1
سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلئنز کے ٹرائل کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت جاری ہے جس کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے ہیں کہ موجودہ کیس میں 9 مئی والے ملزمان تو آرمڈ فورسز سے تعلق نہیں رکھتے۔سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ سماعت کر رہا ہے۔
وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل کا آغاز کر دیا اور مؤقف اپنایا کہ عدالتی فیصلے کی بنیاد آرٹیکل 8(5) اور 8(3) ہے، دونوں ذیلی آرٹیکلز یکسر مختلف ہیں، انہیں یکجا نہیں کیا جا سکتا۔جسٹس جمال مندوخیل نےریمارکس دیے کہ آپ کا یہ نکتہ کل سمجھ آ چکا، اب آگے چلیں اور بقیہ دلائل مکمل کریں۔
خواجہ حارث نے سویلین کا ملٹری ٹرائل کالعدم قرار دینے والا فیصلہ پڑھا اور کہا کہ ایف بی علی کیس میں طے پا چکا تھا سویلین کا بھی فوجی عدالت میں ٹرائل ہو سکتا ہے، اکثریتی فیصلے میں آرٹیکل آٹھ تین اور آٹھ پانچ کی غلط تشریح کی گئی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ دیکھتے ہیں اس پر ہم آپ سے اتفاق کریں یا نہ کریں، خواجہ حارث نے کہا کہ غلط تشریح کی بنیاد پر کہہ دیا گیا ایف بی علی کیس الگ نوعیت کا تھا، ایف بی علی پر ریٹائرمنٹ کے بعد ٹرائل چلایا گیا تھا جب وہ سویلین تھے۔
خواجہ حارث نے مؤقف اپنایا کہ فیصلے میں کہا گیا جرم سرزد ہوتے وقت ریٹائر نہیں تھے اس لئے ان کا کیس الگ ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ موجودہ کیس میں 9 مئی والے ملزمان تو آرمڈ فورسز سے تعلق نہیں رکھتے، آج کل ایک اصطلاح ایکس سروس مین کی ہے، یہ ایکس سروس مین بھی نہیں تھے، چلیں ہم صرف شہری کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ میں جب پشاور ہائیکورٹ میں چیف جسٹس تھی تو باقاعدگی سے جیلوں کا دورہ کرتی تھی، عام طور پر ملٹری کورٹس سے سزا یافتہ ملزمان کے قریب نہیں جانے دیا جاتا، میں جب ان ملزمان کے قریب ہائی سیکیورٹی حصار میں گئی۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قید تنہائی میں رکھنا بہت بڑی سزا ہے، اگر دو دن کسی کمرے میں بند کر دیا جائے تو انسان نہیں رہ سکتا، جیلوں میں دہشتگردوں اور قتل کے ملزمان کو آزاد گھومنے پھرنے کی اجازت ہے، ان ملزمان نے کونسا اتنا بڑا جرم کر دیا ہے؟عدالت عظمیٰ نے ملزمان کو قید تنہائی میں رکھنے اور وکلاء سے ملاقات نہ کروانے سے متعلق جواب طلب کر لیا۔
2
سانحہ 9 مئی مقدمات کے سلسلے میں پی ٹی آئی رہنما نے عمران خان کے خلاف بیان دیا یا نہیں، اس سلسلے میں بیان حلفی عدالت میں جمع کروا دیا گیا۔پی ٹی آئی رہنما صداقت علی عباسی نے عدالت میں بیان حلفی جمع کروایا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پانی پی ٹی آئی سمیت پارٹی قیادت کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا نہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا۔
دورانِ سماعت جی ایچ کیو حملہ کیس میں پی ٹی آئی سابق رکن قومی اسمبلی صداقت علی عباسی نے بریت کی درخواست بھی دائر کردی اور ساتھ ہی بیان حلفی بھی جمع کروایا گیا ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ 9مئی کے مقدمات میں ، میں نے 164 کے تحت کوئی بیان ریکارڈ نہیں کروایا۔
بیان حلفی میں مزید کہا گیا کہ میں نے کوئی بیان ریکارڈ نہیں کروایا نہ کسی بات کی نشاندہی کی، مجھے مقدمے سے بری کیا جائے۔ مجھ سے 164 کے تحت بیان منسوب کیا گیا جو میں نے ریکارڈ ہی نہیں کروایا۔ پارٹی لیڈرشپ اور بانی پی ٹی آئی کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا۔صداقت علی عباسی کے وکیل غلام مرتضیٰ سنبل کے توسط سے 265 ڈی کے تحت درخواست کی سماعت آج ہونے کا امکان ہے ۔
