1
کل کا جلسہ صرف صوابی میں ہوگا‘، پی ٹی آئی کا انتشار اور ٹکراؤ نہ کرنے کا اعلان،تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ نے کہا ہےکہ کل صرف صوابی میں جلسہ ہوگا جب کہ تحصیل اور یو سی کی سطح پر احتجاج کیا جائے گا، کل انتشار اور ٹکراؤ کا ارادہ نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے سوال پر سلمان اکرم نے کہا کہ ان کا گمان یہی ہے کہ مولانا عوام کے ساتھ کھڑے ہوں گے مگر پی ٹی آئی آئین اور عدلیہ کے لیے اصولوں پر کھڑی ہے جو ساتھ چلتا ہے چلے ، ورنہ پی ٹی آئی اکیلے ہی آگے بڑھے گی۔
2
حیدرآباد: وکیل پر مقدمےکے اندراج کے خلاف حیدرآباد بائی پاس پر وکلا کا دھرنا 24 گھنٹوں سے جاری ہے جس سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہے۔ حیدرآباد میں پولیس کی جانب سے وکیل کے خلاف مقدمہ کرنے پر وکلا نے احتجاج کرتے ہوئے قومی شاہراہ (حیدرآباد بائی پاس) پر دھرنا دے رکھا ہے جس سے ٹریفک روانی متاثر ہے اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
24 گھنٹوں سے جاری دھرنے کے باعث کراچی سے ملک کے دیگر حصوں کو جانے والی قومی شاہراہ پر ٹریفک معطل اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں۔آج حیدرآباد بار ممبران سے اظہاریکجہتی کے لیےکراچی بار ایسوسی ایشن نے ہڑتال کا اعلان کیا ہے جس کے باعث عدالتی عمل ٹھپ ہے۔
3
جی ایچ کیو حملہ کیس، عمران خان نے لیگل ٹیم میں تبدیلی کر دی۔نئی لیگل ٹیم میں ایڈووکیٹ وحید انجم، عرفان نیازی، فیصل چوہدری اور محمد عمران شامل ہیں۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی نئی لیگل ٹیم نے اڈیالہ جیل میں ملاقات کیلئے درخواست بھی دائر کر دی۔انسداد دہشتگردی عدالت نے جیل حکام کو وکلاء کی عمران خان سے ملاقات کرانے کا حکم جاری کر دیا۔پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم آج 3 بجے عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کرے گی۔
4
امریکی وزیرخارجہ کا جی 20 سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا اعلان،امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ میں جوہانسبرگ میں ہونے والی جی 20 سمٹ میں شرکت نہیں کروں گا۔
میرا کام امریکی مفادات کو آگے بڑھانا ہے، امریکی ٹیکس کا پیسا ضائع کرنا نہیں اور نہ ہی امریکی دشمنی کو بڑھانا ہے۔ جنوبی افریقہ مساوات اور پائیدار ترقی کے نام پر جی20 کا استعمال کررہا ہے مگر نجی املاک ضبط کرکے برا کام کررہا ہے۔
5
اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی اموررانا ثنااللہ نے کہا ہےکہ شاہد خاقان اور مفتاح اسماعیل کے پارٹی سے جانے کا ہمیں نقصان ہوا۔ ہم مولانا فضل الرحمان کے بغیر آئینی ترمیم کےلیے آگے نہیں بڑھے اور انہیں 26 ویں آئینی ترمیم میں ساتھ لے کر چلے، ابتدا میں ہم سے تھوڑی سی کوتاہی ہوئی اس کا ہم نے ازالہ کیا۔مولانا فضل الرحمان اور دیگر سیاستدانوں سے بھی بات ہوگی اور جو بھی مطالبات ہیں ان پر سیاستدانوں کو بیٹھنا چاہیے۔