ملبہ خود پر گرنے نہیں دے گی۔
2
سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ بھٹو کو پھانسی نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کو پھانسی دی گئی، پیپلزپارٹی کے علاوہ کسی جماعت نے ملک کے لیے کام نہیں کیا۔ آئین پاکستان کی شکل بدلنے اور توڑنے کی کوشش کی گئی ، ڈکٹیٹروں نے جو سیاستدان ہم پر تھوپے انہوں نے بھی آئین توڑنے کی کوشش کی، پاکستان میں آج بھی بھٹو جیسی کوئی شخصیت نہیں ہے۔
پاکستان کو مسائل سے نکالنے کے لیے بھٹو جیسی ذہین شخصیت کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ کراچی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیرون ممالک سے لوگ آتے تھے، پھر جان بوجھ کر نفرت والی جماعتیں بنائی گئیں، اتنے بڑے ظلم کے بعد سپریم کورٹ کہتی ہے بھٹو کو فیئر ٹرائل کا موقع نہیں ملا۔
آئین پاکستان کی شکل بدلنے اور توڑنے کی کوشش کی گئی ، ڈکٹیٹروں نے جو سیاستدان ہم پر تھوپے انہوں نے بھی آئین توڑنے کی کوشش کی، پاکستان میں آج بھی بھٹو جیسی کوئی شخصیت نہیں ہے۔ سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اظہارخیال
3
بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ 26 نومبر کو جو ہوا ہے اس کا حساب دینا پڑے گا ہم نہ بھولیں گے نہ بھولنے دیں گے اب وہ وقت نہیں ہے ہم کسی چیز سے نہیں ڈریں گے۔حکومت چاہ رہی ہے کہ عمران خان کے حوالے سے تاثر دیا جائے کہ وہ بھی دوسروں کی طرح این آر او لے کر باہر آئے، انہوں نے بڑی کوشش کی کہ عمران خان تین سال کے لیے ملک سے باہر چلے جائیں پھر انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو ہاؤس اریسٹ میں ڈال دیتے ہیں پھر انہوں نے کہا کہ آپ چپ رہیں اور ہماری حکومت چلنے دیں یہ پیغامات ہمیں براہ راست نہیں ہمیں مختلف ذرائع سے آئے۔
بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کی عمران خان سے ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو،کہامیڈیا پر تاثر دیا جا رہا ہے کہ عمران خان کے بیک ڈور رابطے اور چینلز سے بھی ہو رہے ہیں مگر عمران خان نے واضح کیا ہے کہ مذاکراتی کمیٹی کے سوا کوئی رابطہ نہیں ہورہا، عمران خان نے مذاکراتی کمیٹی کو دو نکاتی ایجنڈا دیا ہے ایک مطالبہ 9 مئی اور 26 نومبر پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اور دوسرا مطالبہ بے گناہ لوگوں کی رہائی ۔
4
سینارٹی اصول کے مطابق ججز کی تعیناتی سے متعلق درخواست کی سماعت ملتوی،سپریم کورٹ کے جسٹس جمال خان مندوخیل نے رجسٹرار آفس اعتراضات کےخلاف مرحوم سابق چیف جسٹس وقار سیٹھ کی اپیل پر سماعت کی۔
درخواست کی سماعت ان چیمبرہوئی۔ درخواست گزار کے وکیل حامدخان کے معاون چیمبر میں پیش ہوئے۔ معاون وکیل نے استدعا کی کہ حامد خان دھند کے باعث پہنچ نہیں سکے سماعت ملتوی کی جائے۔
5
وزیر اعظم کا انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کو نشان عبرت بنانے کا حکم،وزیراعظم سے جاری بیان کے مطابق اپنی زیر صدارت ملک میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف لیے گئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس کے دوران شہباز شریف نے انسانی سمگلنگ میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف لیے گئے حالیہ اقدامات پر ایف آئی اے کو سراہا۔
انسانی اسمگلروں کے سہولت کار سرکاری افسران کے خلاف حالیہ تادیبی کارروائیوں کا آغاز خوش آئند ہے، سہولت کاروں کے خلاف تادیبی کاروائی کے بعد سخت تعزیری اقدامات بھی لیے جائیں، ملک میں تمام انسانی اسمگلنگ کے گروہوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے، تاکہ وہ نشان عبرت بنیں۔
انسانی اسمگلروں کی جائدادوں اور اثاثوں کی ضبطگی کے لئے فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، اس مکروہ دھندے میں ملوث تمام افراد کے خلاف استغاثہ کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جائے، استغاثہ کے لیے وزارت قانون و انصاف سے مشاورت کے بعد اعلیٰ ترین درجے کے وکلاء تعینات کیے جائیں۔
6
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک کی جمہوریت اور پارلیمانی سیاست پر ہزاروں سوال اٹھ رہے ہیں۔ جے یو آئی ایک نظریاتی تحریک کا نام ہے، حالات کی روش کے ساتھ ہمیں چلنا پڑتا ہے لیکن اپنے اسلاف کے عقائد، و نظریے پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ پاکستان کو اسلامی ریاست بنانا ، ہمارے اکابرین کا پارلیمانی کردار ہے، ملک کی جمہوریت اور پارلیمانی سیاست پر ہزاروں سوال اٹھ رہے ہیں۔
ہماری اسلام کے لئے جدوجہد جاری ہے جاری رہے گی، ہمارا مؤقف یہ رہا ہے کہ تمام مکاتب فکر کی سیاسی قیادت نے مذہبی ھم آہنگی کا کردار ادا کیا، آئین کی تمام تر اسلامی دفعات ،قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی کا بتاتے ہیں۔99 فیصد اسلام قوانین کانفاذ اسلامی نظریاتی کونسل کی مشاورت سے ہوا، ہمارے ایوانوں کو ایسے ممبران سے بھر دیا گیا جنکو اسلامی علم ہی نہیں، معاشرے میں فرقہ ورانہ عناصر موجود ہیں۔پشاور میں ایک تقریب سے خطاب
7
درآمدی اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کے سبب زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں پیر کو اتارچڑھاؤ کے باوجود ڈالر کی پیش قدمی جاری رہی جس سے ڈالر کے اوپن ریٹ ایک بار پھر 280روپے کی سطح پر آگئے۔
عالمی بینک اور اس کے ذیلی اداروں کی پاکستان کے لیے 10سال کے طویل المدت ترقیاتی پلان کے تحت مجموعی طور پر 40ارب ڈالر کی فنانسنگ کی اطلاعات، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی ماحولیاتی تبدیلی و مائننگ سیکٹر میں سرمایہ کاری دلچسپی کی خبروں سے انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری دورانیے کے دوران ڈالر کی قدر ایک موقع پر 16پیسے کی کمی سے 278روپے 40پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی۔
8
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ اتحادی حکومت میں ہلکی پھلکی ’موسیقی‘ چلتی رہتی ہے، مسلم لیگ( ن)اور پیپلزپارٹی ملک کی دو بڑی جماعتیں ہیں، جن کے اپنے اپنے نظریات ہیں مگر پاکستان کے نظریے پر دونوں ایک ہیں، ملک کو درپیش معاشی بحران اور دہشت گردی کی لہر کا مقابلہ کرنے کے لیے محاذ آرائی کی نہیں اتحاد کی ضرورت ہے۔
ہمارا سندھ اور باقی صوبوں سے اتفاق ہوا ہے کہ ہم قومی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کو قومی اہداف سے ہم آہنگ کریں گے تاکہ اڑان پاکستان کے اہداف کو حاصل کیا جاسکے۔ ہمیں ایسا اقتصادی منصوبہ تشکیل دینا ہے جو کمزوروں کا خاتمہ کریں اور معیشت کو مضبوط بنیاد پر کھڑا کریں، ہمارا فائیو ایز فریم ورک اسی بنیادی فلسفے کے گرد بنایا گیا ہے جو اڑان پاکستان کی بنیاد ہے۔


