1
خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پولیس کارروائی سے ہوئے نقصانات کی رپورٹ سامنے آگئی۔نقصانات کا تخمینہ لگانے والی کمیٹی کے چیئرمین منیرحسین نے خیبرپختونخواسمبلی میں رپورٹ پیش کی۔کے پی ہاؤس میں نقصانات کا تخمینہ 3 کروڑ روپے سے زائد ہے اور وزیراعلیٰ کے گمشدہ سامان کا تخمینہ 35 لاکھ روپے ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ کی 25 لاکھ روپے مالیت کی ایم فوررائفل، ڈیڑھ لاکھ روپے کی بلٹ پروف جیکٹ، 6 لاکھ روپے کا مالیت کا موبائل فون غائب ہوا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کے پی ہاؤس سے سرکاری اسلحہ، موبائل اور نقد رقم غائب ہوئی، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کی گاڑیوں کو نقصان کا تخمینہ 10 لاکھ روپے لگایا گیا ہے، اس کے علاوہ 45 لاکھ روپے مالیت کے گیس ماسک، موبائل فونز بھی غائب ہیں۔
2
22 ہزار بیوروکریٹس دوہری شہریت کے حامل ہیں، عبدالقادر پٹیل کا دعویٰ،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین خرم نواز کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں دوہری شہریت معاہدے والے ممالک کے شہریوں کو پاکستانی پاسپورٹ دینےکی مجوزہ قانون سازی پربحث ہوئی۔
99 فیصد وفاقی سیکرٹری دوہری شہریت کے حامل ہیں،کہا جاتا ہے سیاستدان دوہری شہریت نہ رکھیں کہ وہ ملکی راز افشا کر دیں گے، بیوروکریٹ کے پاس تمام فائلیں اور راز ہوتے ہیں انہیں تو دوہری شہریت کی اجازت ہے، سیاستدان کا کیا راز ہوتا ہے؟ اس کا تو سب کچھ سب کو معلوم ہوتا ہے۔
3
شیر افضل اور افنان اللہ آمنے سامنے، بغلگیر ہوکر ایک دوسرے کو بھائی قرار دیا۔پارلیمنٹ ہاؤس کی راہداری میں دونوں کا آمنا سامنا ہوا جس کے بعد وہاں انہوں نے میڈیا سے گفتگو بھی کی۔ایک سوال کے جواب میں شیر افضل مروت کا کہنا تھاکہ ہم سیاسی ورکرز ہیں، ایک واقعہ ہوا اس کے بعد آذربایجان میں اکٹھے ہوئے، ہمارے دلوں میں اب کوئی میل نہیں ہے، دل میں ایک دوسرے کا احترام ہے۔انہوں نے کہا کہ میں انہیں چھوٹے بھائی کی طرح سمجھتا ہوں۔اس کے جواب میں سینیٹر افنان اللہ کا کہنا تھاکہ میں بھی شیر افضل کی بات سے اتفاق کرتا ہوں، یہ میرے بھائی ہیں۔
4
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ رواں مالی سال کی آخری سہ ماہی تک مہنگائی کے حوالے سے استحکام آ جائے گا اور رواں مالی سال مہنگائی سنگل ڈیجیٹ میں رہنے کا اندازہ ہے۔سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت ہوا جہاں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے قائمہ کمیٹی کو معاشی صورتحال پر بریفنگ دی۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مہنگائی پر قابو پانےکے لیے سخت پالیسی اختیار کی، مئی 2023 میں مہنگائی 38 فیصد پر پہنچ چکی تھی اور جون 2022 میں شرح سود 22 فیصد پر پہنچ گئی تھی، جون 2022 کے بعد مہنگائی کم ہوئی تو شرح سود کو کم کیا گیا۔
میڈیم ٹرم مہنگائی 5 سے 7 فیصد تک رہنے کا ہدف ہے، ہمارے خیال میں مالی سال کی آخری سہ ماہی میں اتار چڑھاؤ رہے گا، آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بھی رسک برقرار رہیں گے۔
5
پاکستان فلم انڈسٹری کی نامور اداکارہ ریما خان پر ایک شخص نے دھوکا دہی کے الزامات عائد کیے ہیں۔حال ہی میں ایک یوٹیوب چینل کو شاہد رفیق نامی ایک شخص نے لاہور پریس کلب کے باہر مختصر انٹرویو دیا،شاہد رفیق نے دعویٰ کیا ہےکہ 2009 میں انہوں نے ریما کی فلم ‘لو میں گم کے لیے انہیں 2 کروڑ10س لاکھ روپے دیے تھے لیکن بدلے میں انہیں کوئی منافع نہیں ملا۔اس شخص نے بتایا کہ ان سے زبردستی اداکارہ کی فلم کے لیے سرمایہ کاری کروائی گئی لیکن انہیں اتنے سال گزر جانے کے باوجود کچھ نہیں ملا۔