1
ڈی آئی خان؛ پولیس کانسٹیبل کا اغوا اور قتل، گھر بھی نذرآتش کردیانعش قریبی کھیتوں سے برآمد ہوگئی۔گزشتہ شب نامعلوم دہشت گردوں نے پولیس کانسٹیبل اختر زمان سکنہ گاؤں گرہ شادہ کے گھر پر اچانک حملہ کر دیا اور مکان کو مکمل طور پر نذر آتش کرتے ہوئے گھر کا سارا سامان تباہ کر دیا۔
حملے کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے پولیس کانسٹیبل اختر زمان کو بھی اغواکر لیا۔ واقعے کے فوراً بعد ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ٹانک اسلم نواز خان نے ہنگامی طور پر پولیس کے تمام متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کیں جن کی روشنی میں متعلقہ ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کی قیادت میں پولیس کی بھاری نفری نے علاقے میں فوری طور پر سرچ آپریشن کرتے ہوئے علاقے کے مختلف حصوں میں چھاپے مارنے اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی تلاش شروع کردی جبکہ حساس علاقوں میں سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا، بعد ازاں کانسٹیبل کی نعش قریبی کھیتوں سے مل گئی۔
ڈی پی او ٹانک کا کہنا ہے کہ آپریشن علاقے کے امن و سکون کی بحالی اور دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے جاری رکھا جائے گا۔ پولیس کی جانب سے ملزمان کے ٹھکانوں کی نشاندہی کرنے کے بعدمزید اضافی نفری بھی آپریشن میں شامل کی گئی ہے تاکہ دہشت گردوں کی گرفتاری میں تیزی لائی جا سکے۔
2
صدرمملکت آصف علی زرداری نے اسلامی نظریاتی کونسل کے 4 اراکین کی تعیناتی کی منظوری دے دی۔وفاقی وزارت قانون نے سلامی نظریاتی کونسل میں 4 اراکین کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے رانا شفیق پسروری کو تین سال کے لیے دوسری مرتبہ اسلامی نظریاتی کونسل میں بطوررکن تعیناتی کی منظوری دے دی۔
صدر مملکت کی جانب سے صاحبزادہ حافظ محمد امجد، سید سعید الحسن اورسید عتیق الرحمان بخاری کو بھی اسلامی نظریاتی کونسل میں بطور اراکین تعینات کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔وفاقی وزارت قانون سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ چاروں اراکین کو تین سال کے لیے تعینات کردیا گیا ہے۔
3
پاور شیئرنگ پر پی پی کی ن لیگ سے مذاکرات کرنیوالی کمیٹیاں تحلیل، زرداری شہباز شریف سے مذاکرات کرینگے۔ پیپلز پارٹی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ختم ہوگیا، پیپلز پارٹی نے ن لیگ سے مذاکرات کے لیے تمام کمیٹیاں تحلیل کردیں۔
ذرائع کے مطابق (ن) لیگ سے پاور شئیرنگ فارمولے پر مذاکرات کا اختیار صدر مملکت کو دے دیا، اب صدر مملکت وزیراعظم سے پاور شئیرنگ فارمولے پر مذاکرات کریں گے۔ذرائع کے مطابق وفاق کی جانب سے زرعی ٹیکس لگانے پر اجلاس کے شرکا نے تحفظات کا اظہار کیا، سی ای سی نے زراعت پر عائد ٹیکس 45 فیصد سے کم کر کے بیس فیصد کرنے کی تجویز دے دی۔
4
وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے جمہوریہ آذربائیجان کے وزیر دفاعی صنعت مسٹر ووگر مصطفائیف نے ملاقات کی جہاں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تعلقات مضبوط اور متنوع بنانے کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف سے جمہوریہ آذربائیجان کے دفاعی صنعت کے وزیرووگر مصطفائیف نے آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی۔اعلامیے میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تعلقات کو مضبوط اور متنوع بنانے کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں بالخصوص تجارت، توانائی، سرمایہ کاری اور دفاعی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کی موجودہ رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔آذربائیجان کے وزیر دفاعی صنعت نے پاکستان میں ان کی اور ان کے وفد کی مہمان نوازی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔
5
خیبرپختونخوا حکومت کا زرعی انکم ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ،نیا قانون "خیبرپختونخوا زرعی انکم ٹیکس بل 2025” کے نام سے موسوم ہوگا۔
منظور ہونے کے بعد یہ یکم جنوری سے نافذ العمل کیا جائے گا۔ مجوزہ خیبرپختونخوا زرعی انکم ٹیکس بل 2025 کے مطابق 6 لاکھ سے 12 لاکھ سالانہ زرعی آمدن پر 15 فیصد ٹیکس عائد ہوگا، 12 لاکھ سے 16 لاکھ تک سالانہ زرعی آمدن پر 20 فیصد اور 16 لاکھ سے 32 لاکھ تک سالانہ زرعی آمدن پر 30 فیصد ٹیکس عائد ہوگاَاسی طرح 32 لاکھ سے 56 لاکھ تک سالانہ زرعی آمدن پر 40 فیصد اور 56 لاکھ سے زائد سالانہ زرعی آمدن پر 45 فیصد انکم ٹیکس کا نفاذ ہوگا ،ایک شخص جس کی زرعی آمدن 15 کروڑ روپے سالانہ سے زائد ہو اس پر سپر ٹیکس لگے گا جس شخص کے پاس ایک پٹوار سرکل سے زیادہ زمین ہو اسکی لوکیشن کی تفصیلات جمع کرائیگا ،مجموعی زرعی آمدن پر ریٹرن بھی جمع کرایا جائیگا۔
50 ایکڑ زیر کاشت اراضی یا ایک سو ایکڑ سے زیادہ غیر کاشت اراضی پر بھی سالانہ زرعی ٹیکس لاگو ہوگا ، کمپنی کے ختم ہونے یا شخص کی وفات کی صورت میں اس کے لواحقین اس کے ذمہ زرعی ٹیکس اور واجبات کو جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔
6
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خیبرپختونخواحکومت نے نگراں دور میں مختلف سرکاری محکموں میں بھرتی ہونے والے 16 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین کو نوکری سے فارغ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے قانونی مسودہ صوبائی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔
پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت نے نگران دور حکومت میں بھرتی ہونے والے سرکاری ملازمین کو نکالنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے بعد صوبائی کابینہ نے باقاعدہ فیصلے کی منظوری دیتے ہوئے وزیر قانون کو تمام محکموں سے بھرتیوں کی تفصیلات جمع کرنے کی ذمہ داری تفویض کی تھی۔ذرائع کے مطابق محکمہ پولیس اور صحت سمیت مختلف محکموں کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات میں 8 ہزار تک بھرتیوں کی نشان دہی ہوئی ہے جس کے بعد صوبائی حکومت نے ان ملازمین کو فوری طور پر ہٹانے کے لیے قانونی مسودہ تیار کرلیا جو جمعے کو اسمبلی میں پیش کردیا گیا۔
صوبائی اسمبلی میں ملازمین کو نوکری سے فارغ کرنے کے لیے تیار کردہ بل کو خیبرپختونخوا ملازمین کو نوکری سے ہٹانے کا بل 2025 کا نام دیا گیا ہے ، بل کے مطابق نگران حکومت کے دوران غیر قانونی طور پر بھرتی ہونے والے ملازمین کو نوکری سے ہٹایا جائے گا۔


