1
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کا نام لے کر کسانوں کا استحصال نہیں کیا جا سکتا، 90 فیصد کسانوں کو جن کے پاس ساڑھے بارہ ایکڑ سے کم زمین ہے انہیں سہولیات اور بجلی پر سبسڈی دی جائے۔عدالتی معاملات میں آئی ایم ایف کو مداخلت کی اجازت دی تو ہمارے نظام میں داخل ہونے کی کوشش ہورہی ہے، شرم نہیں آتی یہ کہتے ہوئے کہ آئی ایم ایف نے ہنس کر بات کی۔
آئی ایم ایف کا نام لے کر کسانوں کا استحصال نہیں کیا جا سکتا، 90 فیصد کسانوں کو جن کے پاس ساڑھے بارہ ایکڑ سے کم زمین ہے انہیں سہولیات اور بجلی پر سبسڈی دی جائے،یواین پروگرام کے تحت کسانوں کو سہولت دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔کسانوں کے دھرنے سے خطاب
2
عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، سونے کی قیمت ایک بار پھر نئی بلند ترین سطح پر آگئی۔ اثاثوں کو ڈی ویلیوایشن سے محفوظ بنانے کی غرض سے سونے میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے رجحان سے عالمی سطح پر قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں غیریقینی صورتحال برقرار ہے۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت مزید 20ڈالر کے اضافے سے 2ہزار 933ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچنے سے مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی جمعہ کو 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 2ہزار 200روپے کے اضافے سے 3لاکھ 6ہزار 200روپے کی نئی تاریخ ساز سطح پر پہنچ گئی۔
اسی طرح فی دس گرام سونے کی قیمت بھی 1ہزار 886روپے کے اضافے سے 2لاکھ 62ہزار 517روپے کی نئی بلند ترین سطح پر آگئی۔
3
خیبرپختونخوا میں 16 ہزار اساتذہ بھرتی کا فیصلہ, نئی بھرتیاں معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے کی جارہی ہیں، صوبے میں نئی بھرتیوں سے نوجوانوں کو روزگار بھی فراہم ہوگا۔محکمہ تعلیم کے پی کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ اسامیوں کی تفصیلات محکمہ تعلیم کی ویب سائٹ پر جلد مشتہر کی جائیں گی جس کے ذریعے امیدوار اپلائی کرسکیں گے۔
4
سرکاری افسران کی ڈیوٹی کے بعد سرکاری گاڑیوں کے استعمال کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی۔ہائی کورٹ میں درخواست مفتی نور البصر نے سلمان شاہ ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سرکاری افسران کا ڈیوٹی اوقات کار کے بعد سرکاری گاڑیوں کا استعمال قومی خزانے پر بوجھ ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ سرکاری افسران ڈیوٹی اوقات کار کے بعد سرکاری گاڑیوں کو بے رحمانہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔ افسران سرکاری گاڑیوں کو پرائیویٹ تقاریب میں بھی استعمال کرتے ہیں۔عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ سرکاری گاڑیاں عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے خریدی جاتی ہیں۔ عوام کے ٹیکس کے پیسے کو ایسے بے دریغ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ سرکاری گاڑیوں کا غیر ضروری استعمال مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے۔
5
حکومت نے شرحِ مہنگائی کے تازہ اعداد و شمارجاری کیے ہیں، جس کے مطابق 13 اشیا کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر ملک میں مہنگائی کی شرح میں معمولی کمی ریکارڈ ہوئی ہے جب کہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی بڑھنے کی شرح 0.98 فیصد کی سطح پر آگئی اسی طرح ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.04 فیصد کی کمی ریکارڈ ہوئی۔
اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 13 اشیا مہنگی، 15 سستی جب کہ 23 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہفتے میں کیلے فی درجن 12 روپے 96 پیسے مہنگے ہوئے، اسی طرح چکن فی کلو 15 روپے 45 پیسے مہنگا ہوا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک ہفتے کے دوران انڈے فی درجن 5 روپے 85 پیسے مہنگے ہو گئے جب کہ گزشتہ ہفتے لہسن کی فی کلو قیمت میں 9 روپے 77 پیسے کا اضافہ ریکارڈ ہوا۔ اسی دورانیے میں چینی فی کلو ایک روپے 16 پیسے مزید مہنگی ہوئی۔
6
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں وسط فروری سے بڑی کمی متوقع ہے، انڈسٹری نے پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق ورکنگ اوگرا کو بجھوا دی۔قیمتوں میں کمی عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کے تناسب سے ہوگی۔انڈسٹری کی جانب سے بھیجی ورکنگ کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیل کی قیمت میں 9 روپے 11 پیسے تک کمی اور پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں ڈھائی روپے تک کمی کا امکان ہے۔
اسی طرح، مٹی کا تیل 3 روپے 45 پیسے اور لائٹ ڈیزل 5 روپے 60 پیسے تک سستا ہو سکتا ہے۔اوگرا عالمی مارکیٹ کے تناسب سے حتمی ورکنگ 15 فروری کو حکومت کو بھجوائے گا، وزیر اعظم شہباز شریف پیٹرولیم قیمتوں سے متعلق حتمی منظوری دیں گے۔
7
سیاسی جماعتوں کو پرامن جلسے منعقد کرانے کی اجازت سے متعلق قرارداد سینیٹ سے منظور,پی ٹی آئی کی جانب سے پیکا ایکٹ کے خلاف قرارداد پیش کرنے سے پہلے ہی وزیر قانون نے کورم کی نشاندہی کرکے اجلاس ملتوی کروا دیا۔سینٹ کا اجلاس سینیٹر شیری رحمان کی زیر صدارت شروع ہوا، سینیٹ میں مالیاتی بل اور انکم ٹیکس ترمیمی بل 2025 بھی پیش کیا گیا۔
بل پر تجاویز پیر تک طلب کر لی گئیں، دس دن میں فنانس کمیٹی تجاویز پر رپورٹ پیش کرے گی جبکہ بل سفارشات قومی اسمبلی بھجوائی جائیں گی۔تارکین وطن کی اسمگلنگ کی روک تھام سے متعلق ترمیمی بل 2025، روک تھام ٹریفیکنگ ان پرسنز ترمیمی بل 2025 اور ایمیگریشن آرڈنینس 1979 میں مزید ترمیم کا بل بھی منظور کیا گیا۔