1
حکومت سے مذاکرات کا تیسرا دور ختم، پی ٹی آئی کا 2 انکوائری کمیشن بنانے کا مطالبہ،حکومت اور تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ایک گھنٹہ 40 منٹ جاری رہا، اجلاس کی صدارت سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کی جس میں پی ٹی آئی نے تحریری طور پر اپنے مطالبات کا مسودہ پیش کر دیا۔حکومتی کمیٹی میں عرفان صدیقی، رانا ثنا اللہ، خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار شامل تھے جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے عمر ایوب، اسد قیصر، علی امین گنڈا پور، علامہ راجہ ناصر عباس اور صاحبزادہ حامد رضا کمیٹی کا حصہ تھے۔
پاکستان تحریک انصاف نے حکومت سے مذاکرات کیلئے مطالبات کا ڈرافٹ تیار کیا اور اپوزیشن لیڈر عمرایوب کے لیٹر پیڈ پر ڈرافٹ تیار کیا گیا، پی ٹی آئی کے مطالباتی ڈرافٹ تین صفحات پر مشتمل ہیں۔
چارٹر آف ڈیمانڈ 2 نکات اور 3 صفحات پر مشتمل ہے، عمر ایوب نے تحریری مطالبات کا ڈرافٹ سپیکر قومی اسمبلی کے سامنے رکھا، اپوزیشن لیڈر نے تحریری مطالبات کمیٹی اجلاس میں پڑھ کر بھی سنائے۔
2
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف سے ملاقات کی تصدیق،ہ پشاور میں میری اور علی امین گنڈا پور کی آرمی چیف سے ملاقات ہوئی ہے، آرمی چیف سے ملاقات خوش آئند ہے۔ ملاقات میں آرمی چیف کے سامنے پی ٹی آئی کے تمام معاملات اور مطالبات رکھے ہیں، امید ہے اب صورتحال بہتر ہو جائے گی، مذاکرات خوش آئند ہیں، میں شروع سے یہی کہہ رہا تھا چیزیں بہتر ہونی چاہئیں۔
آرمی چیف سے ملاقات میں ملکی استحکام کے حوالے سے تمام امور پر بات چیت ہوئی، دوسری جانب سے بھی مثبت جواب ملا ہے۔ اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو
3
سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس میں کہا ہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ترمیم کا اطلاق نو مئی کے واقعات پر نہیں ہوسکتا۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بنچ نے کیس کی سماعت کی، بنچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے، وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے آج بھی دلائل دیئے۔
وکیل وزارت دفاع خواجہ حارث نے آج بھی دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ سیکشن 2 ڈی ون اگر درست قرار پاتا ہے تو نتیجہ کیا ہوگا؟قانون کے سیکشنز درست پائے تو یہ ٹرائل کیخلاف درخواستیں نا قابل سماعت تھیں، ملٹری ٹرائل میں پورا پروسیجر فالو کیا جاتا ہے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ ایف آئی آرز میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات نہیں تھیں، 28 ملزمان کو سزائیں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات 3 اور 7 کے تحت ہوئیں، ترمیم سے پہلے والا آفیشل سیکرٹ ایکٹ کیا تھا اس کا جائزہ لیں گے۔وکیل وزارت دفاع نے جواب دیا کہ ایف آئی آرز میں دفعات تو بعد میں بھی شامل کی جا سکتی ہیں، اس پر جسٹس نعیم افغان نے ریمارکس دیئے کہ ملزمان کو تو تفتیش کی سطح پر ہی فوج کے حوالے کر دیا گیا تھا، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ فوج میں ایف آئی آر میں دفعات شامل کرنے کا طریقہ کار بھی بتائیں۔
بعدازاں سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کیخلاف اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی کردی، وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کل بھی دلائل جاری رکھیں گے۔
