1
وزیراعظم کی قومی اسمبلی آمد پر اپوزیشن کی ہلڑ بازی، ایوان مچھلی منڈی بن گیاحکومتی اراکین کی جانب سے ڈیسک بجا کر استقبال کیا گیا اور نعرے بازی کے باعث ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا ۔قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف کے پہنچتے ہی پی ٹی آئی کے ارکاراکین نے احتجاج شروع کردیا۔ اس موقع پر انہوں نے اوووو اوووو کی آوازیں لگانی شروع کردیں۔
پی ٹی آئی ارکان قومی اسمبلی کے احتجاج پر مسلم لیگ ن کے اراکین نے بھی جوابی نعرے بازی کی۔ اس موقع پر ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا جب کہ مسلم لیگ ن کے ارکان نے وزیراعظم کے گرد حفاظتی دیوار بھی بنائی۔وقفہ سوالات میں اپوزیشن کی جانب سے مسلسل شور شرابہ کیا جاتا رہا جس پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ہیڈ فون لگا کر جوابات دینے کی کوشش کی جبکہ سپیکر سمیت تمام حکومتی اراکین کو بھی ہیڈفونز لگانا پڑ گئے ۔
قومی اسمبلی میں حکومتی اراکین کی جانب سے شیر آیا شیر آیا کے نعرے بھی لگائے گئے ۔پی ٹی آئی اراکین کی ہلڑ بازی کے باعث اسپیکر ہی نہیں تمام حکومتی ارکان کو بھی ہیڈ فون لگانا پڑے۔
2
پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن سے متعلق کیس کی سماعت 11 فروری تک ملتوی،منگل کے روز الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق کیس کی سماعت کی جس کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، اکبرایس بابر اور دیگر درخواست گزار بینچ کے سامنے پیش ہوئے۔
دوران سماعت درخواستگزار اکبرایس بابر نے پی ٹی آئی قیادت کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے پارٹی کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کی درخواست کی اور موقف اختیار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کیس کو طوالت دے رہی ہے، یہ گھس بیٹھیے ہیں، ہماری درخواست ہے کہ الیکشن کمیشن پارٹی کے اکاؤنٹس منجمد کرے ، یہ غیرقانونی قیادت ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے پانچوں درخواستگزاروں کو پارٹی سے لاتعلق قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے پارٹی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا مطالبہ دہرایا۔
چیف الیکشن کمشنر نے بیرسٹر گوہر سے استفسار کیا آپ نے 9 ماہ میں درخواست گزاروں کے جواب کیوں جمع نہیں کروائے جس پر بیرسٹر گوہر نے جواب دینے کے لیے دو تین ہفتے کی مہلت دینے کی استدعا کی جسے الیکشن کمیشن نے منظور کرلیا۔بعدازاں، کیس کی سماعت 11 فروری تک ملتوی کردی گئی۔
3
سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل کو او ایس ڈی بنادیا گیا۔سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کو او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے اور اس حوالے سے ایڈیشنل رجسٹرار ایڈمن نے آفس آرڈر جاری کر دیا ہے۔
نذرعباس کو جسٹس منصور علی شاہ کے بینچ نے توہین عدالت کا نوٹس جاری کر رکھا ہے اور سپریم کورٹ انہیں ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم بھی دے چکی ہے۔سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے آئینی ترمیم کے بعد بینچ کے اختیارات سے متعلق کیس کی سماعت مقرر نہ ہونے کے معاملے پر توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔
عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ بتایا جائے مقدمہ سماعت کیلئے آج مقرر کیوں نہ ہوا؟، ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل کل صبح ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔
4
وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے پاکستان پوسٹ کو ریونیو 14 ارب تک بڑھانے کا ٹاسک سونپ دیا۔وفاقی وزیر مواصلات، نجکاری و سرمایہ کاری بورڈ عبدالعلیم خان کی زیر صدارت پاکستان پوسٹ کا جائزہ اجلاس ہوا جس میں انہوں نے پاکستان پوسٹ کو 30 جون تک ریونیو 14 ارب تک بڑھانے کا ٹاسک سونپا ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان پوسٹ نے 1.4 بلین روپے مالیت کے نئے کاروبار بڑھانے کے اقدامات کیے ہیں، اخراجات میں کمی کے اقدامات سے رواں مالی سال 2.4 بلین روپے کی بچت ہوگی جبکہ بقایا جات کی وصولی اور پوسٹ آفس کی بلڈنگز کو کرایہ پر دینے سے بھی محصولات میں اضافہ ہوگا۔
5
پارلیمانی شفافیت پرفافن کی نئی جائزہ رپورٹ جاری،رپورٹ کو بین الپارلیمانی تنظیم کے فریم ورک کومدنظر رکھ مرتب کیاگیا۔ فافن رپورٹ میں سینیٹ،قومی اسمبلی اورچاروں صوبائی اسمبلیوں کی ویب سائٹس کا جائزہ لیا گیا، آئی پی یومعیارپر سینیٹ ویب سائیٹ نےسب سے زیادہ یعنی 69 فیصد عمل کیا،پنجاب اسمبلی نے 64 فیصد،قومی اسمبلی نے 61 فیصد عمل کیا۔
فافن جائزہ رپورٹ کےمطابق خیبرپختونخوا اسمبلی نے51 فیصد،سندھ اسمبلی نے 40 فیصد،بلوچستان اسمبلی نے 38 فیصد عمل کیا،یہ عدم مطابقت،سیاسی پولرائزیشن ماحول میں غلط معلومات کےخطرات بڑھاتی ہیں،اپ ڈیٹ معلومات کیلئے پارلیمانی ویب سائیٹ متحرک مرکز کے طور پر ابھریں۔
6
ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹاک ٹاک پر پابندی کو 75 دن تک ملتوی کردیا۔رپورٹس کے مطابق امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدہ سنبھالتے ہی اپنے وعدے کے مطابق ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت امریکا میں ٹک ٹاک پر پابندی کو 75 دن تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
امریکی صدر کی جانب ایگزیکٹو آرڈر میں کہا گیا کہ وہ اپنے مشیروں سمیت دیگر حکام سے مشاورت کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جبکہ انہوں نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ 75 دن پلیٹ فارم کے خلاف پابندی کے حوالے سے اقدامات نہ کریں۔