1
سہ ملکی سیریزکا فائنل: 46 رنز پر پاکستان کی دوسری وکٹ گرگئی۔فائنل آج کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا جارہا ہے جہاں پاکستان کی بیٹنگ جاری ہے، اور 46 رنز پر پاکستان کی دو وکٹیں گرگئی ہیں، فخر زمان دس اور سعود شکیل 8 رنز بناکر پویلین لوٹے۔
محمد رضوان نے ٹاس کے موقع پر کہا کہ پچ بیٹنگ کےلیے ساز گار لگ رہی ہے، اس لیے پہلےبیٹنگ کافیصلہ کیا، آج کا دن نیا ہے،ٹرافی اپنے نام کریں گے۔کپتان نیوزی لینڈ ٹیم مچل سینٹنر نے کہا کہ آج پچ پر گھاس کم نظر آرہی ہے ، ہائی اسکورنگ میچ ہوگا، وکٹ عمومی طورپر پر اچھی لگ رہی ہے،اچھی بولنگ کرانےکی کوشش کریں گے۔
سینٹنر کتے مطابق میٹ ہینری اور بین سیئرز کی جگہ جیکب ڈفی اور نیتھن اسمتھ کو ٹیم میں شامل کیاگیاہے۔قومی ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی ہے، محمد حسنین کی جگہ فہیم اشرف کو پلیئنگ الیون میں شامل کیا گیا ہے۔
2
9 مئی مقدمات: یاسمین راشد، اعجاز چوہدری اور محمود الرشید پر فرد جرم عائد،عدالت کی جانب سے دونوں مقدمات میں یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید پر فرد جرم عائد کی گئی۔ عدالت نے پی ٹی آئی رہنماؤں سمیت 31 ملزمان پر فرد جرم عائد کی۔
عدالت نے دونوں مقدمات میں فرد جرم عائد کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف گواہوں کو شہادت کے لیے طلب کر لیا۔انسداد دہشتگردی عدالت نے مزید کارروائی کوٹ لکھپت جیل میں کرنےکا حکم دیتے ہوئے سماعت 20 فروری تک ملتوی کر دی۔
3
قائم مقام چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کی تقریب حلف برداری سے پہلے گورنر فیصل کریم کنڈی اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی ملاقات ہوئی جو 10 منٹ تک جاری رہی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں خوشگوار موڈ میں دکھائی دیے جب کہ گورنر اور وزیراعلیٰ کے مابین ملاقات میں فیصل کریم کنڈی کی جانب سے طنزیہ مذاق بھی کیا گیا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ سے سوال کیا کہ پی ٹی آئی میں کیا ہورہا ہے؟ شیر افضل مروت کو بھی نکال دیا، ان سے ہمدردی ہے۔گونر نے مزید کہا وزیراعلیٰ صاحب آپ کی حکومت نے اپنے ہی خلاف صوابی میں احتجاج نہیں کیا؟ گورنر کے مذاق پر وزیراعلیٰ علی امین غیر معمولی طور پر مسکراتے رہے۔
4
گاڑیوں کی نمبر پلیٹس پر ایڈووکیٹ لکھنے کو غیر قانونی قرار دیدیا۔ اسلام آباد کی کورٹس راولپنڈی کے گلی محلوں میں ہوتی تھیں، ہم ایک کورٹ میں پیش ہوتے تو باقی کیسز ملتوی کراناپڑتے تھے، آج کے وکلا کو بہت آسانی ہے کہ کورٹ کمپلیکس موجود ہے۔
وکلا کیس کی تیاری کے بغیر پہنچتے ہیں تو بہت دکھ ہوتا ہے، ہائیکورٹ کا کیس ہمیں ملتا تو ساری رات تیاری کرتے تھے۔ کبھی کسی عہدے کے لیے سفارش نہیں کرائی، اپنے کام سے عہدے ملے، جج بننے کے لیے بھی کبھی کسی کو سفارش کا نہیں کہا، پھٹے سے وکالت شروع کرکے ہائیکورٹ کاجج بنا اورپھرکنفرم ہوا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کا اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلا میں سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب


