1
عمران خان کی گرفتاری کے بعد احتجاج کے مقدمے میں 10 مجرموں کی سزا معطل،ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس سرداراعجاز اسحاق خان نے سزا معطلی کا حکم دیتے ہوئے سزا یافتہ مجرموں کی سزا معطل کرتے ہوئے ضمانت منظور کرلی اور 25 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا آرڈر جاری کردیا۔
2
لاہور: امیر بالاج قتل کیس میں مطلوب تیسرا ملزم بھی گرفتار،اشتہاری ملزم بلاول کو عمان سے گرفتار کیا گیا اور لاہور ایئرپورٹ منتقل کر دیا گیا، پولیس کے مطابق انٹرپول نے ملزم کی گرفتاری کے لیے ریڈ نوٹس جاری کیا تھا۔
گرفتار ملزم پنجاب پولیس کو مطلوب تھا اور اس کے خلاف تھانہ چوہنگ، لاہور میں مقدمہ درج تھا، ملزم گزشتہ سال بیرون ملک فرار ہو گیا تھا تاہم پولیس کی مسلسل کوششوں کے بعد اسے عمان سے گرفتار کر کے پاکستان منتقل کر دیا گیا۔
3
اسلام آباد ہائی کورٹ نے جیل سہولیات فراہم کرنے کی بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست نمٹاتے ہوئے انہیں جیل رولز کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات، بیٹوں سے فون پر بات و دیگر جیل سہولیات فراہمی کے کیس میں تین صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔بانی پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل فیصل چوہدری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل جیل سہولیات فراہم کرنے سے متعلق مطمئن ہیں لہذا مداخلت کی ضرورت نہیں ہے، عدالت ہدایات کے ساتھ جیل سہولیات فراہم کرنے کی بانی پی ٹی آئی کی درخواست نمٹاتی ہے۔
جیل رولز کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو جیل میں متعلقہ سہولیات فراہم کی جائیں۔عدالتی فیصلے کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے وکیل کا جیل سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
4
خارجی دہشت گردوں کی پے در پے ہلاکتوں کی وجہ سے فتنۃ الخوارج کی قیادت موبائل فون کے استعمال سے خائف ہو گئی، اس سلسلے میں فتنۃ الخوارج کے سرغنہ نور ولی محسود کی خفیہ گفتگو منظر عام پر آ گئی۔
ذرائع کے مطابق کالعدم فتنۃ الخوارج کے سرغنہ خارجی نور ولی محسود کی جانب سے تمام دہشتگردوں کے موبائل فون استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ خفیہ گفتگو میں خارجی نور ولی محسود دہشتگردوں کو موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی کی ہدایات دے رہا ہے۔
خارجی نور ولی محسود نے کہا کہ ’’سارے مجاہدین کو یہ پیغام پہنچا دو کہ موبائل سادہ ہو یا انٹرنیٹ والا ہو، مستقبل میں کسی کو بھی استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ جب ضرورت ہو تو موبائل استعمال کریں اور پھر فوراً بند کر دیں‘‘۔
5
صدر مملکت کا ایئر چیف کے ہمراہ نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کا دورہ،دورے کے دوران صدر مملکت کو پارک کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک پاک فضائیہ کی ترقی کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے اور یہ منصوبہ قومی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ پارک پاکستان میں علم اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی بنیاد بننے کے لیے تیار ہے۔پارک کا مقصد خلائی، سائبر، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور ایرو اسپیس میں نجی اور پبلک سیکٹر کے اداروں کو جوڑنا ہے۔
بریفنگ میں یہ بھی کہا گیا کہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک دنیا کے بہترین ایرو اسپیس، سائبر اور آئی ٹی کلسٹرز میں شامل ہونے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ یہ پارک ابھرتی ٹیکنالوجیز، تحقیق و تیاری اور اختراعی مراکز کے ساتھ قومی منظر نامے کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
6
کے پی حکومت نے گورنر سے وفاقی بقایا جات کا حساب مانگ لیا۔ گورنر کبھی رکن کے پی اسمبلی نہیں رہے، انھیں ٹیوشن کی ضرورت ہے، وہ جو حساب کتاب مانگ رہے ہیں اس کا جواب دینے کیلیے تیار ہیں، گورنر بھی حساب دیں کہ وفاق نے صوبے کا حق کیوں روکا ہوا ہے۔ مشیر خزانہ مزمل اسلم کی گفتگو
7
رہنما مسلم لیگ (ن) جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ ان کا مطالبہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن ہونا چاہیے، آپ کو یاد ہو گا کہ 2014 میں ہم نے جوڈیشل کمیشن بھی بنایا تھا۔پاکستان کی تاریخ میں کسی حکومت وقت نے اپنے خلاف چارج شیٹ پر پہلی بار جوڈیشل کمیشن بنایا تھا مگرانھوں نے اس کمیشن کی فائنڈنگز کو نہیں مانا۔
8 فروری 2024 کے انتخابات، 2018 کے انتخابات اور 2014 کے دھرنے اس سے کسی جماعت کو نقصان کم اور ریاست کو نقصان زیادہ پہنچا ہے اس پر جوڈیشل کمیشن بنائیں۔8 فروری کو ہمارے الیکشن پر تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ ڈالا گیا، ہم یوم سیاہ منانے جا رہے ہیں کہ لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ آپ کا الیکشن چوری ہوا ہے، اس پر ابھی سے کریک ڈاؤن کرنا شروع کر دیا ہے۔
8
رہنما پاکستان پیپلزپارٹی مولا بخش چانڈیوکا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی آج بھی اپنے اصولوں پر کھڑی ہوئی ہے اس سے متعلق بھی وہ بہت سی وضاحتیں کرتے ہیں۔ جہاں تک صدر صاحب کا تعلق ہے جب پارلیمنٹ کے دونوں ایوان سینیٹ اور قومی اسمبلی کسی بھی قانون کو پاس کر کے صدر صاحب کے پاس بھیجیں گے تو صدر صاحب لامحالہ اس پر دستخط کریں گے۔
رہنما پاکستان مسلم لیگ (ن) کھیل داس نے کہا پہلی بات تو یہ ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے جن مذاکرات کا آغازکیا تھا یہ بھی بانی پی ٹی آئی عمران خان کی خواہش تھی، پہلے انھوں نے خود کمیٹی بنائی اور اس کے بعد پھر یہ سارا عمل شروع ہوا ہے، جو معیشت ہے، جو چیلنجز ہیں ہم نے ان سے نمٹا ہے، وزیراعظم اس میں کامیاب ہوئے ہیں۔
ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ مجھے بتائیں پاکستان میں آج تک جتنے کمیشن بنے ہیں کسی کا کوئی نتیجہ سامنے آیا ہے۔