1
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کرپشن کے مجرم ثابت ہو چکے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی مخالفین کو چور ڈاکو کہتے رہے،190ملین پاؤنڈ تاریخ کا سب سے بڑا کرپشن سکینڈل ہے۔
دوسروں کو چور کہنے والا خود تاریخ کا سب سے بڑا چور نکلا، بانی پی ٹی آئی کرپشن کے مجرم ثابت ہوئے چکے ہیں، کیا مسجد اور خیراتی ادارہ بنانے سے رشوت کا پیسہ حلال ہوجاتا ہے؟پوری پی ٹی آئی سب سے بڑی چوری پر وکیل صفائی بنی ہوئی ہے بانی پی ٹی آئ نے پاکستانی قوم کا 64ارب روپے کھایا ہے، 64ارب سے ہزاروں سکول بن سکتے تھے، ملک میں کئی ڈسپنسریاں بن سکتی تھیں۔
2
رہنما مسلم لیگ ن طلال چودھری نے کہا ہے کہ بغاوت ہو یا کرپشن، کسی بھی شخص کو معافی نہیں ملےگی۔بانی پی ٹی آئی نےکیس میں مختلف حیلے بہانے کیے، 190ملین پاؤنڈ کیس اوپن اینڈ شٹ کیس تھا۔بغاوت ہویا کرپشن،کسی بھی شخص کومعافی نہیں ملےگی، کیس میں تمام قانونی مراحل کومکمل کیا گیا، تحریک انصاف نے کیس میں ہرقسم کے تاخیری حربےاستعمال کیے۔
غلامی نامنظور کہنے والے امریکا سے مدد مانگتے رہے، پی ٹی آئی دورمیں کرپشن کے تمام تانے بانے بنی گالہ سے ملتے ہیں، آج کے فیصلے سے این آر او کی افواہیں دم توڑ گئی ہیں۔طلال چودھری کی فیصل آباد میں پریس کانفرنس
3
190 ملین پاؤنڈز کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کا تحریری فیصلہ جاری،تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان القادر ٹرسٹ کیس میں بدعنوانی اور کرپٹ پریکٹسز کے مرتکب پائے گئے، انہیں نیب آرڈیننس 1999 کے تحت مجرم قرار دیا جاتا ہے، عمران خان کو 14 سال قید بامشقت اور 10 لاکھ جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے۔
عدالتی فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کو کرپشن میں سہولت کاری اور معاونت پر مجرم قرار دیا جاتا ہے، انہیں 7 سال قید بامشقت اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے جبکہ القادر ٹرسٹ کی پراپرٹی وفاقی حکومت کے سپرد کی جاتی ہے۔
تحریری فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں مجرموں کو 4 مارچ 2021ء میں ڈونیشن قبولیت کی دستاویز پر دستخط کرنے پر نتائج بھگتنا ہوں گے، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کے جوائنٹ اکاؤنٹ کے دستخط کنندہ ہیں، اس مقدمے کا زیادہ تر دارومدار دستاویزی ثبوتوں پر ہے۔
4
سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف سے بنگلہ دیش کی مسلح افواج ڈویژن کے پرنسپل سٹاف افسر لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم قمر الحسن نے ملاقات کی ۔ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی میری ٹائم سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، بحری افواج کے درمیان تربیت، دو طرفہ دوروں اور بحری مشقوں کے انعقاد پر زور دیا گیا۔
5
کے پی حکومت کا نگران دور میں بھرتی سرکاری ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ،نگران دور میں بھرتی ہونے والے سرکاری اہلکاروں کو نکالنے کے لئے قانون تیار کر لیا گیا، خیبر پختونخوا ملازمین (سروسز سے ہٹانا) بل 2025 اسمبلی ایجنڈے میں شامل تھا۔بل کا اطلاق 22 جنوری 2023 سے 29 فروری 2024 کے دوران ہونے والی بھرتیوں پر ہوگا، بچوں اور اقلیتی کوٹہ کے ساتھ ساتھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہونیوالی بھرتیوں کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔
مجوزہ بل کے مطابق نگران دور کے ملازمین کو نکالنے میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لئے کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ 7 رکنی کمیٹی کی سربراہی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کریں گے۔ملازمین کے حوالے سے کمیٹی کا فیصلہ حتمی ہوگا، تمام ادارے نگران دور کی بھرتیوں کے حوالے سے 30 دن میں رپورٹ مرتب کریں گے۔بل کا مقصد حکومت کے وسیع تر مفاد میں نگران دور کی بھرتیوں کو غیرقانونی قراردینا ہے۔
6
چیف جسٹس کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس، ججز کی تعیناتیوں پر غور،سپریم کورٹ ذرائع کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ اور بلوچستان ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کی تعیناتی پر غور کیا جائے گا ۔
سپریم کورٹ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں 4 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کیلئے 20 نام زیر غور ہیں جبکہ بلوچستان ہائیکورٹ میں 3 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کیلئے 11 ناموں پر غور کیا جائے گا۔ذرائع نے بتایا ہے کہ جوڈیشل کمیشن اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کیلئے 4 جبکہ بلوچستان ہائیکورٹ کیلئے 3 ایڈیشنل ججز کی نامزدگیوں پر غور ہو گا ۔
7
ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے پر کے پی اسمبلی کے 33 اراکین کی رکنیت معطل،علاوہ ازیں مشیر صحت احتشام علی اور معاون خصوصی امجد علی کی رکنیت بھی معطل ہے ،اسمبلی سیکرٹریٹ نے معطل ارکان کے ایوان میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔رکنیت معطل ہونے والوں میں 26 حکومتی اراکین بھی شامل ہیں ، صوبائی وزراء مینا خان آفریدی اور عدنان قادری کی رکنیت بھی معطل کردی گئ۔
8
وڈیشل کمیشن اجلاس کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کی نامزدگی کے معاملہ پر اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کیلئے ایڈیشنل ججز کی نامزدگی کیلئے چار میں سے دو ناموں پر اتفاق کر لیا گیا۔سیشن جج اعظم خان اور سابق صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار راجہ انعام امین منہاس کے نام پر اتفاق کیا گیا ہے۔
9
غزہ میں جنگ بندی ڈیل کے اعلان کے باوجود بھی اسرائیل کے حملے جاری ہیں جس کے نتیجے میں اب تک 113 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔
عرب میڈیا کا بتانا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کا اعلان ہوتے ہی گزشتہ دنوں فلسطینی عوام نے جشن منایا مگر اس دوران بھی غزہ پر اسرائیلی حملے نہیں رکے۔رپورٹ کے مطابق جنگ بندی اعلان کے بعد ہونے والے اسرائیلی حملوں میں 28 بچوں سمیت اب تک 113 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اور 246 زخمی ہوئے۔
جنگ بندی اعلان ہونے کے بعد نیتن یاہو کو اپنے اتحادیوں اور اسرائیل میں دائیں بازو کی قوتوں کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے جس کی وجہ سے اسرائیلی کابینہ نے اب تک جنگ بندی ڈیل کی باضابطہ منظوری نہیں دی۔اسرائیلی میڈیا کا بتانا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے آج اپنے اتحادیوں سے ملاقات کی اور آج ہونے والے کابینہ اجلاس میں ڈیل کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