1
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یونائیٹڈ نیشن فنڈ فار پاپولیشن ایکٹوٹیز (UNFPA) کے وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی ترقی اور عوام کی بہتری کو مد نظر رکھتے ہوئے این ایف سی ایوارڈ کا فارمولہ طے ہونا چاہئے۔
ملاقات میں این ایف سی ایوارڈ پر تبادلہ خیال، وسائل کی تقسیم اور اس کے اثرات پر گفتگو کی گئی، این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے اور ملکی ترقی میں کردار پر وزیراعلیٰ سندھ کو ڈی جی NUST ڈاکٹر اشفاق خان نے بریفنگ دی، نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایک آئینی ادارہ ہے جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا تعین کرتا ہے۔
2
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کو گرینڈ الائنس نہیں بنانے دیا گیا جس کی ذمے دار موجودہ قیادت ہے،موجودہ قیادت عمران خان کی رہائی میں مکمل ناکام ہو چکی ہے، عمران خان کی رہائی کیلیے ریلیز کمیٹی بناؤں گا۔ سلمان اکرم راجہ،وقاص اکرم اور رؤف حسن کی عمران خان سے ہمدردیاں نہیں ہیں، موجودہ قیادت عمران خان کی رہائی میں مکمل ناکام ہو چکی ہے، عمران خان کی رہائی کیلیے ریلیز کمیٹی بناؤں گا۔
سیاست دان اپنا بیانیہ عوام کے سامنے رکھتے ہیں یہی لیٹر میں لکھا گیا ہے، عمران خان اور تحریک انصاف کی قیادت پر ہونے والے ظلم کو ہی لیٹر کے ذریعے عیاں کیا جا رہا ہے،تین سال میں عمران خان کا سیاسی حل نکال لیتے تو ملکی حالات بہتر ہو جاتے۔ 33 فیصد ٹیکسٹائل ملز بند ہونے سے معیشت بیٹھ چکی ہے،امپورٹ پر پابندی کی وجہ سے ڈالر مستحکم نظر آ رہا ہے جبکہ ملک میں مکمل طور پر جعلی اکانومی چلائی جا رہی ہے۔
ملک میں سیاسی استحکام لانے کی واحد صورت عمران خان کی رہائی ہے،پی ٹی آئی کی تمام پرانی قیادت کو اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اورعمران خان ریلیز کمیٹی بنانے کےلیے رابطے شروع کر دیے ہیں، عمران خان کی رہائی کےلیے قانونی اور سیاسی جدوجہد کا آغاز کر رہیے ہیں۔
بانی پی ٹی آئی کو جیل میں 600 دن ہو چکے ہیں، موجودہ قیادت عمران خان کی رہائی میں مکمل ناکام ہو چکی ہے، بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے ریلیز کمیٹی بناؤں گا،عمران خان کے تمام کیسز ایک بار پھر ملتوی کر دیے گئے ہیں،قبل ازیں کیسز ملتوی ہونے پر عمران خان کو بیس دن ڈیتھ سیل میں رکھا گیا تھا۔ بانی پی ٹی آئی کو بدترین قیدے تنہائی کا سامنا کرنا پڑا تھا،ایک بار پھر کیسز ملتوی کرکے وکلا اور فیملی سے ان کی ملاقاتیں بند کر دی گئی ہیں،ہمیں ڈر ہے کہ عمران خان کو بدترین انتقام کا نشانہ بنایا جائے گا۔
3
طالبان حکومت کا وفد پہلے سفارتی دورے پر جاپان پہنچ گیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان کے وفد میں وزارتِ خارجہ، وزارتِ اعلیٰ تعلیم، وزارتِ معیشت اور وزارتِ صحت کے حکام شامل ہیں۔طالبان وفد ایک ہفتہ تک جاپان میں قیام کرے گا۔
یہ نادر دورہ طالبان کی عالمی برادری سے تعلقات بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔طالبان نے حالیہ برسوں میں چین، روس اور وسطی ایشیا کے ممالک جیسے ہمسایہ ممالک کا دورہ کیا ہے لیکن سفارتی سطح پر رابطہ ہمشہ کسی تیسرے ملک میں ہوا ہے۔
افغانستان کے وزارتِ معیشت کے نائب وزیر، لطیف نظری نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ یہ دورہ عالمی سطح پر باوقار تعلقات قائم کرنے اور افغانستان کو "مضبوط، متحد، ترقی یافتہ اور خوشحال” ملک بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔انہوں اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ طالبان حکومت عالمی برادری کا ایک فعال رکن کی حیثیت سے کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔
