1
گورنر کے پی نے شدید تحفظات کے باوجود زرعی انکم ٹیکس بل پر دستخط کر دیے.زرعی انکم ٹیکس بل کاشت کاروں کے ساتھ زیادتی ہے جسے قبول نہیں کیا جا سکتا، صوبے بھر کے زمیندار اور کاشتکار اس بل کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔
صوبائی حکومت زرعی انکم ٹیکس بل کے ذریعے کرپشن کا نیا راستہ کھول رہی ہے، صوبے بھر کے زمینداروں اور کاشتکاروں نے گورنر ہاؤس پہنچ کر اس بل پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
بل میں غلطیوں کی بھی بھرمار ہے جو اس کے قانونی تقاضوں سے متصادم ہے۔ بل کی خامیاں اور متن اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ صوبائی حکومت کا مقصد زراعت کا فروغ نہیں بلکہ کالا دھن سفید کرنا ہے، بل میں متنازعہ زمین کو لیوی ٹیکس سے استثنا فراہم کیا جانا چاہیے تھا۔
بل میں وضح کردہ ٹیکس چھوٹے زمینداروں کیلئے بہت زیادہ ہے جو کہ بل پر عمل درآمد نہ ہونے کا ماحول پیدا کرنے کے ساتھ صوبے میں زرعی شعبے کی حوصلہ شکنی کا باعث بنے گا۔ بل میں سپر ٹیکس کا نفاذ بھی بہت زیادہ رکھا گیا ہے۔
2
سالانہ بنیادوں پرافغانستان کو چینی برآمد میں 25 کروڑ 67 لاکھ 60 ہزار ڈالرز اضافہ ہوا۔ذرائع وزارت تجارت کے مطابق جولائی تا جنوری افغانستان کو چینی برآمد 26 کروڑ 26 لاکھ 80 ہزار ڈالر رہی۔ گزشتہ سال اس عرصےمیں افغانستان کو چینی کی برآمد محض 59 لاکھ 30 ہزار ڈالرز تھی۔
ذرائع کے مطابق افغانستان کو پاکستانی برآمدات میں سب سے زیادہ حصہ چینی کا ہے۔ گزشتہ 10 ہفتے کے دوران چینی کی اوسط قیمت 21 روپے 26 پیسے فی کلو بڑھی ہے۔ ملک میں چینی کی قیمت 160 روپے فی کلو تک ہے۔
3
عراق کے صدر نے کردستان کے خود مختار علاقے میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر وزیر اعظم محمد شیعہ السوڈانی کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے۔صدر عبداللطیف راشد نے گزشتہ ماہ السوڈانی اور وزیر خزانہ طائف سمیع کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا لیکن وفاقی مشیر حواری توفیق نے اس کا اعلان حال ہی میں کیا۔
عراق کی عدالت میں جمع کرائے جانے والے مقدمے میں بغداد اورعلاقائی دارالحکومت اربیل کے درمیان جاری مالی تنازعات کے باوجود کردستان میں تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنانے کیلئے فوری حکم کی درخواست کی گئی ہے۔وفاقی مشیرحواری توفیق نے کہا کہ وزیر اعظم کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کردستان کے دوسرے سب سے بڑے شہر اور صدر کے آبائی شہر سلیمانیہ میں تنخواہوں کی عدم ادائیگیوں پر ہونے والے مظاہروں کی وجہ سے کیا گیا ہے۔
4
جنہوں نے 26ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا، قوم انھیں بددعائیں دے گی۔ 2023میں جو جلسے کیے اداروں پولیس نے بدنیتی پر مبنی مقدمات درج کیے، ایک سال ہوگیا مقدمات بھگتے بھگتے، ایڈوکیٹ جنرل رپورٹ ہی نہیں دے رہے، پی ٹی آئی کی قیادت عدالتوں میں پیش ہو رہی ہے، عدلیہ سے بھی قوم کو ہاتھ دھونا پڑیں گے۔
جنہوں نے 26ویں آئینی ترمیم کا ووٹ دیا قوم انھیں بددعائیں دے گی، صوبائی حکومت نے اعلان کیا تھا سیاسی مقدمات ختم کریں گے وہ ابھی تک نہیں ہوئے، عدلیہ بھی پوچھ رہی ہے حکومت کون سے مقدمات واپس لینا چاہ رہی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما شیر افضل مروت کی پشاور میں میڈیا سے بات چیت
5
قومی اسمبلی : اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کا بل منظور، قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ارکان اسمبلی کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کا ترمیمی بل 2025ء پیش کیا گیا جو کہ رومینہ خورشید عالم نے پیش کیا۔اسپیکر نے بل پر رائے شماری کرائی جس کے بعد بل مںظور کیے جانے کا اعلان کیا۔اپوزیشن کے کسی رکن نے تنخواہ و الاؤنسز ترمیمی بل کی مخالفت نہیں کی۔
6
سوشل میڈیا پرمنفی پروپیگنڈا کرنے کے الزام میں پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔ مردان کے تھانہ سٹی میں پیکا ایکٹ کے تحت پہلا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کرنے پر ملزم کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق خود کو صحافی ظاہر کرنےوالا شخص پریس کلب کے خلاف مہم چلا رہا تھا۔ محمد زاہد نے پریس کلب اور اس کے ارکان پر بے بنیاد الزامات عائد کیے۔
7
شرجیل میمن نے ایم کیو ایم کے الزامات کو مسترد کردیا ایم کیو ایم والے اپنے داخلی تضادات سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے الزامات کی سیاست کھیل رہے ہیں، متحدہ ہر دور میں سیاسی مفادات کے لیے کراچی کے عوام کے جذبات کا بدتر استعمال کرتی رہی ہے۔
نفرت کی سیاست نے متحدہ کو تقسیم در تقسیم کر دیا ہے لیکن ایم کیو ایم کے لیڈران اب بھی باز نہیں آ رہے ہیں۔ متحدہ کے رہنما بار بار نفرت، تعصب، تقسیم اور فریب کی سیاست کو ہوا دیتے ہیں۔کراچی تمام پاکستانیوں کا شہر ہے، متحدہ کراچی کی ٹھیکیدار بننے سے گریز کرے۔