4
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے دن رات کام کر کے ملک کو ڈیفالٹ کے خطرے سے نکالا۔لوگ کہہ رہے تھے ملک ڈیفالٹ کرجائے گا، اب تمام اکنامک انڈیکیٹرز بہتری کی جانب گامزن ہیں، سٹاک مارکیٹ نے تاریخی ریکارڈ توڑا ہے، دنیا کے سرمایہ کار پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کل اعلان کیا بجلی کی قیمت 11 روپے مزید کم ہوگی، دنیا کے ماڈلز کی سٹڈی کرتی ہوں، کسی ملک نے انڈسٹریلائزیشن کے بغیر ترقی نہیں کی، ہمیں بھی انڈسٹریلائزیشن کی طرف جانا ہے، آج شاندار پیکیج لیکر پنجاب کےعوام کے سامنے آئی ہوں، آج وزیراعلیٰ آسان کاروبار فنانس ،وزیراعلیٰ آسان کاروبار کارڈ لارہے ہیں۔
منصوبے کے تحت آپ کو 3 کروڑ روپے تک کا بلاسود قرضہ ملے گا، ہم نے آپ کے لیے بزنس پلان بھی بنادیئے ہیں، ہم آپ کیلئے ہینڈ ہولڈنگ کا سسٹم بھی ڈویلپ کررہے ہیں، آپ آج پیسے لے لیں اور کل اپنا کاروبار شروع کردیں، چھوٹی فیکٹری یا پلانٹ لگانے کیلئے زمین رعایت پر دیں گے۔لاہور میں آسان کاروبار فنانس اورآسان کاروبارکارڈکی افتتاحی تقریب سے خطاب
5
گوشوارے جمع نہ کرانے کا معاملہ، 139 اراکین اسمبلی کی رکنیت معطل،الیکشن کمیشن کے مطابق سینیٹر عبدالقدوس اورسینیٹر قاسم کی رکنیت معطل کردی گئی، قومی اسمبلی کے 16 اور پنجاب اسمبلی کے 68 اراکین کی رکنیت معطل ہو گئی۔خیبرپختوانخوا اسمبلی کے 33 ، سندھ اسمبلی کے 15 اور بلوچستان اسمبلی کے 5 اراکین کی رکنیت گوشوارے جمع نہ کرانے پر معطل کی گئی ہے۔
6
لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی 9 مئی کے 8 مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر فریقین کو نوٹسز جاری کردئیے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے عمران خان کی درخواستوں پر سماعت کی، بانی پی ٹی آئی نے جناح ہاؤس حملہ کیس سمیت دیگر مقدمات میں درخواست ضمانت دائر کی ہے۔
درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا کہ نو مئی والے دن اسلام آباد میں نیب کی تحویل میں تھا، سیاسی انتقام کے لیے سازش کا الزام لگا کر مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے، دو سال سے مقدمات کا سامنا کر رہا ہوں، انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے۔
درخواست میں عمران خان کی جانب سے استدعا کی گئی کہ لاہور ہائیکورٹ 8 مقدمات میں ضمانت منظور کر کے رہائی کا حکم دے۔بعدازاں عدالت عالیہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی 9 مئی کے 8 مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے۔
7
رہنما تحریک انصاف و سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی پر بنائے گئے تمام کیسز بوگَس ہیں، عمران خان پر مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے۔ ہمارے مقدمات چل رہے ہیں،عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں، ہم قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں، درخواست ہے ہمارے کارکنان کو رہا کیا جائے۔
ملک میں گزشتہ 2 سال سے سیاسی عدم استحکام کا سلسلہ چل رہا ہے، توقع رکھ رہے تھے 190 ملین پاؤنڈ کا فیصلہ ایک ہفتے پہلے کیا جائے گا ، بانی پی ٹی آئی پر جو بھی کیسز ہیں وہ سب بوگَس ہیں، عمران خان پر سیاسی بنیادوں پر کیسز بنائے گئے ہیں، سابق وزیراعظم پر بنائے کیسز عدالتوں میں ٹھہر نہیں سکتے۔پشاور ہائیکورٹ آمد کے موقع پر میڈیا سے گفتگو


