1
تجزیہ نگار ماجد نظامی نے ملکی سیاسی صورتحال کے حوالے سے اہم گفتگو کی اور پاکستان تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان رابطوں پر بھی اظہار خیال کیا۔کہا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) عمران خان کی اقتدار میں واپسی کا راستہ کٹھن ہے اور اس میں ابھی بہت سے ’ اگر مگر ‘ موجود ہیں۔سوال کے جواب میں تجزیہ نگار ماجد نظامی نے شاعر احمد سلیم رفی کا شعر ’ ایک دستک پر وہ دروازہ نہیں کھولے گا، اسے معلوم جو ہے میں نے کھڑے رہنا ہے ‘ سناتے ہوئے کہا کہ ’بیرسٹر گوہر اور علی امین گنڈا پور کے ذریعے تحریک انصاف جو دستک دے رہی تھی وہ اب تھوڑا سا کام میں آنا شروع ہوگئی ہے اور ان کے مقابلے میں مسلم لیگ ( ن ) اس پوزیشن میں نہیں ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی جو حیثیت یا ان کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جو کوآرڈینیشن ہے اس میں ہم وہ تصور بھی نہیں کرسکتے کہ وہ کوئی احتجاج کی صدا بلند کریں گے اور میرا خیال ہے کہ وہ ایک بار پھر سے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں قربانی دینے کا جذبہ رکھتے ہیں ‘ مجھے لگتا ہے کہ یہ پراسیس آگے بڑھے گا، اور مسلم لیگ ن کا جو مزاحمتی گروپ ہے وہ اس پر آواز بلند کرے گا اور ہوسکتا ہے کہ وہ میاں نواز شریف کے جھنڈے تلے کھڑے ہونے کی کوشش کریں ‘۔
2
فوج اورعوام کےدرمیان اعتمادسازی کافقدان ہے : حافظ نعیم الرحمان کا دعویٰ، آرمی چیف سے ملاقات میں حکومتی معاملات پرزیادہ تفصیل سےبات نہیں ہوئی تاہم افغانستان کے معاملے پر بریفنگ دی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت فوج اورعوام کےدرمیان اعتمادسازی کافقدان نظرآتاہے، یہ حکومت، فوج اور سیاسی طاقتوں کی ذمہ داری ہے کہ حکومت ایسے اقدامات کرے جس سے یہ بحران ختم ہو سکے۔ملاقات میں ہم نے جماعت اسلامی کے حوالے سے اپنا موقف پیش کیا ۔
فوج،عوام میں اعتمادسازی کافقدان عوامی مینڈیٹ کےاحترام سےختم ہوسکتاہے، فارم 47 والے برسر اقتدار آجائیں تو ملک میں استحکام نہیں ہو سکتا، جس کے پاس جتنی طاقت ہے،اس کو اتنا ہی ذمہ دار ہونا چاہیے، آرمڈ فورسز نے کہا کسی نئےآپریشن کی ضرورت نہیں، آنے والے چند دنوں میں کچھ وفود افغانستان جائیں گے، ہم نے پیشکش کی جماعت اسلامی سمیت سیاسی قوتوں کو جرگہ کرنا چاہیے، ہم افغانستان سےلڑائی کے متحمل نہیں ہو سکتے، افغان حکومت کو سمجھنا چاہیے ان کے معاملات ہمارے بغیر ٹھیک نہیں ہو سکتے۔
3
پی ٹی آئی نے مطالبات کی آڑ میں بانی کے لئیے "این آر او” مانگ لیا۔ ایک دو روز قبل ہی بانی پی ٹی آئی کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ مجھے کسی کے این آر او کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی میں اس کا طلب گار ہوں۔ اس قبل بھی انہوں نے کچھ اسی طرح کے دعوے کر رکھے ہیں مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔
اب ایک بار پھر این آر او پر یوٹرن سامنے آیا ہے اور پی ٹی آئی کی جانب سے حکومتی مذاکراتی ٹیم کو جو مطالبات تحریری شکل میں پیش کئے گئے ہیں ان میں اس کے این آر او نہ لینے کے دعوئوں کی نفی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ مطالبات میں واضح طور پر یہ تاثر دکھائی دیتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی این آر او مانگ رہے ہیں۔