3
عمران خان کی نااہلی پر احتجاج؛ علی امین گنڈاپور اشتہاری قرار, انسداد دہشتگری عدالت اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی نااہلی پر احتجاج کے کیس کی سماعت ہوئی، جس میں تحریک انصاف کے رہنما فیصل جاوید ، واثق قیوم عدالت میں پیش ہوئے۔کیس کی سماعت انسداد دہشتگری عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کی ۔
عدالت نے دورانِ سماعت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور عمر تنویر بٹ کو اشتہاری قرار دے دیا جب کہ عامر کیانی کے خلاف اشتہاری قرار دینے کا پراسس شروع کر دیا گیا۔دورانِ سماعت فیصل جاوید کی طرف سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کے لیے درخواست بھی دائر کی گئی ۔عدالت نے غیر حاضر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 15 جنوری تک ملتوی کردی اور درخواستوں پر دلائل طلب کر لیے۔
4
جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت آج اڈیالہ جیل میں ہوگی، تاہم آج کسی بھی گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں ہو سکے گا۔ عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں آج کی سماعت کے لیے کسی گواہ کی طلبی کے نوٹس جاری نہیں کیے، جس کی وجہ سے آج کسی گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں ہو سکے گا، تاہم ملزمان کی حاضری لگائی جائے گی۔
سماعت میں عمر ایوب خان کی شواہد کی آڈیو ، وڈیوز کی کاپی،اقبالی بیان کی نقل فراہمی کی درخواست پر دلائل ہوں گے جب کہ کرنل ریٹائرڈ اجمل صابر کی جی ایچ کیو حملہ کیس میں بری کرنے کی درخواست پر بھی دلائل سنیں جائیں گے۔
بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جی ایچ کیو حملہ کیس میں اڈیالہ جیل عدالت میں حاضری ہوگی تاہم آج شاہ محمود قریشی کے پیش ہونے کا امکان بھی ختم ہوگیا ہے۔کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ کریں گے۔
5
وزیراعظم ایک روزہ دورے پر کراچی پہنچ گئے.گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری اور وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے پی اے ایف بیس فیصل کراچی میں وزیراعظم میاں شہباز شریف کا استقبال کیا۔نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت علی پرویز ملک بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم پاکستان اسٹاک ایکسچینج، کے پی ٹی اور آغا خان یونیورسٹی میں ہونے والی تقاریب میں شرکت کریں گے۔
6
خیبر پختونخوا میں فورسز کی کارروائیوں میں 19 خوارج ہلاک، 3 جوان شہید, 6 اور 7 جنوری کو خیبرپختونخوا میں تین الگ الگ کارروائیوں میں 19 خوارج کو جہنم واصل کیا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ خوارج کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پرسیکیورٹی فورسز کی جانب سے ضلع پشاور کے علاقے متنی میں آپریشن کیا گیا اور اس دوران سیکیورٹی فورسزنے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی میں 8 خوارج کو جہنم واصل کر دیا گیا۔
خیبرپختونخوا کے ضلع مہمند کے شہری علاقے بائیزئی میں بھی سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک اور کارروائی کی اور دہشت گردوں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔بائیزئی میں کی گئی کارروائی میں سیکیورٹی فورسز نے 8 خوارج کو ہلاک کر دیا۔ضلع کرک میں تیسری کارروائی میں سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے مقام کو مؤثر انداز سے نشانہ بنایا اور فائرنگ کے نتیجے میں 3 خوارج جہنم واصل ہوئے۔