4
ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا بل سینیٹ سے منظور،قائم مقام چئیرمین سیدال خان کی صدارت میں سینیٹ اجلاس شروع ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر دینیش کمار نے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا بل پیش کیا جس کی اپوزیشن نے مخالفت کی۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ قومی اسمبلی سے بل منظور ہوچکا ہے سیاست نہ کریں، جو لوگ اضافی تنخواہ نہیں لینا چاہتے وہ لکھ کر دے دیں، جو لوگ اضافی تنخواہ نہیں لینا چاہتے وہ سیکرٹریٹ کو نام دے دیں۔دنیش کمار نے کہا کہ مخالفت کرنے والے پی ٹی آئی ارکان نے دستخط کیے ہوئے ہیں۔اپوزیشن نے نکتہ اعتراض پر فلور دینے کا مطالبہ کیا اور شور شرابہ شور کردیا۔
اس پر قائم مقام چئیرمین سینیٹ نے کہا کہ آپ لوگ پھنس گئے ہیں گھبرانا نہیں ہیں۔قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے نکتہ اعتراض پر بات کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا اور کہا کہ قانون سازی کے دوران نکتہ اعتراض نہیں مل سکتا،اس طرح شور شرابے سے کچھ نہیں ہوگا۔
بلوچستان میں 10 مزدور وفات پاگئے ہیں، ان تمام مزدوروں کا تعلق شانگلہ سے تھا، ان کے ساتھ سیکیورٹی فورسز کے شہداء کےلیے بھی دعا مغفرت کرائیں۔ اس پر سینیٹ میں 10 مزدوروں اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی شہادت پر دعائے مغفرت کرائی گئی۔
5
بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کو جیل حکام کے رحم و کرم پر تنہا چھوڑنا ٹھیک نہیں۔ کورٹ آرڈر اور پاوور آف اٹارنیز جیل انتظامیہ کو بھجوائے ہیں۔ جو انڈر ٹرائل قیدی ہیں، ان تک وکلا کی رسائی نہیں روکی جا سکتی۔ گزشتہ اکتوبر میں بھی ملاقاتوں پر پابندی عائد رہی،جس پر مجھے ایسی صورتحال میں عدالت میں درخواست دائر کرنے کی ہدایت کی گئی تھی ۔ جس طرح آج کیس کی سماعت لمبی ملتوی کی گئی اس پر شاکی ہوں ۔
جج صاحب کی چھٹی کے باعث اتنے اہم کیس کی سماعت 26اور 27فروری تک ملتوی کر دی گئی ۔ اتنے دن تک بانی پی ٹی آئی کی وکلا اور فیملی سے ملاقات روکنا باعث تشویش ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بانی سے ملاقات ہو تاکہ پی ٹی آئی کارکنان کو ان کی صحت و زندگی کےبارے میں بتائیں کہ وہ ٹھیک ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو تنہا جیل اتھارٹیز کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا ۔اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت
6
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرعمرایوب نے کہا ہے کہ عدلیہ کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہیے، عدلیہ کو کہنا چاہیے کہ بس اب بہت ہوگیا، انسداد دہشتگری عدالت کے ججوں کو کھڑے ہونا ہوگا۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان، سینیٹر شبلی فرازاور سلمان اکرم راجا نے خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج تین ایشو پر عوام سے بات کرنا چاہیں گے، ایک سال پورا ہونے کو آیا، پی ٹی آئی کو عوام نے مینڈیٹ دیا تھا، نیشنل اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پاس 180 سیٹیں آئی تھیں، پنجاب میں بھی اکثریت تھی۔ کوئی بھی انسان ہو، وہ یہ جانتا ہے کہ 2024 کے الیکشن ریگڈ تھے، ہم نے کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تھا، نہ کمیشن بنا نہ عدلیہ نے نوٹس لیا، ہماری 74 پیٹیشن میں سے کوئی ایک بھی آگے نہ بڑھ سکی۔
اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور بشری بی بی تک رسائی بند کردی گئی ہے، توشہ خانہ ٹو کیس میں سماعت عجیب طریقے سے ملتوی کی گئی، عدلیہ کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہیے، عدلیہ کو کہنا چاہیے کہ بس اب بہت ہوگیا، انسداد دہشتگری عدالت کے ججوں کو کھڑے ہونا ہوگا۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جو ملک کو جوڑ سکتے تھے انہیں توڑا گیا، 8 فروری کو درندگی کی گئی، پٹن نے ہوشربا رپورٹ جاری کی، سوچ ٹی وی نے الیکشن 2024 سے متعلق شاندار ڈاکیومنٹری بنائی ہے۔
7
پاکستان کے کاروباری اداروں کا ملک میں کاروباری مواقع سے متعلق اعتماد بحال ہورہا ہے لیکن اس کے باوجود کاروباری طبقے کی اکثریت نے ملک کی سمت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تازہ ترین سروے کے مطابق کاروباری اداروں کا یہ تاثر ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتاہے۔
گیلپ پاکستان کی بزنس کانفیڈنس انڈیکس 2024کی چوتھی سہ ماہی کی رپورٹ میں 55فیصد کاروباری اداروں کے مطابق ان کے کاروبار اس وقت اچھے یا بہت اچھے چل رہے ہیں۔ سال 2024 کی چوتھی سہ ماہی میں تقریباً 6ماہ قبل کیے گئے سروے کے مقابلے میں کاروباری اداروں کے تاثرات میں 10فیصد بہتری آئی ہے۔
سروے رپورٹ کے مطابق خراب ترین کاروباری حالات کا تاثر دینے والے کاروباری اداروں کی تعداد میں 7فیصد کمی آئی ہے۔ موجودہ کاروباری صورتحال کی درجہ بندی کے وقت خدمات اور تجارت کے شعبوں کے مقابلے میں مینو فیکچرنگ سیکٹر کا کم اعتماد بحال ہوا ہے جب کہ مستقبل کے بارے میں کاروباری ادارے زیادہ پُرامید ہیں اور اعتماد کے اسکور میں گزشتہ 6ماہ کے مقابلے میں 19فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
چوتھی سہ ماہی میں 60فیصد کاروباری اداروں نے مستقبل کے بارے میں مثبت توقعات کاا ظہار کیا ہے جب کہ 40فیصد کاروباری اداروں نے مستقبل کے بارے میں کاروباری حالات مزید خراب ہونے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ چوتھی سہ ماہی میں دوسری سہ ماہی کے مقابلے میں نیٹ بزنس کانفیڈنس میں 36فیصد اضافہ ہوا ہے۔
سروے میں 41 فیصد کاروباری اداروں کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت نے معیشت کو بہتر طور پر سنبھالا ہے جب کہ 38فیصد شرکا نے سابق وزیرِاعظم عمران خان کی حکومت کو بہتر منیجر قراردیا۔ اسی طرح 21فیصد شرکا کے مطابق دونوں حکومتوں کی کارکردگی میں کوئی فرق نہیں۔
سروے رپورٹ کے مطابق مہنگائی میں کمی، معاشی استحکام اور شرح سود میں کمی کاروباری مایوسی میں بڑی کمی کی اہم وجوہات ہیں۔ گیلپ رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند سہ ماہیوں کا رجحان مسلسل منفی رہا تاہم موجودہ سہ ماہی میں کچھ بہتری آئی ہے۔
8
سونے کی قیمتیں عالمی اور مقامی سطح پر ایک بار پھر بڑھ گئیں۔سرمایہ کاروں کی جانب سے سونے کی خریداری سے متعلق سرگرمیاں برقرار رہنے سے بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 17ڈالر کے اضافے سے 2ہزار 900ڈالر کی سطح پر آ گئی۔
اسی طرح مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی پیر کے روز سونے کی قیمتوں میں اضافے کا رحجان غاب رہا، جس سے 24قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت ایک ہزار 700روپے کے اضافے سے 3لاکھ 3ہزار 200روپے کی سطح پر آگئی اور فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی ایک ہزار 458روپے کے اضافے سے 2لاکھ 59ہزار 945روپے کی سطح پر آگئی ہے۔


