1
سینیٹ نے متنازع پیکا ایکٹ ترمیمی بل منظور کرلیا،قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی پیکا ایکٹ ترمیمی بل منظور کرلیا ہے۔ایکٹ کی منظوری کے دوران اپوزیشن نے بل کی مخالفت کی اور احتجاج کیا جب کہ صحافیوں نے سینیٹ اجلاس کی کارروائی کے دوران واک آؤٹ کیا۔سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز نے کہا کہ ہم اس بل کی حمایت نہیں کررہے، وزیرکی باتیں درست ہیں کہ جھوٹ پرمبنی خبرپھیلانےکوکوئی سپورٹ نہیں کرتا، کوئی شراکت دار اس میں شامل نہیں، بل کا طریقہ کار درست نہیں، جو کیسز ہیں اس کے لیے نہ ادارہ بنا، نہ جج ہیں، نہ وکیل۔
سینیٹ اجلاس میں جے یو آئی (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ پیکا ایکٹ پر میری ترامیم تھیں جنہیں نہ کمیٹی نے منظور کیا گیا اور نہ ہی مسترد کیا گیا، یہ قائمہ کمیٹی کی نامکمل رپورٹ ہے۔بل کی منظوری کے بعد پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نےکہا آج صحافی برادری ملک بھر میں یوم سیاہ منارہی ہے، ہم اس بل کو عدالت میں بھی چیلنج کریں گے جس پر وکلا سے بات چیت جاری ہے، ہم حکومت کو مجبور کریں گے کہ وہ اس پر ہم سے مشاورت کرے۔
2
پی ٹی آئی کے نہ آنے پر مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ملتوی، اسپیکر کا کمیٹی برقرار رکھنے کا اعلان، اسپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے نہ آنے پر آج مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ملتوی کردیا تاہم کمیٹی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
گزشتہ اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ 7 ورکنگ دنوں میں دوبارہ اجلاس ہوگا، آج 7 دن پورے ہوگئے، اس متعلق ہم نے سب کو اجلاس کی دعوت دی، توقع تھی کہ اپوزیشن کے ارکان آئیں گے۔ہم نے 45 منٹ انتظار کیا، ان کی طرف سے پیغام آیا کہ وہ نہیں آئیں گے، میں نے پی ٹی آئی سے رابطہ کیا ہے، پی ٹی آئی ارکان نے کہا ہے کہ ہم اپنی اعلیٰ قیادت سے رابطہ کرکے بتائیں گے۔اپوزیشن کی غیر موجودگی کی وجہ سے مذاکرات نہیں چل سکے، اس میٹنگ کو آگے رکھنے کا کوئی مقصد نہیں بنتا، اس لیے آج کی میٹنگ ملتوی کررہے ہیں لیکن میرے درواز کھلے ہیں توقع رکھتا ہوں دونوں طرف سے مذاکرات کیے جائیں۔
3
آئینی بینچ نے جسٹس منصور شاہ کے 13 اور 16 جنوری کے فیصلے واپس لے لیے۔سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے جسٹس امین الدین کی سربراہی میں کسٹم ریگولیٹر ڈیوٹی کیس کی سماعت کی جس دوران متعلقہ حکام اور وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔
دوران سماعت جسٹس امین الدین نے کہا کہ 13جنوری کو آرڈر دیا کہ سماعت 27 جنوری کو ہوگی، پھر سماعت اچانک اگلے روز کیسے مقرر ہوگئی؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا 3 رکنی بینچ سے ایک جج الگ ہوگئے تو کیا وہ جج آرڈر دے سکتےتھے کہ کیس مخصوص بینچ کے سامنے لگے؟ جسٹس حسن اظہر نے کہا کہ کیا بینچ دوبارہ قائم کرنے کا اختیار اسی جج کے پاس تھا؟جسٹس نعیم افغان نے وکیل بیرسٹرصلاح الدین سے کہا کہ ہمیں لگتا ہے تمام تنازع کے ذمہ دار آپ ہیں، جسٹس مظہر نے کہا عدالتی حکم نامے کے مطابق آپ کا اصرار تھا کہ ریگولر بینچ کیس سن سکتا ہے۔جسٹس مندوخیل نے بیرسٹر صلاح الدین سےسوال کیا کہ کیا آپ کو ہم ججز پر اعتماد نہیں میں نااہل ہوں یا مجھے قانون نہیں آتا تو مجھے بتا دیں، نیا سسٹم کسی کو پسند نہیں تو وہ ایک الگ بات ہے۔