7
سانحہ 9 مئی کے 13 مقدمات کی سماعت ملتوی، کیسز کے چالان طلب, کچہری عدالت میں سانحہ 9 مئی کے 13 مقدمات کی سماعت کی سماعت ہوئی، جس میں پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز، عثمان ڈار، شہریار خان آفریدی اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے تمام کیسز کی سماعت 29 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے ملزمان کی حاضری لگائی اور آئندہ تاریخ پر ان کیسز کے چالان طلب کرلیے۔
8
وزیراعلیٰ پنجاب کی آمد پر سرگودھا یونیورسٹی میں چھٹی کا اعلان,سرگودھا یونیورسٹی میں جاری تمام شعبہ جات کے فائنل ٹرم کے پرچے ملتوی کر دیے گئے، پرچہ جات کے شیڈول کا اعلان دوبارہ کیا جائے گا۔امتحان ملتوی ہونے سے طلبہ و طالبات کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے آج یونیورسٹی میں منعقدہ تقریب کے دوران ہونہار طلباء میں اسکالر شپ تقسیم کرنے ہیں۔ تقریب کے لیے یونیورسٹی آف سرگودھا کے کرکٹ گراؤنڈ میں انتظامات کیے گئے ہیں۔مریم نواز شریف آج یونیورسٹی آف سرگودھا میں 1588 طلبہ کو چیک تقسیم کریں گی۔ یونیورسٹیز آف سرگودھا، بھکر، میانوالی اور میڈیکل کالجز کے طلبہ کو 7 کروڑ کے ہونہار اسکالرشپ ملیں گی۔
9
26ویں آئینی ترمیم کے مضمرات پروکلا برادری منقسم ہے جس نے نہ صرف اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی تقرری میں ایگزیکٹو کے اثر و رسوخ میں اضافہ کیا ہے بلکہ عدلیہ کے اندرونی کام کو بھی متاثر کیا ہے۔ انڈیپینڈنٹ گروپ اس کی حمایت کر رہا ہے جبکہ سپریم کورٹ بار کے موجودہ صدر کا تعلق بھی اسی گروپ سے ہے، دوسری جانب آل پاکستان وکلا ایکشن کمیٹی میں حامد خان گروپ کی بڑی تعداد شامل ہے جو اس ترمیم کی سختی سے مخالفت کر رہی ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رؤف عطا نے آئینی بنچ اور سپریم کورٹ پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں صدر بار ایسوسی ایشن نے کہاکہ 26ویں آئینی ترمیم کی حمایت کی وجہ دو اہم باتیں ہیں، سب سے پہلے یہ پارلیمنٹ کی اجتماعی مرضی کی نمائندگی کرتی ہے، دوئم اس نے موثر طریقے سے عدالتی حد سے تجاوز کو کم کیا ہے اور آنے والے ہر وقت کے لیے اختیارات کی علیحدگی کے اصول کو مضبوط کیا ہے۔
آئین میں ترمیم کرنے کی اہل صرف پارلیمنٹ ہی ہے، ترمیم نے عدلیہ کو پہلے سے زیادہ خود مختار بنا دیا ہے اور عام شہریوں کے لیے انصاف کی رسائی میں اضافہ کیا ہے۔یہ غلط دعوی کیا گیا ہے کہ ترمیم نے ایگزیکٹو کوماسٹر آف دی روسٹربنا دیا ہے۔
10
غزہ میں مزید 31 فلسطینی شہید، اسرائیل کی اقوام متحدہ کے امدادی قافلے پر بھی فائرنگ,عرب میڈیا الجزیرہ نے غزہ کی وزارت صحت کے حوالے سے بتایا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی جارحیت میں 45 ہزار 885 فلسطینی شہید اور سوا لاکھ کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی)نے غزہ کی پٹی میں اپنے امدادی قافلے پر اسرائیلی فائرنگ کی مذمت کی ہے۔سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے تین گاڑیوں پر مشتمل قافلے پر فائرنگ کی، 16 گولیاں گاڑیوں کو لگیں۔
اقوام متحدہ کے ریلیف چیف ٹام فلیچر کا کہنا ہے کہ جنگ اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے قافلے پر حملے کے پیش نظر مصائب زدہ اہلیان غزہ کو بچانے کی کوششوں کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے میں غیرقانونی یہودی آباد میں تین اسرائیلیوں کو فائرنگ سے ہلاک کرنے والے دو فلسطینیوں کی تلاش کے لیے آپریشن شروع کر دیا۔