16جنوری 2025ء کوحکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور میں پی ٹی آئی کی جانب سے جو مطالبات پیش کئے گئے اس میں پہلا مطالبہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کیلئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا جبکہ دوسرا مطالبہ تمام سیاسی قیدیوں کیلئے قانونی مدد یعنی ان کے ریلیف مانگا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی نے 9 مئی 2023 کو بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری اور احتجاجی مظاہروں کی تحقیقات کے لیے شفاف عدالتی کمیشن چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے ججز کی سربراہی میں تشکیل دینے کا کہا ہے۔ مزید برآں، پارٹی نے 9 مئی کے مظاہروں اور نومبر 2024 کے احتجاج سے متعلق گرفتار افراد کے لیے قانونی امداد اور منصفانہ عدالتی عمل کی درخواست کی ہے۔ گزشتہ دنوں بانی پی ٹی آئی کی جانب سے 26ویں آئینی ترمیم اور مینڈیٹ کی واپسی جیسے مطالبات سے دستبرداری کا اعلان کیا گیا تھا۔
4
عالمی سب میرین کیبل میں خرابی دور، انٹرنیٹ سروسز مکمل بحال،ترجمان کے مطابق پی ٹی سی ایل نے اے اے ای ون سب میرین کیبل کی خرابی کو دو ہفتے کے ریکارڈوقت میں حل کردیا ہے، پی ٹی سی ایل نے اضافی بینڈوڈتھ شامل کی تاکہ مسئلے کے دوران خلل کم سےکم ہو۔
5
سرکاری اسکیم کے تحت صرف ایک ہزار 380 نشستیں باقی رہ گئیں۔حج 2025 کے لیے سرکاری سکیم کے تحت درخواستوں کی وصولی کا آخری مرحلہ جاری ہے۔
وزارت مذہبی امور کے مطابق سرکاری سکیم کے تحت صرف ایک ہزار 380 نشستیں باقی رہ گئی ہیں۔گزشتہ پانچ روز کے دوران تین ہزار 120 حج درخواستیں جمع کرائی گئیں جن کے ساتھ ایک ارب 87 کروڑ 20 لاکھ روپے بھی جمع ہوئے۔
ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق ریگولر سکیم کے تحت موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد 81 ہزار 500 سے بڑھ کر 84 ہزار 620 ہو چکی ہے۔ وزارت نے باقی ماندہ محدود نشستوں پر درخواستوں کی وصولی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
6
ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کا خلائی مشن ناکام، اسٹار شپ تباہ، آکسیجن سلینڈر میں لیکیج کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کا تجرباتی خلائی مشن ناکام ہوگیا، اسٹار شپ خلائی سفر پر روانگی کے آٹھ منٹ بعد دھماکے سے پھٹ گیا، ملبہ واپس زمین کی فضاؤں میں داخل ہوا تو حیران کن مناظر دیکھنے کو ملے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق آکسیجن سلینڈر میں لیک کی وجہ سے حادثہ پیش آیا، اگلی بار مزید احتیاطی تدابیر اپنائیں گے۔ ایلون مسک کا کہنا ہے کہ آکسیجن سلینڈر میں لیکیج کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔
7
چیمپئنز ٹرافی کیپٹنز میٹ: روہت شرما پاکستان نہیں جائیں گے، بھارتی میڈیا کا دعویٰ،بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ بھارتی کپتان روہت شرما کے چیمپئنز ٹرافی کی افتتاحی تقریب اور کیپٹنز میٹ کیلئے پاکستان جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ بی سی سی آئی سیکریٹری کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی، کسی صورت پی سی بی کی خواہش پوری نہیں کرینگے۔
چیمپئنز ٹرافی 2025ء کا انعقاد 19 فروری سے پاکستان میں ہونا ہے تاہم بھارت نے اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکار کردیا ہے، جس پر بھارتی ٹیم کے میچز ہائبرڈ ماڈل کے تحت یو اے ای میں ہوں گے، تاہم چند روز قبل یہ خبریں آرہی تھیں کہ افتتاحی تقریب اور کیپٹنز میٹ کیلئے بھارتی کپتان روہت شرما پاکستان آنے کو تیار ہیں۔
8
پاکستان میں تیار کردہ پہلا سیٹلائٹ خلاء میں روانہ کردیا گیا۔پاکستان کے قومی خلائی ادارے سُپارکو کی جانب سے تیارہ کردہ پہلا الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ خلاء میں روانہ کردیا گیا۔
پاکستانی سیٹلائٹ کو چین کے جی چھوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے خلاء میں بھیجا گیا، سیٹلائٹ لے جانیوالے لانگ مارچ ٹو ڈی راکٹ پر پاکستان کا قوم پرچم بھی لگایا گیا تھا۔ای او ون۔ مقامی طور پر تیار کردہ جدید سیٹلائٹ ہے جسے وسیع مقاصد کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے، اس میں ماحولیاتی نگرانی، زراعت، دفاع اور دیگر امور کی نگرانی کی صلاحیت موجود ہے۔