1
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حجاج کرام اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں، ان کی معاونت میں کسی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کروں گا۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت حج 2025 کی تیاریوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، چودھری سالک حسین اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں وزیرِ اعظم کو حج 2025 کی تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، اجلاس کے شرکاء کو حج فنڈ پر پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اس پر کام حتمی مراحل میں ہے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی حجاج کرام کو سمز کی فراہمی پاکستان سے کی جائے گی اور حجاج کی معاونت کیلئے حج موبائل ایپلی کیشن بھی فعال ہے۔
وزیرِ اعظم نے حج 2025 میں معاونینِ حج کے انتخاب کے طریقہ کار، ان کی ذمہ داریاں اور دیگر انتظامات پر تفصیلات طلب کرلیں اور حج ڈیوٹی پر اچھی شہرت کے قابل افسران تعینات کرنے کی ہدایت کی۔ حج 2025 کی تیاری میں کسی قسم کی لاپرواہی قبول نہیں، حجاج کرام کو ہر قسم کی معاونت و سہولت کی فراہمی یقینی بنائی جائے، حج کی تیاریوں کے حوالے سے ایک جامع بریفنگ تیار کرکے آئندہ چند روز میں پیش کی جائے۔
2
بنچز کے اختیارات کا کیس مقرر نہ ہونے کا معاملہ، ایڈیشنل رجسٹرار کو شوکاز نوٹس، سپریم کورٹ میں بنچز کے اختیارات کا کیس مقرر نہ ہونے کے معاملے پر جسٹس منصور علی شاہ نے ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ نذر عباس کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔سپریم کورٹ میں آئینی بنچز اور ریگولر بنچز کے اختیارات کے معاملے پر سماعت ہوئی، جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ کے سامنے مقدمہ میں فریق کے بیرسٹر صلاح الدین پیش ہوئے۔وکیل بیرسٹر صلاح الدین نے عدالت کو بتایا کہ کراچی سے صرف اسی کیس کیلئے آیا ہوں لیکن کاز لسٹ جاری نہیں ہوئی، عدالت نے آج کیلئے کیس مقرر کرنے کا حکم دیا تھا۔جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس میں کہا کہ ہمیں اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا، ایڈیشنل رجسٹرار کو فوری بلائیں تاکہ پتہ چلے کیس کیوں نہیں مقرر ہوا۔
3
حکومت کا سانحہ 9 مئی سے متعلق جوڈیشل کمیشن نہ بنانے کا فیصلہ، جس کے بعد حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں ڈیڈ لاک پیدا ہونے کا امکان ہے۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے پی ٹی آئی کے مطالبات کا جواب تیار کرلیا، حکمران جماعت نے 9 مئی سے متعلق جوڈیشل کمیشن تشکیل نہ دینے کا عندیہ دیدیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قانونی ٹیم نے حکومت کو 9 مئی سے متعلق جوڈیشل کمیشن نہ بنانے کی رائے دے دی۔ذرائع کے مطابق حکمران اتحاد کا موقف ہے کہ عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات پر جوڈیشل کمیشن نہیں بن سکتا، ، جوڈیشل کمیشن ان معاملات پر بنتا ہے جو عدالت میں زیربحث نہ ہوں، نو مئی سے متعلق عدالتوں میں چالان پیش ہو چکے ہیں، نو مئی کا کوئی سیاسی قیدی نہیں، پی ٹی آئی مطالبات کا حقائق سے تعلق نہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریری جواب میں کہا گیا کہ 26 نومبر سے متعلق لاپتہ افراد کی فہرست اور گرفتار افراد کی تفصیلات فراہم کی جائیں، گرفتار افراد کے نام، تفصیلات نہ ہونے تک رہائی کیلئے کیسے کوئی اقدام کیا جاسکتا ہے؟ذرائع کے مطابق حکومتی جواب میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ ہلاکتیں ہوئیں ان کی بھی تفصیلات فراہم کی جائیں، حکومتی کمیٹی آئندہ چند دنوں میں سپیکر قومی اسمبلی کو اپنے تحریری جواب پیش کر دے گی، سپیکر حکومتی جواب موصول ہونے پر مذاکرات کیلئے چوتھے اجلاس کا فیصلہ کریں گے۔
4
اسلام آباد ہائیکورٹ میں 2 ایڈیشنل ججز نے حلف اٹھا لیا۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے ایڈیشنل ججز راجہ انعام امین منہاس اور محمد اعظم خان سے حلف لیا۔تقریب حلف برداری میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز، جوڈیشل افسران، بار کونسل اور بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے شرکت کی۔
