اسلام آباد (ای پی آئی) پاکستان میں ایف بی آر سے اہم شخصیات کا ٹیکس ڈیٹا لیک کا معاملہ میں گرفتارنجی ٹی وی بول نیوزکے صحافی شاہد اسلم کو اسلام آباد کی عدالت میں پیش کردیا گیا ایف آئی اے نے اہم شخصیات کا ٹیکس ڈیٹا اور کمپیوٹر و موبائل کے پاسورڈ زکے لئے سات روزہ جسمانی مانگا جو دوروز کا دے دیا گیا.

کمرہ عدالت میں صحافیوں نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ صحافیوں سے خبر کے ذرائع نہ پوچھ سکنے کا فیصلہ دے چکی ہے اگر ایک بار ایسا ہوگیا تو پھر یہ پنڈورہ باکس کھل جائے گا اور لوگوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوجائیں گے صحافی شاہد اسلم نے کہا ان کو مار دیا جائے ہڈیاں توڑ دی جائیں الٹا لٹکا دیا جائے مگر وہ پاسورڈ نہیں دیں گے.

آزادی صحافت جرم بن گئی ایف بی آر سے اہم شخصیات کا ڈیٹا لیکس کرنے میں معاونت کے الزامات میں لاہور سے گرفتار بول نیوز کے صحافی شاہد اسلم کو ایف آئی اے نے اسلام آباد میں جوڈیشل میجسٹریٹ عمر شبیر کی عدالت میں پیش کردیا اور درخواست کی کہ ایف بی آر کے ایک ملازم راشد علی قریشی کو گرفتار کیا تو اس نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ٹیکس ڈیٹا شاہد علی کو دیا ہے اس کے پاس دیگر اہم شخصیات کا ٹیکس ڈیٹا بھی ہے وہ بھی برآمد کرنا ہے اور گرفتار ملزمان کے سامنے پیش کرکے تفتیش کرنی ہے جس کے لئے سات روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے .

ملزم کے وکیل گلباز مشتاق ایڈووکیٹ نے ایف آئی اے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ایف آئی اے کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے وہ محض ایک شخص کے بیان پر ایک صحافی کو نشانہ بنارہا ہے سول جج عمر شبیر نے ایف آئی اے سے سوال کیا کہ کیا انفارمیشن لینا خبر دینا صحافی کا کام نہیں ہے ؟ اس پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ دفاع سے متعلق معاملہ ہے یہ عام معاملہ نہیں ہے عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا اور پونے دو بجے فیصلہ سناتے ہوئے شاہد اسلم کا دوروزہ جسمانی ریمانڈ ایف آئی اے کو دے دیا.

عدالت میں آمد اور واپسی کے موقع پر صحافیوں کی بڑی تعداد شاہد اسلم کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے موجود تھی صحافیوں نے کمرہ عدالت میں موقف اختیار کیا کہ اگر ایک بار صحافی سے سورسز پوچھنے کا سلسلہ شروع ہوگیا تو پھر یہ رکے گا نہیں ،صحافی شاہد اسلم نے کہا کہ انہوں نے کسی کا کوئی ڈیٹا کسی کے حوالے نہیں کیا چونکہ انہوں نے شوگر سکینڈل میں ایف آئی اے کا کردار بے نقاب کیا تھا اس لئے انہیں نشانہ بنایا جارہا ہے

صحافی شاہد اسلم نے تصدیق کی کہ ایف آئی اے نے ان پر سختی کی ہےکہ کمپیوٹر کے پاسورڈ دیں مگر انہوں نے کہا کہ ان لاش پر بھی ایسا نہیں ہوسکتا بے شک ماردو ہڈیاں توڑدو الٹا لٹکا دو

پیشی کے موقع پر سینئر صحافیوں نے ایف آئی اے کے مکروہ کردار پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا اور سورسز پوچھنے اور پاسورڈ مانگنے کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی قرار دیا

عدالت نے صحافی شاہد اسلم کو دوبارہ سولہ جنوری کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے