1
وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے پالیسیاں اور سہولیات فراہم کرنا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سرکاری اداروں کی نجکاری اور نگرانی کے لیے بنائے گئے ٹاسک مینجمنٹ سسٹم کا جائزہ اجلاس ہوا۔
وزیراعظم نے نجکاری کاعمل تیزکرکےمعینہ مدت میں تکمیل یقینی بنانےکی ہدایت کردی۔ اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ عوام کے قیمتی وسائل ضائع کرنے والے اداروں میں مزید نقصان کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
2
انٹر بینک مارکیٹ میں جمعرات کو کاروبار کے دوران امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 0.03 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ ڈالر کے مقابلے میں 0.07 روپے کی کمی کے بعد روپیہ 279.03 روپے پر آگیا۔
عالمی سطح پر امریکی ڈالر ین کے مقابلے میں آٹھ ہفتوں کی کم ترین سطح پر آگیا اور جمعرات کو اسٹرلنگ کے مقابلے میں ایک ماہ کی کم ترین سطح کے قریب رہا، کیونکہ سرمایہ کاروں میں افراط زر کی وجہ سے پیدا ہونے والی عالمی تجارتی جنگ میں کمی آئی ہے۔
3
قذافی اسٹیڈیم لاہور کی افتتاحی تقریب کل (جمعہ کو) ہوگی، علی ظفر، عارف لوہار اور آئمہ بیگ پرفارم کریں گے، آتش بازی اور لائٹس شو کا بھی شاندار مظاہرہ ہوگا، تقریب میں داخلہ فری ہوگا۔
چیئرمین پی سی بی نے اسٹیڈیم کی تعمیر نو میں دن رات کام کرنے پر پوری ٹیم کی تعریف کی، کہا ورکرز کا شکریہ جنہوں نے ناممکن ٹاسک کو ممکن بنایا، تنقید کے باوجود پوری ٹیم نے انتھک محنت کی، اللہ تعالیٰ نے ہمارا راستہ آسان کیا۔چیمپئنز ٹرافی کا پاکستان میں 19 فروری سے آغاز ہوگا، ایونٹ 9 مارچ تک جاری رہے گا۔
4
پاکستان بزنس فورم نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر ماہ رمضان سے قبل ضروری اشیاء کی ذخیرہ اندوزی فوری کنٹرول کرنے کا مطالبہ کردیا، کہا کہ حکومت سبسڈی دینے کے بجائے سرکاری نرخوں کو یقینی بنائے۔
اس وقت چینی کی ذخیرہ اندوزی شروع ہوگئی ہے، مارکیٹ میں ذخیرہ اندوز مافیا سرگرم، مارچ کے ایڈوانس سودے ہورہے ہیں، ہر سال رمضان میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے، وزیراعظم سخت ہدایات دیں تاکہ رمضان میں کھانے پینے کی اشیاء میں استحکام رہے۔صدر پاکستان بزنس فورم خواجہ محبوب الرحمان
5
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹرنیشنل نے برطانوی وزیر اعظم کیئراسٹارمر کو کشمیر پیٹیشن کے نام سے یاداشت پیش کر دی جس میں برطانوی حکومت سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے فوری اقدامات کی درخواست کی ہے۔تحریکی عہدیداروں نے برطانوی پارلیمنٹ میں فرینڈز آف کشمیر کے تعاون سےانسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنے اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
کشمیر پیٹیشن میں برطانوی حکومت سے اپیل کی گئی کہ برطانوی حکومت انسانی حقوق کے تحفظ کی طرح مسئلہ کشمیر کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے، جیسے لیبر پارٹی نے مسئلہ کشمیر کو شامل کیا ہے، مسئلہ کشمیر کا حل برطانیہ کی تاریخی و اخلاقی ذمہ داری ہے،


