1
مولانا فضل الرحمان کی صحافیوں کو پیکا بل پر ہرممکن تعاون کی یقین دہانی،سربراہ جے یوآئی مولانا فضل الرحمان نے پارلیمنٹ ہاؤس میں پی آر اے کے دفتر کا دورہ کیا،کہا سیاست اور صحافت ہمیشہ ایک دوسرے سے وابستہ رہے ہیں۔
پارلیمان کے اندر ارکان اور صحافیوں کے تعلق کا بھی ادراک و احترام ہے، انسان قوانین بناتا ہے تو خاص معروضی حالات کو مدنظر رکھ کر بناتا ہے مگر ایک وقت کے بعد اس کی افادیت ختم ہوجاتی ہے بالخصوص 26 ویں ترمیم کے وقت جو حالات رہے تعجب ہے۔
پیکا قانون پر اپنے موقف کو دہراؤں گا، پیکا قانون پر صحافیوں کو اعتماد میں لیا جاتا اور ان کی تجاویز لی جاتیں، صدر کو کہا تھا صحافیوں کی تجاویز لی جائیں اور صحافتی تنظیموں کی رائے لیں۔صدر مملکت سے کہا تھا وہ وقت دیں اور دستخط نہ کریں،آصف زرداری نے کہا کہ محسن نقوی سے کہوں گا کہ وہ بات چیت کریں اور ملیں، مگر کسی طرف سے دباؤ آیا اور ترمیمی بل پر دستخط ہو گئے۔
2
اسلام آباد ہائیکورٹ نے احتساب عدالت اسلام آباد کے جج ناصر جاوید رانا کو تبدیل کر دیا۔ناصر جاوید رانا کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ویسٹ تعینات کر دیا گیا، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ویسٹ کا عہدہ محمد اعظم خان کے بطور جج اسلام آباد ہائی کورٹ تعیناتی کے بعد سے خالی تھا۔ناصر جاوید رانا نے بطور جج احتساب عدالت بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں سزا سنائی تھی۔
3
پاکستان تحریک انصاف نے 8 فروری کو لاہورمینارپاکستان میں جلسے کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا۔چیف آرگنائزر پنجاب پی ٹی آئی عالیہ حمزہ نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس میں موقف اپنایا گیا کہ 8 فروری کو مینار پاکستان میں جلسے کی اجازت کے لیے ڈی سی لاہور کو درخواست دی۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ 29 جنوری کو درخواست دائر کی گئی مگر تاحال ڈی سی آفس میں کوئی بھی شنوائی نہیں ہوئی، پی ٹی آئی جب بھی جلسے کی اجازت مانگتی ہے تو امن و امان کا مسئلہ بنا لیا جاتا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ عالیہ حمزہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، درخواست واپس لینے کے لیے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
عدالت سے درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر کو ہدایت کی جائے کہ 8 فروری کو مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت دیں، پی ٹی آئی کے بے گناہ کارکنوں کو ہراساں کرنے اور اغوا کرنے سے روکا جائے۔
4
آئندہ مالی سال کیلئے صنعتکاروں اور پرائیوٹ سیکٹرز کی مشاورت سے اچھا بجٹ تیار کیا جائے گا۔محمد اورنگزیب نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے دورے کے موقع پر لیڈر شپ کے ساتھ پری بجٹ ڈسکشن کا انعقاد کیا، وفاقی وزیرخزانہ کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے تاجر برادری سے مشاورت لی جارہی ہے۔
صنعت کاروں سے 8 فروری تک بجٹ تجاویز طلب کی ہیں، سارے چیمبرز 8 تاریخ تک اپنی تجاویز دے دیں، اسی طرح ہم نے حکومتی اداروں کو بھی کہا کہ وہ بجٹ کے لیے اپنی تجاویز دیں، زرعی ٹیکس بل پنجاب، کے پی اور سندھ سے پاس ہوا ہے، امید ہے بلوچستان سے بھی زرعی ٹیکس بل جلد منظور ہوگا۔
5
سابق گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان ڈاکٹر شمشاد اخترنےکہا کہ 2050 تک ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے پاکستان کو 1.2 ٹریلین ڈالر درکار ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ 2030 تک ماحولیاتی آفات سے بچاؤ کے لیے 250 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب
6
کرم میں امن و امان قائم کرنے کے لیے عمائدین کی دوسری بیٹھک ہوئی جس میں 14 نکات پر اتفاق کیا گیا۔منیر بنگش کے مطابق کوہاٹ کے جرگے میں 14 نکات پر اتفاق ہوا، جس کے بعد معاملات کے لئے مقامی جرگے بنائے گئے، مل بیٹھ کر سارے معاملات کا حل خود نکالیں، ایک دوسرے سے ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔
کوہاٹ کا جرگہ کامیاب ہوا تو دونوں فریقین اکٹھے بیٹھے، مذاکرات کا پراسس ہوتا ہے، کرم مسئلہ حل ہونے میں ٹائم لگے گا۔ اسلام آباد اور پشاور کے مقامی رہنماؤں کے جرگے کوہاٹ امن معاہدے کا تسلسل ہے، آج کی نشست میں دونوں فریقین مین شاہراہ کھولنے، بنکرز مسماری اور اسلحہ جمع کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔
کرم میں دونوں فریقین بہت متاثر ہوئے ہیں، اگلی نششت میں مزید معاملات آگے بڑھیں گے، مل بیٹھ کر اعتماد کا فقدان ختم کر رہے ہیں، خلاف ورزیوں پر حکومت کارروائی کرے۔
7
پاک فوج کے زیر اہتمام پشاور میں خیبرپختونخوا کی مختلف جامعات کے طلباء و طالبات کے لیے سپورٹس گالا کا انعقاد ہوا جس میں طلباء و طالبات کی بڑی تعداد نے حصہ لیا۔طلباء و طالبات نے کھیلوں کے مختلف مقابلوں بشمول تیر اندازی، رسہ کشی، بیڈ منٹن، کرکٹ، فٹبال، 100 اور 400 میٹر ریس، 9 ایم ایم فائر، ایئر گن اور میوزیکل چیئر میں حصہ لیا۔
مقامی برگیڈ کمانڈر نے بطور مہمان خصوصی طلباء و طالبات میں انعامات تقسیم کیے۔ ہم پاک فوج کے شکر گزار ہیں کہ ہمارے لیے ایک بہترین ماحول میں سپورٹس گالا کا انعقاد کیا گیا، پاک فوج کی جانب سے سپورٹس گالا ایونٹ کا کامیاب انعقاد انتہائی خوش آئند ہے۔