جسٹس مظہر نے کہا کہ 16 جنوری کے حکم نامے میں کہا گیا کیس کو سنا گیا سمجھا جائے، کیس یا سنا گیا ہوتا ہے یا نہیں سنا گیا ہوتا، یہ سنا گیا سمجھا جائے، ا سکی اصطلاح کہاں سے آئی؟ سمجھ نہیں آرہی اٹارنی جنرل کو رول 27 اےکا نوٹس دیے بغیرکیسےکہا گیاکیس سنا ہوا سمجھاجائے۔
4
وفاقی حکومت کا جسٹس منصورکے فل کورٹ تشکیل کا آرڈر چیلنج کرنے کا فیصلہ، وفاقی حکومت نے جسٹس منصور شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل بینچ کی جانب سے بینچز مقرر کرنے کے کیس میں فل کورٹ کی تشکیل کے آرڈر کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اٹارنی جنرل نے آئینی بینچ کو وفاقی حکومت کے فیصلے سے متعلق آگاہ کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ نے از خود نوٹس کا اختیار استعمال کیا مگر وہ یہ اختیار استعمال نہیں کرسکتے تھے۔ اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ غیر آئینی فیصلہ ہونے کی وجہ سے وفاقی حکومت اس فیصلے کو چیلنج کرے گی۔
5
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم ایک خط کی بنیاد پر کی گئی اور میرا خیال ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کو بلآخر سپریم کورٹ کا فل کورٹ بینچ ہی سنے گا۔شخصی آزادیوں سمیت جس قسم کے مسائل ہیں سب کو نظر آرہے ہیں، شخصی آزادی کا تحفظ کرنے والے میڈیا کی بھی ضرورت ہے۔ ہمیں اپ رائٹ وکلا کی ضرورت ہے جو بعد میں اپ رائٹ جج بنتے ہیں، اس بار میں بہت قابلیت ہے، وکلا کی کارکردگی بہتر ہورہی ہے، ججز سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں اور وکلا سے بھی ہوتی ہی لیکن ہمارے وکلا نے پچھلے 10 سال میں بہت امپروو کیا ہے، ہمیں وہ آزاد جج چاہئیں جو عدلیہ کا تقدس برقرار رکھیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب
6
امریکا نے پاکستان کیلئے بھی امداد بند کر دی،کئی اہم منصوبے روک دیے۔گزشتہ دنوں امریکا نے تقریباً تمام غیر ملکی امدادی پروگرام عارضی طورپر معطل کردیے تھے جن میں یوکرین ، تائیوان اور اردن کی امداد کا پروگرام بھی شامل ہے جب کہ یہ امدادی پروگرام ابتدائی طورپر 90 روز کیلئے معطل کیے گئے ہیں۔امریکا کے تمام سفارتی اور قونصل مشنز کو محکمہ خارجہ کی جانب سے حکم نامہ جاری کیا گیا تھا جس میں ان سے کہا گیا کہ تمام امدادی پروگرام فوری طورپر معطل کردیں اور اس ضمن میں تمام کام بند کردیے جائیں۔تاہم اب امریکی قونصل خانے کے اہلکار نے جیونیوز سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ ازسرنو جائزے تک یہ امداد فوری طور پر روک دی گئی ہے۔ایمبیسڈر فنڈ برائے ثقافتی پریزرویشن کے تحت منصوبہ عارضی طور پر روکا گیا ہے جب کہ امریکی اقدام سے توانائی سیکٹر میں بھی 5 منصوبے رک گئے ہیں۔امریکی اقدام سے اقتصادی نمو سے متعلق 4 اور زراعت کے شعبے میں 5 پروگرام متاثر ہوئے ہیں جب کہ جمہوریت، انسانی حقوق،گورننس سے متعلق بھی فنڈز عارضی روک دیے گئے۔
7
کراچی سے عمرہ اور ورک ویزا پر مختلف ممالک جانیوالے 103 مسافر آف لوڈ،امیگریشن ذرائع کے مطابق عمرہ کیلئے سعودیہ جاتے ہوئے 28 افراد کو آف لوڈ کیا گیا اس کے علاوہ آذربائیجان، سعودیہ، ترکیہ، قبرص، بحرین، ملائشیا، تھائی لینڈ، سری لنکا، سنگاپور، مالوی، برونڈی، کانگو، عمان، بوٹسوانا، انڈونیشیا، البانیہ اور مڈغاسکر جانے والے افراد کو بھی آف لوڈ کردیا گیا۔