یاد رہے کہ دو روز قبل صدر مملکت آصف علی زرداری کی منظوری سے وزارت قانون نے ججز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس کے مطابق راجہ انعام امین منہاس اور اعظم خان اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایڈیشنل جج تعینات ہوئے۔وزارت قانون کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ دونوں ججز کو ایک سال کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تعینات کیا جاتا ہے۔
5
زنا کے الزام میں گرفتار ملزم کی درخواست ضمانت پر آئی جی پنجاب دوبارہ طلب،چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے کیس کی سماعت کی ، فل بنچ میں جسٹس فارق حیدر اور جسٹس علی ضیا باجوہ بھی شامل تھے، عدالتی حکم پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خالد اسحاق ،پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ اور آئی جی پنجاب سمیت ایف آئی اے کے افسران بھی پیش ہوئے ۔
دوران سماعت چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل کو بلایا تھا وہ کیوں نہیں آئے، یہ پورے ملک کا معاملہ ہے اٹارنی جنرل کو پیش ہونا چاہیے تھا جس پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خالد اسحاق نے عدالت کو بتایاکہ جب سے اینٹی ریپ ایکٹ بنا ڈیڑھ لاکھ کیسز رجسٹرڈ ہوئے ۔جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں ہر پندرہ منٹ کے بعد ایک ریپ ہو رہا ہے، ہم تو آپ کے حساب سے بھارت سے آگئے نکل گئے ہیں ، بھارت تیسرے نمبر پر ہے وہاں ہر پندرہ منٹ میں ریپ ہو رہا ہے ،پنجاب حکومت کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر دس منٹ بعد ریپ ہو رہا ہے ۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہاکہ یہ سب کیسز ریپ کے نہیں ہیں،پنجاب کے ہر سنٹر میں ایسے کیسز کے لیے خواتین تعینات ہیں ، میڈیکل آفیسر اور باقی کو ٹریننگ کروائی جا رہی ہے، جھوٹے مقدمات درج کرانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے، عدالتی احکامات پر بہت سی خامیاں دور کی گئی ہیں ،میڈیا میں ایسے بات آ رہی ہے کہ پاکستان میں ریپ کیسز بہت ہی زیادہ ہیں، رپورٹ میں کارروائی کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔
جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ریمارکس میں کہا کہ جن لوگوں نے جھوٹے ریپ کے مقدمات درج کرائے انکے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ۔جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیئے کہ رولز میں کچھ ترمیم کی بھی ضرورت ہے ، ایڈووکیٹ جنرل حکومت کے علم میں لائیں، آئی جی پنجاب، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور ایف آئی اے سب مل کر بیٹھ جائیں رولز میں کمی کوتاہی کو دور کریں۔بعدازاں لاہور ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل،ایڈووکیٹ جنرل ،پراسیکیوٹر جنرل اور آئی جی پنجاب کو 10فروری کو دوبارہ طلب کرلیا۔
6
سنیل گواسکر نے چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کو فیورٹ قرار دے دیا۔ایک انٹرویو کے دوران پاکستان کو چیمپئنز ٹرافی کیلئے فیورٹ قرار دیتے ہوئے سابق بھارتی کرکٹر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنے میدانوں پر کھیلنے کا بڑا فائدہ حاصل ہوگا، اس ٹورنامنٹ کیلئے میزبان ٹیم پاکستان کو فیورٹ قرار دیا جانا چاہیےکیونکہ کسی بھی ٹیم کو ان کے اپنے ملک میں ہرانا بہت مشکل ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2023 میں بھارت میں ہونے والے ون ڈے ورلڈ کپ میں بھارتی ٹیم نے شاندار کارکردگی دکھائی تھی ، بھارتی ٹیم کو فائنل میں بھلے شکست ہوئی لیکن ایونٹ میں مسلسل 10میچز بھارت نے جیتے۔واضح رہے کہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 19 فروری سے پاکستان میں شروع ہورہی ہے جبکہ بھارت اپنے تمام میچز یو اے ای میں کھیلے گا۔
7
لاہور پولیس نے ڈرون کے ذریعے کروڑوں روپے کی منشیات کی ترسیل ناکام بنادی۔ برکی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بذریعہ ڈرون منشیات کی سمگلنگ ناکام بناتے ہوئے 3 رکنی گینگ کو گرفتار کرلیا، گرفتار ملزمان میں عثمان ، وسیم اور طارق شامل ہیں۔
پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ گرفتار ملزمان سے کروڑوں روپے مالیت کی ساڑھے 6 کلو سے زائد ہیروئن، ڈرون، بیٹریاں اور دیگر سامان برآمد کیا گیا ہے، ملزمان نے پشاور سے بذریعہ آنلائن منشیات منگوا کر مختلف اضلاع میں سپلائی کرنے کا اعتراف کیا ہے۔حکام کا مزید کہنا ہے گرفتارتینوں ملزمان عثمان ، وسیم اور طارق کیخلاف انسداد منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر لئے گئے ہیں


