1
اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی دن، 100 انڈیکس میں کمی،کاروباری دن کے اختتام پر 100 انڈیکس 658 پوائنٹس کی کمی کے بعد ایک لاکھ 13 ہزار 836 پوائنٹس پر بند ہوا۔کاروباری دن میں 100 انڈیکس 1254 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا۔بازار میں آج 46.9 کروڑ شیئرز کے سودے 24.9 ارب روپے میں طے ہوئے جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 108 ارب روپے کم ہوکر 14 ہزار 88 ارب روپے ہے۔
2
عمران خان اور بشریٰ بی بی کیخلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ کل سنایا جائےگا۔ذرائع کے مطابق عدالتی عملے کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکلا کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا کل جمعہ کے روز ساڑھے گیارہ بجے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا محفوظ فیصلہ سنائیں گے۔
3
اسرائیلی کابینہ سے جنگ بندی ڈیل کی منظوری نہ لی جاسکی، نیتن یاہو کے حماس پر الزامات،رپورٹ کے مطابق جنگ بندی معاہدے کے لیے آج ہونے والی اسرائیلی کابینہ کی میٹنگ بھی اب تک نہیں ہوسکی ہے اور اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم نے الزام عائد کیا ہے کہ حماس آخری وقت میں معاہدے سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔
اس حوالے سے حماس کے ایک رہنما نے غیر ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حماس جنگ بندی سے متعلق اپنی باتوں پر قائم ہے۔اس سے قبل جنگ بندی اعلان کے بعد اسرائیلی حکومتی اتحاد میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے تھے اور نیتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں نے حکومت سے الگ ہونے کی دھمکی دی ہے۔
4
ٹک ٹاک کا 19 جنوری کو امریکا میں ایپ کو مکمل شٹ ڈاؤن کرنے پر غور،اگر ٹک ٹاک کی جانب سے اس کے امریکا میں آپریشنز کو 19 جنوری تک فروخت نہیں کیا جاتا تو اپریل 2024 میں صدر جو بائیڈن کے دستخط کردہ قانون کے تحت اس پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔اس قانون کے تحت ٹک ٹاک کی سرپرست کمپنی بائیٹ ڈانس کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ طے شدہ وقت میں امریکا میں اپنے اثاثے فروخت کردے، ورنہ ایپ پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔
5
آرمی چیف اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملاقات کے حوالے سے وضاحت سامنے آگئی۔ذرائع کا کہنا ہےکہ بیرسٹرگوہر اور علی امین گنڈاپور سے پشاور میں بات چیت سکیورٹی صورت حال پر ہوئی، دونوں رہنماؤں سے بات چیت انسداد دہشت گردی کے معاملات کے تناظر میں ہوئی۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں بیرسٹرگوہر نے سیاسی معاملات پر بات کرنے کی کوشش کی، بیرسٹرگوہرکو جواباً بتادیا گیا کہ سیاسی معاملات پربات چیت آپ سیاست دانوں سے کریں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بات چیت کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور سکیورٹی معاملات پر ہونے والی بات چیت کو سیاسی رنگ دینےکی کوشش کی گئی۔


