1
فلسطینیوں کی اپنے علاقوں کو واپسی جاری، اسرائیلی جارحیت میں ایک بچے سمیت 2 شہید,غیر ملکی میڈیا کے مطابق فلسطینیوں کا واپس اپنے تباہ حال علاقوں میں لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب اسرائیلی فوج نے فائر بندی کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے ایک بچے سمیت 2 فلسطینی شہید کردیے جب کہ ایمبولنس پر بھی فائرنگ کی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عمارتوں کے ملبے سے شہدا کی مزید 48 لاشیں برآمد ہوئیں، اس کے علاوہ 15 ماہ بعد پہلی بار غزہ میں کوکنگ گیس کی فراہمی کی گئی ہے۔
2
بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری، 59 لاکھ ریٹرنز میں سے 26 لاکھ کی قابل ٹیکس آمدن صفر ہونے کا انکشاف، مجموعی طور پر59لاکھ موصول شدہ ٹیکس ریٹرنز میں سے 43.3 فیصد نِل فائلرز کے ساتھ پاکستان بھر میں صرف 3651 ٹیکس فائلرز ایسے ہیں جن کی قابل ٹیکس آمدنی 10کروڑروپے سے تجاوز کرتی ہے۔
چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے حال ہی میں قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی کے سامنے بیان دیا کہ صرف 12 افراد ایسے ہیں جنہوں نے اپنے جمع کرائے گئے ٹیکس ریٹرنز میں 10 ارب روپے کی دولت ظاہر کی ہے۔یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یا تو بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری ہو رہی ہے یا ملک میں زیادہ دولت رکھنے والے افراد کی تعداد بہت کم ہے۔
موجودہ مالی سال 2024-25 کے دوران ٹیکس فائلرز کی کل تعداد 5.9 ملین ہے، جس میں 5.8ملین انفرادی ٹیکس فائلرز، 104269 ایسوسی ایشن آف پرسنز (اے او پیز ) اور 87900 کمپنیاں شامل ہیں۔ٹیکس سال 2023 میں فائلرز کی تعداد 6.8 ملین تھی، جبکہ ٹیکس سال 2022 میں یہ تعداد 6.3 ملین رہی، جو کہ ممکنہ فائلرز کی تخمینی تعداد 15 ملین کے مقابلے میں کافی کم ہے۔
3
صنعتکاروں کا گیس کے نئے ٹیرف پر لیوی دینے سے انکار،حکومت نے اوگرا کی ہدایات پر CPPs کے لیے گیس کے نئے ٹیرف 3500 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کے نفاذ کا اعلان کیا ہے، جس پر صنعت کاروں نے سخت اعتراض کیا ہے۔
شمالی اور جنوبی پاکستان کے صنعت کاروں نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ ایل این جی سیکٹر کو آزاد کرے اور صنعت کو اجازت دے کہ وہ اپنی کیپٹو پاور پلانٹس کے لیے ایل این جی درآمد کرے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ گیس کی فراہمی ترمیم شدہ ای اینڈ پی پالیسی 2012 کے تحت حاصل کرنا چاہتے ہیں، جو نجی شعبے کو 35 فیصد گیس پیداوار اور اکتشاف کمپنیوں سے خریدنے کی اجازت دیتی ہے۔
4
سابق جنوبی افریقی کپتان اے بی ڈی ویلیئرز کا کرکٹ میں واپسی کا اعلان،منگل کو سابق کرکٹر اے بی ڈی ویلیئرز نے تصدیق کی کہ شائقین کرکٹ ایک بار پھر انہیں میدان میں کرکٹ کھیلتا دیکھیں گے۔
اے بی ڈی ویلیئرز نے 2018 میں انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی، تاہم وہ 2021 تک فرنچائز کرکٹ کھیلتے رہے تھے لیکن پھر انہوں نے 2021 میں تمام طرز کی کرکٹ سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
تاہم اب اے بی ڈی ویلیئرز نے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز کے دوسرے ایڈیشن میں نہ صرف ساؤتھ افریقا چیمپئنز کی نمائندگی کریں گے بلکہ ٹیم کی کپتانی کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں گے۔


