1
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا کہ پولیس موبائل کی جگہ بلٹ پروف گاڑیوں کا بندوبست کر رہے ہیں۔ ہمارا بارڈر خطے کے لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے، جوانوں کی قربانیاں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ہماری فورسز اتنی قابل ہیں کہ انہوں نے سپرپاور کو شکست دی ہے، شہداء کا کوٹہ سسٹم بحالی ودیگر مراعات کو صوبائی حکومت نے پہلی فرصت میں حل کیا۔پولیس افسران کیلئے بلٹ پروف گاڑیاں دے رہے ہیں، پولیس کی ٹریننگ 9 ماہ کے بجائے 90 دن کرنے کی پالیسی بنا رہے ہیں۔پولیس ٹریننگ سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب
2
رواں ماہ کے آخر تک لاہور میں الیکٹرک بسیں چلانے کا فیصلہ،سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت پنجاب میں ترقیاتی سکیموں کا ساتواں جائزہ اجلاس ہوا جس میں چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نبیل احمد اعوان،سیکرٹری آصف طفیل اورمتعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریز نے شرکت کی۔
اجلاس میں 27 وزارتوں اور محکموں کی کارکردگی ، جاری سکیموں اور نئے منصوبوں پر غور کیا گیا، ٹرانسپورٹ،معدنیات، ماہی گیری، ماحول، جنگلات اور جنگلی حیات کاتحفظ، لیبر، لائیو سٹاک، اوقاف، کموڈیٹیز مینجمنٹ کی وزارتوں اور محکموں کا جائزہ لیا گیا ۔سینئر صوبائی وزیر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں داخلہ، پولیس، جیل خانہ جات، ہائیکورٹ، قانون و انصاف،خواتین اور تمام طبقات کے انسانی حقوق کا تحفظ اور ترقی،سماجی بہبود کے منصوبوں پر پیشرفت بھی گفتگو ہوئی۔
اجلاس میں بورڈ آف ریونیو، خزانہ، زکوۃ و عشر، ایس اینڈ جی ڈی، تعمیرات ومواصلات،پنجاب اسمبلی، آرکائیوز اینڈ لائبریریز،ہائر ایجوکیشن اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے محکموں کی سالانہ ترقیاتی سکیموں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ محکموں کے ساتھ افسران کی کارکردگی بھی مانیٹر ہو رہی ہے، منصوبوں کی رفتار، معیار اور گورننس پر سمجھوتا نہیں ہوگا۔
3
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہرام خان ترکئی نے کہا ہے کہ ملکی مفاد میں پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے تیار ہوئی ہے۔ غلط اور صحیح جاننے کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں، اب پتہ چلے گا کہ حکومت مذاکرات کے بارے میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق کو بھی کردار ادا کرنا ہو گا، کرم میں امن و امان کی صورت حال کے لیے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور متحرک ہیں، ملاقات جو بھی ہوئی ہے، آگے نتائج آئیں گے۔پشاور میں میڈیا سے گفتگو
4
9 مئی مقدمات: 6 پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانت کی توثیق،کراچی میں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے روبرو سانحہ 9 مئی کے 2 مقدمات کی سماعت ہوئی۔عدالت نے تحریک انصاف کے 6 رہنماؤں کی عبوری ضمانت کی توثیق کر دی۔
ملزمان میں راجہ اظہر، خرم شیر زمان، فردوس شمیم نقوی، حنیف سواتی، فیضان اور عرفان جیلانی شامل ہیں، ملزمان کیخلاف فیروز آباد اورٹیپو سلطان پولیس نے مقدمات درج کئے تھے۔
5
وزارت خارجہ نے بیرون ممالک جیلوں میں پاکستانی قیدیوں کی تعداد کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کر دیں۔وزارت خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 23 ہزار 456 پاکستان شہری دنیا بھر کے مختلف ممالک کی جیلوں میں قید ہیں، قیدیوں کی سب سے بڑی تعداد خلیجی ممالک میں ہے، سعودی عرب میں 12 ہزار 156 افراد قید ہیں۔
سینیٹ میں جمع کروائے گئے وزارت خارجہ کے جواب میں کہا گیا ہے کہ یو اے ای میں 5 ہزار 292 پاکستانی شہری قید ہیں، یونان میں 811 پاکستانی جیلوں میں قید ہیں جبکہ قطر میں 338 شہری جیلوں میں قید ہیں۔وزارت خارجہ کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ وزارت خارجہ تمام مشنز اور ذیلی مشنز سے سابقہ 10 سالہ اعدادوشمار حاصل کرنے پر عمل پیرا ہے۔
6
شراب و اسلحہ برآمد کیس: علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری کی عدم تعمیل پر عدالت برہم،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد کے سینئر سول جج مبشر حسن چشتی نے علی امین گنڈاپور کے خلاف شراب و اسلحہ برآمدگی کیس کی سماعت کی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے وکیل راجہ ظہور الحسن ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
دوران سماعت علی امین گنڈاپور کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی گئی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہر تاریخ پر آپ استثنیٰ کی درخواست دیتے ہیں، ملزم کو پیش نہیں کرتے۔عدالت نے علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے اور وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہونے پر اظہار برہمی کیا، عدالتی آرڈر پر عملدرآمد نہ کرنے پر ڈی آئی جی آپریشنز سے وضاحت طلب کر لی۔
جج نے ریمارکس دیئے کہ آپ استثنی کی درخواستیں دے کر صرف عدالت کا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں، ملزم کے متعدد بار وارنٹ جاری ہوئے تعمیلی رپورٹ جمع نہیں کرائی جا رہی، بعدازاں عدالت نے 29 جنوری تک کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔
7
ائمہ کمیٹی نے نان فائلرز کو پراپرٹی کی خریداری کی اجازت کیلئے پانچ رکنی ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی۔ایم این اے بلال کیانی کی زیرصدارت ذیلی کمیٹی ایف بی آر اور ’آباد‘ کے ساتھ مل بیٹھ کر بات کرے گی، 10 روز میں ذیلی کمیٹی اپنی رپورٹ قائمہ کمیٹی کو دے۔