8
جیل میں سہولیات کا کیس: ایس پی اڈیالہ نے عمران خان کی بیٹوں سے بات نہ کرانے کی وجوہات بتادیںاسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج سے معائنے، اہلیہ سے ملاقات اور بیٹوں سے فون پربات کی درخواست پر سماعت کی جس دوران عمران خان کے وکلا اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عدالت میں پیش ہوئے۔
دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے سپرنٹنڈنٹ جیل سےسوال کیا آپ نے درخواست گزار کو کیا سہولیات دیں؟ سپرنٹنڈنٹ جیل نے بتایا کیٹیگری بی کے تحت ٹی وی اور نیوز پیپر سمیت تمام سہولیات دی جا رہی ہیں، بانی پی ٹی آئی 16 ٹی وی چینلز دیکھتے ہیں اور ان کو 2 اخبارات دیے جاتے ہیں۔ ایس پی اڈیالہ جیل نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو ایک باورچی بھی دیا گیا ہے، جیل میں ہفتے میں 2 ملاقات کی اجازت ہے لیکن ہم 3، 4 ملاقاتیں کروادیتے ہیں، سزا سے پہلے بشریٰ بی بی کو ملوایا جاتا تھا، سزا ہونے کے بعد بھی ملاقات کروا دیں گے۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ بچوں سے فون کال پر بات کروانے کی بھی درخواست ہے، اس پر سپرنٹنڈنٹ جیل نے کہا کہ ہم اوورسیز کالز اس لیے نہیں کروا سکتے کہ ہمارے پاس 8 ہزار قیدی ہیں، اگر اجازت دی تو دیگر قیدی اس کو عدالت میں چیلنج کر سکتے ہیں، ہمارے پاس بیرون ممالک کے 25 قیدی بھی موجود ہیں، جیل رولز اور حکومت کی جانب سے انٹرنیشنل کالز کی اجازت نہیں۔
دوران سماعت وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ پہلے پرائیویٹ ڈاکٹرز کو بھی ملنے کی اجازت دی گئی تھی، اس پر سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں صحت کی سہولیات پاکستان میں سب سے بہترین ہیں، ڈاکٹر روزانہ کی بنیاد چیک اپ کرتے ہیں۔
9
نارتھ کراچی میں گھر سے خاتون کی کئی روز پرانی پھندا لگی لاش برآمد ہوئی ہے۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ نارتھ کراچی میں پیش آیا جہاں ثمینہ نامی خاتون کی پھندا لگی لاش ملی۔اس حوالے سے ثمینہ کے بھائی کا کہنا ہے کہ بہن نے کچھ عرصے قبل دوسری شادی کی تھی اور پہلے شوہر سے4 بچے ہیں۔بھائی نے مزید بتایا کل بہنوئی نے اطلاع دی کہ ثمینہ کہیں چلی گئی ہے اور آج پولیس نے لاش کے بارے میں بتایا جب کہ بہنوئی کا موبائل فون نمبر بھی بند ہے۔
10
وفاقی کابینہ کی جانب سے ایف بی آر کو 1087 نئی گاڑیوں کی خریداری کی اجازت دینے کا انکشاف، ذرائع کے مطا بق ایف بی آرکے پاس 1010 کے علاوہ مزید77 نئی گاڑیوں کی خریداری کی منظوری موجود ہے۔وفاقی کابینہ نےایف بی آرکو1087 گاڑیوں کی خریداری کی اجازت دی اور ایف بی آر نےان میں سے 1010 نئی گاڑیوں کی خریداری کا عمل شروع کیا ہے جس کے بعد ایف بی آرکے پاس مزید77 گاڑیوں کی خریداری کی منظوری موجود ہے۔وفاقی کابینہ نےایف بی آرکو آپریشنل مقاصد کے لیے1300 سی سی تک گاڑیاں خریدنےکی اجازت دی ہے۔
11
ایک کروڑ روپے سے مہنگی پراپرٹی خریدنے کیلئے انکم ٹیکس ریٹرنز میں آمدن ظاہر کرنا لازمی قرار،قومی اسمبلی کی ذیلی قائمہ کمیٹی خزانہ میں بات کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا کہ جس نے ایک کروڑ 30 لاکھ روپے آمدن ظاہر کی ہوئی ہوگی وہ ایک پلاٹ خرید سکتا ہے۔ مزید پراپرٹی خریدنے کے لیے انکم ٹیکس ریٹرنز میں مزید رقم یا آمدن ظاہر کرنا لازمی ہوگا۔


